<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 18:32:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 18:32:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دیکھیے: بجٹ 27-2026 میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی کیا توقعات ہیں؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287425/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رواں ہفتے کے اوائل میں منعقد ہونے والے بزنس ریکارڈر فورم میں ٹیکسٹائل سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی جن میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد اور نشاط چونیاں گروپ کے چیئرمین شہزاد سلیم شامل تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ نے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا اور فکسڈ ٹیکس نظام کے بجائے نارمل ٹیکس نظام کی حمایت کی اور ایک ایسے  منصفانہ اور شفاف ٹیکس ڈھانچے کا مطالبہ کیا جو حقیقی آمدنی کی سطح کی درست عکاسی کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم نے اس نتیجے پر اتفاق کیا کہ اگر پاکستان کے برآمدی شعبے کو بحال اور ترقی کرنا ہے تو ٹیکس بوجھ کم کرنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رواں ہفتے کے اوائل میں منعقد ہونے والے بزنس ریکارڈر فورم میں ٹیکسٹائل سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی جن میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد اور نشاط چونیاں گروپ کے چیئرمین شہزاد سلیم شامل تھے۔</strong></p>
<p>گروپ نے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا اور فکسڈ ٹیکس نظام کے بجائے نارمل ٹیکس نظام کی حمایت کی اور ایک ایسے  منصفانہ اور شفاف ٹیکس ڈھانچے کا مطالبہ کیا جو حقیقی آمدنی کی سطح کی درست عکاسی کرسکے۔</p>
<p>فورم نے اس نتیجے پر اتفاق کیا کہ اگر پاکستان کے برآمدی شعبے کو بحال اور ترقی کرنا ہے تو ٹیکس بوجھ کم کرنا ناگزیر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287425</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 15:40:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/anwqK7RX00Q/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/anwqK7RX00Q/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=anwqK7RX00Q"/>
        <media:title>What does textile industry want from budget?</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
