<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 00:57:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 13 Jun 2026 00:57:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے اہم نکات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287445/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومتِ پاکستان نے جمعہ کو مالی سال 2026-27 کے لیے 18.771 کھرب روپے کا بجٹ پیش کردیا جس میں 4 فیصد شرحِ نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ ملک کے معاشی کیلنڈر میں مرکزی حیثیت اختیار کرتا ہے اور آئندہ مالی سال کے لیے مالی ترجیحات، پالیسی سمت اور معاشی توقعات کا تعین کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس اصلاحات، ترقیاتی اخراجات، مہنگائی کے انتظام اور شرحِ نمو کے اہداف سے لے کر یہ بجٹ اس امر کا خاکہ پیش کرتا ہے کہ حکومت مالی سال 2027 کے دوران ایک مشکل معاشی ماحول میں مختلف تقاضوں کے درمیان کس طرح توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;مجموعی بجٹ کا حجم 18.77 کھرب روپے رکھا گیا ہے جو مالی سال 2026 کے 17.57 کھرب روپے کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;متوقع مہنگائی 8.2 فیصد رکھی گئی ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ریونیو ہدف 15.26 کھرب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے 14.13 کھرب روپے کے مقابلے میں 8 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;نان ٹیکس آمدن 5.336 کھرب روپے متوقع ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1 کھرب روپے مختص کیے گئے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کم از کم اجرت بڑھا کر 40,700 روپے کردی گئی جو مالی سال 2026 کے 37,000 روپے کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سود کی ادائیگی کے لیے 8.054 کھرب روپے مختص کیے گئے جو مالی سال 2026 کے نظرثانی شدہ 6.937 کھرب روپے کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پنشن کی مد میں 1.169 کھرب روپے رکھے گئے جو گزشتہ سال کے 1.055 کھرب روپے کے مقابلے میں 11 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;دفاعی امور اور خدمات کے لیے 3 کھرب روپے مختص کیے گئے  جو نظرثانی شدہ مالی سال 2026 کے 2.6 کھرب روپے کے مقابلے میں 15.6 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;برآمدی آمدن پر 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج ختم کر دیا گیا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;مالی خسارہ جی ڈی پی کے 3.6 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر رکھا گیا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;وزیرِ اعظم اپنا گھر پروگرام کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے گئے ۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے رکھے گئے ۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت صحت کے منصوبوں کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;تعلیم کے لیے 46 ارب روپے رکھے گئے ۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;گورننس کے لیے 13 ارب روپے مختص کیے گئے ۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کردیا گیا ۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس میں 2 فیصد کمی کی گئی تاہم بینکوں، فرٹیلائزر اور تیل و گیس کی دریافت و پیداوار (ای اینڈ پی ایز) کے شعبے اس میں شامل نہیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کردیا گیا۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بین الاقوامی لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کردیا گیا ۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور کم از کم ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کردیا گیا۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ریٹیلرز کے لیے آسان ٹیکس اسکیم متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والے ریٹیلرز کم از کم 25,000 روپے سالانہ یا فروخت کا 1 فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;2000 سے 3000 سی سی تک کی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کی گئی۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پیٹرولیم بیسڈ سالونٹس، نیفتھا اور ٹرپینٹائن آئل پر 80 روپے فی لیٹر ایف ای ڈی نافذ کر دی گئی ہے جو پہلے مستثنیٰ تھے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ای سگریٹس کے لیے ای-لیکوڈ پر ایف ای ڈی 10,000 روپے سے بڑھا کر 16,500 روپے فی کلوگرام کر دی گئی جبکہ 65 فیصد ریٹیل پرائس کیپ ختم کر دی گئی ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ڈسٹری بیوٹرز اور ہول سیلرز کے لیے کم از کم ٹیکس ریٹ 0.25 فیصد سے بڑھا کر 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;انکم ٹیکس میں کمی:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;23 فیصد سے 20 فیصد: 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;30 فیصد سے 25 فیصد: 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;35 فیصد سے 29 فیصد: 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے آمدن&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;35 فیصد سے 32 فیصد: 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے آمدن&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;12 ملین روپے سے زائد آمدن پر سرچارج ختم کر دیا گیا ہے&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومتِ پاکستان نے جمعہ کو مالی سال 2026-27 کے لیے 18.771 کھرب روپے کا بجٹ پیش کردیا جس میں 4 فیصد شرحِ نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی بجٹ ملک کے معاشی کیلنڈر میں مرکزی حیثیت اختیار کرتا ہے اور آئندہ مالی سال کے لیے مالی ترجیحات، پالیسی سمت اور معاشی توقعات کا تعین کرتا ہے۔</p>
<p>ٹیکس اصلاحات، ترقیاتی اخراجات، مہنگائی کے انتظام اور شرحِ نمو کے اہداف سے لے کر یہ بجٹ اس امر کا خاکہ پیش کرتا ہے کہ حکومت مالی سال 2027 کے دوران ایک مشکل معاشی ماحول میں مختلف تقاضوں کے درمیان کس طرح توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے:</p>
<ul>
<li>مجموعی بجٹ کا حجم 18.77 کھرب روپے رکھا گیا ہے جو مالی سال 2026 کے 17.57 کھرب روپے کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔</li>
<li>شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔</li>
<li>متوقع مہنگائی 8.2 فیصد رکھی گئی ہے۔</li>
<li>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ریونیو ہدف 15.26 کھرب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے 14.13 کھرب روپے کے مقابلے میں 8 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔</li>
<li>نان ٹیکس آمدن 5.336 کھرب روپے متوقع ہے۔</li>
<li>پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1 کھرب روپے مختص کیے گئے۔</li>
<li>کم از کم اجرت بڑھا کر 40,700 روپے کردی گئی جو مالی سال 2026 کے 37,000 روپے کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہے۔</li>
<li>سود کی ادائیگی کے لیے 8.054 کھرب روپے مختص کیے گئے جو مالی سال 2026 کے نظرثانی شدہ 6.937 کھرب روپے کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ہے۔</li>
<li>پنشن کی مد میں 1.169 کھرب روپے رکھے گئے جو گزشتہ سال کے 1.055 کھرب روپے کے مقابلے میں 11 فیصد اضافہ ہے۔</li>
<li>سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا۔</li>
<li>دفاعی امور اور خدمات کے لیے 3 کھرب روپے مختص کیے گئے  جو نظرثانی شدہ مالی سال 2026 کے 2.6 کھرب روپے کے مقابلے میں 15.6 فیصد اضافہ ہے۔</li>
<li>برآمدی آمدن پر 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج ختم کر دیا گیا ہے۔</li>
<li>مالی خسارہ جی ڈی پی کے 3.6 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف ہے۔</li>
<li>پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر رکھا گیا ہے۔</li>
<li>وزیرِ اعظم اپنا گھر پروگرام کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے گئے ۔</li>
<li>بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے رکھے گئے ۔</li>
<li>وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت صحت کے منصوبوں کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے۔</li>
<li>تعلیم کے لیے 46 ارب روپے رکھے گئے ۔</li>
<li>گورننس کے لیے 13 ارب روپے مختص کیے گئے ۔</li>
<li>تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کردیا گیا ۔</li>
<li>50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس میں 2 فیصد کمی کی گئی تاہم بینکوں، فرٹیلائزر اور تیل و گیس کی دریافت و پیداوار (ای اینڈ پی ایز) کے شعبے اس میں شامل نہیں۔</li>
<li>جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کردیا گیا۔</li>
<li>کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بین الاقوامی لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کردیا گیا ۔</li>
<li>برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور کم از کم ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کردیا گیا۔</li>
<li>ریٹیلرز کے لیے آسان ٹیکس اسکیم متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والے ریٹیلرز کم از کم 25,000 روپے سالانہ یا فروخت کا 1 فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔</li>
<li>2000 سے 3000 سی سی تک کی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کی گئی۔</li>
<li>پیٹرولیم بیسڈ سالونٹس، نیفتھا اور ٹرپینٹائن آئل پر 80 روپے فی لیٹر ایف ای ڈی نافذ کر دی گئی ہے جو پہلے مستثنیٰ تھے۔</li>
<li>ای سگریٹس کے لیے ای-لیکوڈ پر ایف ای ڈی 10,000 روپے سے بڑھا کر 16,500 روپے فی کلوگرام کر دی گئی جبکہ 65 فیصد ریٹیل پرائس کیپ ختم کر دی گئی ہے۔</li>
<li>ڈسٹری بیوٹرز اور ہول سیلرز کے لیے کم از کم ٹیکس ریٹ 0.25 فیصد سے بڑھا کر 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔</li>
</ul>
<p>انکم ٹیکس میں کمی:</p>
<ul>
<li>23 فیصد سے 20 فیصد: 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن</li>
<li>30 فیصد سے 25 فیصد: 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن</li>
<li>35 فیصد سے 29 فیصد: 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے آمدن</li>
<li>35 فیصد سے 32 فیصد: 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے آمدن</li>
<li>12 ملین روپے سے زائد آمدن پر سرچارج ختم کر دیا گیا ہے</li>
</ul>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287445</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 23:44:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/12221404bb80d88.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/12221404bb80d88.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
