<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 20:10:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 20:10:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے ٹیکسٹائل اور اسٹیل کے شعبوں میں اضافی پیداواری صلاحیت سے متعلق امریکی الزام کو مسترد کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287344/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی تجارتی عہدیدار امیتابھ کمار نے بدھ کو امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے پاس ٹیکسٹائل اور اسٹیل کے شعبوں میں کوئی اضافی پیداواری صلاحیت موجود نہیں، جیسا کہ امریکی تجارتی نمائندے ( یو ایس ٹی آر) کی سیکشن 301 تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن نے بھارتی صنعتوں میں ساختی نوعیت کی اضافی پیداواری صلاحیت کا حوالہ دیا ہے، جن میں شمسی ماڈیولز اور پیٹرو کیمیکلز سے لے کر اسٹیل اور ٹیکسٹائل تک کے شعبے شامل ہیں، ساتھ ہی 2025 میں امریکہ کے ساتھ بھارت کے 42 ارب ڈالر کے اشیا کے تجارتی سرپلس کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے اضافی سیکرٹری تجارت کمار نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور اسٹیل کی پیداوار کا جائزہ ملک کی آبادی کے حجم، اندرونی طلب اور ترقیاتی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ محض مجموعی پیداوار کی بنیاد پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”اضافی پیداواری صلاحیت ایک ملک کے نقطۂ نظر کا معاملہ ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ہمارے پاس کسی بھی شعبے میں کوئی اضافی صلاحیت موجود ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیتابھ کمار نے مزید کہا کہ بھارت میں فی کس ٹیکسٹائل مصنوعات کی کھپت بہت کم ہے، خاص طور پر مصنوعی فائبر اور تکنیکی مصنوعات کے حوالے سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”یہ ملک گرم اور خطِ استوا کے قریب واقع ہے۔ ہم زیادہ تر سوتی کپڑے پہنتے ہیں۔ تو پھر ہمارے پاس اضافی پیداواری صلاحیت کیسے ہو سکتی ہے؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمار نے اسٹیل کے حوالے سے امریکی خدشات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی پیداوار اس کی ترقیاتی ضروریات کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”بھارت میں فی کس اسٹیل کی کھپت دنیا میں سب سے کم سطحوں میں شامل ہے“، اور مزید وضاحت کی کہ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے تعمیراتی مواد کے پروڈیوسر کے طور پر بھی بھارت کی پیداوار اس کی آبادی اور ترقیاتی ضروریات کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مبینہ اضافی پیداواری صلاحیت اور جبری مشقت کے الزامات پر سیکشن 301 کے تحت ٹیرف کی دھمکی کو استعمال کرتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ وہ اپنی منڈیاں زرعی اور دیگر مصنوعات کے لیے کھولے، اور ساتھ ہی امریکی توانائی اور دفاعی مصنوعات کی زیادہ خریداری کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی امریکہ کے ساتھ ایک ایسے تجارتی معاہدے کے لیے کوشاں ہے جس میں حریف ممالک کے مقابلے میں ترجیحی ٹیرف شامل ہوں، تاہم یہ مذاکرات امریکی تحقیقات کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی تجارتی نمائندے ( یو ایس ٹی آر) کے دفتر نے مارچ میں بھارت سمیت 16 ممالک کے خلاف ان پالیسیوں پر تحقیقات شروع کی تھیں جن میں سبسڈیز، ریاستی مالی معاونت اور صنعتی منصوبہ بندی شامل ہیں، جن کے باعث فیکٹریاں مارکیٹ کی طلب کے بغیر بھی پیداوار جاری رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماہ امریکہ نے بھارت سمیت دیگر ممالک کی درآمدات پر اضافی 12.5 فیصد ٹیرف کی تجویز دی ہے، جس کی وجہ جبری مشقت کے استعمال کے الزامات کو بتایا گیا ہے۔ تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حتمی نہیں ہیں کیونکہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان سیکشن 301 کے تحت بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو ایس ٹی آر بھارت پر ایک علیحدہ ٹیرف پر بھی غور کر رہا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل سمیت بعض شعبوں میں اضافی پیداواری صلاحیت امریکی صنعت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمار نے کہا کہ یہ اقدام بظاہر ”ایک مخصوص ملک کو ہدف بنانے“ کے ساتھ ساتھ دیگر تجارتی مقاصد بھی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے تجارتی وزیر پیوش گوئل نے کہا تھا کہ دونوں فریق پہلے مرحلے کے تجارتی معاہدے کو تیزی سے حتمی شکل دینے کی سمت بڑھ رہے ہیں، ممکنہ طور پر جولائی کے وسط تک۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی تجارتی عہدیدار امیتابھ کمار نے بدھ کو امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے پاس ٹیکسٹائل اور اسٹیل کے شعبوں میں کوئی اضافی پیداواری صلاحیت موجود نہیں، جیسا کہ امریکی تجارتی نمائندے ( یو ایس ٹی آر) کی سیکشن 301 تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>واشنگٹن نے بھارتی صنعتوں میں ساختی نوعیت کی اضافی پیداواری صلاحیت کا حوالہ دیا ہے، جن میں شمسی ماڈیولز اور پیٹرو کیمیکلز سے لے کر اسٹیل اور ٹیکسٹائل تک کے شعبے شامل ہیں، ساتھ ہی 2025 میں امریکہ کے ساتھ بھارت کے 42 ارب ڈالر کے اشیا کے تجارتی سرپلس کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔</p>
<p>بھارت کے اضافی سیکرٹری تجارت کمار نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور اسٹیل کی پیداوار کا جائزہ ملک کی آبادی کے حجم، اندرونی طلب اور ترقیاتی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ محض مجموعی پیداوار کی بنیاد پر۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”اضافی پیداواری صلاحیت ایک ملک کے نقطۂ نظر کا معاملہ ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ہمارے پاس کسی بھی شعبے میں کوئی اضافی صلاحیت موجود ہے۔“</p>
<p>امیتابھ کمار نے مزید کہا کہ بھارت میں فی کس ٹیکسٹائل مصنوعات کی کھپت بہت کم ہے، خاص طور پر مصنوعی فائبر اور تکنیکی مصنوعات کے حوالے سے۔</p>
<p>”یہ ملک گرم اور خطِ استوا کے قریب واقع ہے۔ ہم زیادہ تر سوتی کپڑے پہنتے ہیں۔ تو پھر ہمارے پاس اضافی پیداواری صلاحیت کیسے ہو سکتی ہے؟“</p>
<p>کمار نے اسٹیل کے حوالے سے امریکی خدشات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی پیداوار اس کی ترقیاتی ضروریات کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”بھارت میں فی کس اسٹیل کی کھپت دنیا میں سب سے کم سطحوں میں شامل ہے“، اور مزید وضاحت کی کہ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے تعمیراتی مواد کے پروڈیوسر کے طور پر بھی بھارت کی پیداوار اس کی آبادی اور ترقیاتی ضروریات کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔</p>
<p>تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مبینہ اضافی پیداواری صلاحیت اور جبری مشقت کے الزامات پر سیکشن 301 کے تحت ٹیرف کی دھمکی کو استعمال کرتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ وہ اپنی منڈیاں زرعی اور دیگر مصنوعات کے لیے کھولے، اور ساتھ ہی امریکی توانائی اور دفاعی مصنوعات کی زیادہ خریداری کرے۔</p>
<p>نئی دہلی امریکہ کے ساتھ ایک ایسے تجارتی معاہدے کے لیے کوشاں ہے جس میں حریف ممالک کے مقابلے میں ترجیحی ٹیرف شامل ہوں، تاہم یہ مذاکرات امریکی تحقیقات کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔</p>
<p>امریکی تجارتی نمائندے ( یو ایس ٹی آر) کے دفتر نے مارچ میں بھارت سمیت 16 ممالک کے خلاف ان پالیسیوں پر تحقیقات شروع کی تھیں جن میں سبسڈیز، ریاستی مالی معاونت اور صنعتی منصوبہ بندی شامل ہیں، جن کے باعث فیکٹریاں مارکیٹ کی طلب کے بغیر بھی پیداوار جاری رکھتی ہیں۔</p>
<p>اس ماہ امریکہ نے بھارت سمیت دیگر ممالک کی درآمدات پر اضافی 12.5 فیصد ٹیرف کی تجویز دی ہے، جس کی وجہ جبری مشقت کے استعمال کے الزامات کو بتایا گیا ہے۔ تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حتمی نہیں ہیں کیونکہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان سیکشن 301 کے تحت بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>یو ایس ٹی آر بھارت پر ایک علیحدہ ٹیرف پر بھی غور کر رہا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل سمیت بعض شعبوں میں اضافی پیداواری صلاحیت امریکی صنعت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔</p>
<p>کمار نے کہا کہ یہ اقدام بظاہر ”ایک مخصوص ملک کو ہدف بنانے“ کے ساتھ ساتھ دیگر تجارتی مقاصد بھی رکھتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے تجارتی وزیر پیوش گوئل نے کہا تھا کہ دونوں فریق پہلے مرحلے کے تجارتی معاہدے کو تیزی سے حتمی شکل دینے کی سمت بڑھ رہے ہیں، ممکنہ طور پر جولائی کے وسط تک۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287344</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 18:05:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/101729385361ff2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/101729385361ff2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
