<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 12:33:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 12:33:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ، اسٹیشنری اور سولر پینلز پر ٹیکس کی شرح برقرار رکھنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287360/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں اسٹاک مارکیٹ، اسٹیشنری اشیاء اور سولر پینلز پر ٹیکسوں کی موجودہ شرح برقرار رکھنے کا امکان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے۔ اسی طرح اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز بھی آئندہ بجٹ میں شامل نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک مارکیٹ سے متعلق ٹیکسوں میں بھی یکم جولائی 2026 سے کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، اور موجودہ شرح برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں کمی کی تجویز ابھی حتمی طور پر منظور نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنخواہ دار طبقے کے لیے سب سے زیادہ انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافہ کیا جائے گا، تاہم اعلیٰ آمدنی والے افراد پر عائد سرچارج یا جرمانہ ختم کرنے کی تجویز بجٹ میں شامل ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مزید بتایا کہ برآمدات پر ایک فیصد ٹیکس ختم کیے جانے کا امکان ہے، جو آئندہ بجٹ میں ایک پیکیج کے تحت اعلان کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم (این ٹی آر) میں شامل کیا گیا تھا، جس کے تحت ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس ختم کر کے برآمدی آمدنی پر کم از کم 2 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تھا، جس میں ایک فیصد منی کم ٹیکس اور ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے جو برآمدی رقوم کی وصولی پر منہا کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم کو اختیاری طور پر بحال کیا جائے اور ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس دوبارہ نافذ کیا جائے، جبکہ سیلز ٹیکس ری فنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ نارمل ٹیکس رجیم میں رہنے والوں کو ایف بی آر کی غیر ضروری کارروائیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں اسٹاک مارکیٹ، اسٹیشنری اشیاء اور سولر پینلز پر ٹیکسوں کی موجودہ شرح برقرار رکھنے کا امکان ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے۔ اسی طرح اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز بھی آئندہ بجٹ میں شامل نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>اسٹاک مارکیٹ سے متعلق ٹیکسوں میں بھی یکم جولائی 2026 سے کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، اور موجودہ شرح برقرار رہے گی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں کمی کی تجویز ابھی حتمی طور پر منظور نہیں کی گئی۔</p>
<p>تنخواہ دار طبقے کے لیے سب سے زیادہ انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافہ کیا جائے گا، تاہم اعلیٰ آمدنی والے افراد پر عائد سرچارج یا جرمانہ ختم کرنے کی تجویز بجٹ میں شامل ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>ذرائع نے مزید بتایا کہ برآمدات پر ایک فیصد ٹیکس ختم کیے جانے کا امکان ہے، جو آئندہ بجٹ میں ایک پیکیج کے تحت اعلان کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم (این ٹی آر) میں شامل کیا گیا تھا، جس کے تحت ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس ختم کر کے برآمدی آمدنی پر کم از کم 2 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تھا، جس میں ایک فیصد منی کم ٹیکس اور ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے جو برآمدی رقوم کی وصولی پر منہا کیا جاتا ہے۔</p>
<p>صنعتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم کو اختیاری طور پر بحال کیا جائے اور ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس دوبارہ نافذ کیا جائے، جبکہ سیلز ٹیکس ری فنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔</p>
<p>برآمد کنندگان نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ نارمل ٹیکس رجیم میں رہنے والوں کو ایف بی آر کی غیر ضروری کارروائیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287360</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 09:40:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/110938150b76685.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/110938150b76685.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
