<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 15:42:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 15:42:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ میں تاخیر، بجٹ سے انکار؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287326/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگرچہ تکنیکی طور پر پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کیے جانے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ہے کیونکہ رولز آف بزنس کے تحت دو ہفتوں کی بحث کی گنجائش فراہم کرنے کے لیے 16 جون بجٹ پیش کرنے کا آخری دن ہے، تاہم اس کے باوجود حکومت کے اتحادیوں کے درمیان اس بار پیدا ہونے والا تنازع غیر معمولی نوعیت کا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ حکومت کی وہ تجاویز ہیں جو آئین کی خلاف ورزی کرتی ہیں: جس کے تحت صوبوں کے یویزبل پول کے حصے میں سے 1 سے 1.2 ٹریلین روپے اسٹریٹجک اخراجات (جس کی وضاحت نہیں کی گئی) اور وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کیلئے اپنے پاس رکھنے کی اجازت مانگی گئی ہے (جبکہ آئین اس بات کا پابند کرتا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ پچھلے ایوارڈ کے حصے سے کم نہیں ہوسکتا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی جس کی نمائندگی پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر زرداری کر رہے ہیں اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیویزبل پول ٹیکسز سے اضافی 1.2 ٹریلین روپے کے مطالبے پر غور اور اسے حل کرنے کیلئے تکنیکی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پسِ منظر میں ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کا ارادہ ایک ایسی موزوں آئینی ترمیم پاس کرانے کا تھا جو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں صوبائی حصے کی کمی (رورسٹر) کی اجازت دے سکے لیکن حکومت پارلیمنٹ میں اس تجویز کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات اب بھی مبہم ہے کہ آیا حکومت نے اس مخصوص اقدام سے متعلق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے حالیہ مشن کو آگاہ کیا تھا یا نہیں جو 20 مئی کو اختتام پذیر ہوا اور جس کی توجہ حالیہ معاشی پیشرفت، اصلاحات کے نفاذ اور مالی سال 2027 کے لیے بجٹ حکمتِ عملی پر مرکوز تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آئی ایم ایف کے لیے یہ بات تشویش کا باعث بننے کا امکان نہیں ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے ریونیو شیئرنگ کی نظرِ ثانی کی وکالت کرتا آیا ہے (خاص طور پر 2010 میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد جس نے قابلِ تقسیم پول میں صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد مقرر کرنے کی اجازت دی تھی)۔ معاملہ کچھ بھی ہو بجٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو فنڈ کے ساتھ شیئر کرنا لازمی ہوگا اور جیسا کہ ماضی کے تین آئی ایم ایف پروگراموں میں واضح طور پر دیکھا گیا ہے، بشمول 2019 کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (اہ اہف اہف) پروگرام، 2023 کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) اور موجودہ 2024 کا ای ایف ایف پہلے سے طے شدہ سخت اور فوری شرائط سے ذرا سی بھی انحراف خود بخود اگلے اسٹاف لیول معاہدے میں تاخیر کا سبب بنے گی جو کہ قسط کے اجرا کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ تاخیر حکومت کو دو دوست ممالک سے مزید ایک سال کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر کے رول اوورز حاصل کرنے سے بھی روک سکتی ہے، یہ وہ رقم ہے جو اسٹیٹ بینک  کے پاس غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کے طور پر رکھی گئی ہے جو نہ صرف امپورٹ کور فراہم کرتی ہے بلکہ سب سے اہم بات یہ کہ روپے اور ڈالر کی قدر کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریونیو کو اپنے پاس رکھنے کا یہ فیصلہ اس صوبائی سرپلس کے علاوہ ہوگا جس پر مبینہ طور پر تمام صوبوں نے اگلے مالی سال کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ جو لوگ یہ تجویز دے رہے ہیں کہ وفاقی حکومت کے 1.2 ٹریلین روپے کے اس اضافی مطالبے کو صوبے اپنے سرپلس میں اضافہ کر کے پورا کریں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جاری مالی سال کے لیے طے شدہ صوبائی سرپلس 1.4 ٹریلین روپے ہے اور اس میں مزید 1.2 ٹریلین روپے کا اضافہ اس سرپلس کو 3.1 ٹریلین روپے تک بڑھا دے گا جو کہ انتہائی یا حد درجہ مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الوقت تفصیلی مختص رقوم (ایلوکیشنز) اور آمدن کے ذرائع پر مشتمل بجٹ تجاویز قدرتی طور پر پبلک ڈومین  یا جائزہ کے لیے دستیاب نہیں ہیں، تاہم یہ امید کی جانی چاہیے کہ اسٹریٹجک اخراجات کی تعریف واضح کی جائے گی اور پی ایس ڈی پی میں مخصوص اضافی منصوبوں کو نمایاں کیا جائے گا (یہ امید بھی کی جانی چاہیے کہ سڑکوں کی تعمیر پر ضرورت سے زیادہ دی جانے والی توجہ کو پانی کے تحفظ کے اقدامات، بشمول آبی ذخائر کی طرف منتقل کیا جائے گا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور پچھلے سال کے برعکس اس بار حقیقت پسندانہ اعداد و شمار پیش کرنے کی ضرورت ہے، جب بجٹ دستاویزات میں اس مفروضے پر مارک اپ (سود/منافع) کو کم دکھایا گیا تھا کہ پالیسی ریٹ میں کمی آئے گی (ایک ایسا مفروضہ جو پورا نہ ہو سکا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی کا باقاعدہ اجلاس پیر 15 جون کو شیڈول ہے اور پالیسی ریٹ میں اضافے کی توقعات ہیں جس سے بجٹ میں مارک اپ کے لیے مختص رقم بڑھ جائے گی، کیونکہ مئی میں کور انفلیشن میں ایک فیصد اور کنزیومر پرائس انڈیکس میں 0.8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے اشارہ دیا ہے کہ بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے تاہم اس کا دارومدار (اتحادیوں کے درمیان) اتفاقِ رائے پیدا ہونے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ملک میں موجود ہائبرڈ طرزِ حکومت نظرِ ثانی شدہ تجاویز کو زبردستی (بلڈوز کر کے) منظور کرانے کی صلاحیت تو رکھتا ہے لیکن یہ ایک بڑے سیاسی تصادم اور خلیج کو جنم دے سکتا ہے جو ملک کے معاشی مفاد میں نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگرچہ تکنیکی طور پر پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کیے جانے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ہے کیونکہ رولز آف بزنس کے تحت دو ہفتوں کی بحث کی گنجائش فراہم کرنے کے لیے 16 جون بجٹ پیش کرنے کا آخری دن ہے، تاہم اس کے باوجود حکومت کے اتحادیوں کے درمیان اس بار پیدا ہونے والا تنازع غیر معمولی نوعیت کا ہے۔</strong></p>
<p>اس کی وجہ حکومت کی وہ تجاویز ہیں جو آئین کی خلاف ورزی کرتی ہیں: جس کے تحت صوبوں کے یویزبل پول کے حصے میں سے 1 سے 1.2 ٹریلین روپے اسٹریٹجک اخراجات (جس کی وضاحت نہیں کی گئی) اور وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کیلئے اپنے پاس رکھنے کی اجازت مانگی گئی ہے (جبکہ آئین اس بات کا پابند کرتا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ پچھلے ایوارڈ کے حصے سے کم نہیں ہوسکتا)۔</p>
<p>پاکستان پیپلز پارٹی جس کی نمائندگی پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر زرداری کر رہے ہیں اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیویزبل پول ٹیکسز سے اضافی 1.2 ٹریلین روپے کے مطالبے پر غور اور اسے حل کرنے کیلئے تکنیکی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>پسِ منظر میں ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کا ارادہ ایک ایسی موزوں آئینی ترمیم پاس کرانے کا تھا جو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں صوبائی حصے کی کمی (رورسٹر) کی اجازت دے سکے لیکن حکومت پارلیمنٹ میں اس تجویز کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔</p>
<p>یہ بات اب بھی مبہم ہے کہ آیا حکومت نے اس مخصوص اقدام سے متعلق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے حالیہ مشن کو آگاہ کیا تھا یا نہیں جو 20 مئی کو اختتام پذیر ہوا اور جس کی توجہ حالیہ معاشی پیشرفت، اصلاحات کے نفاذ اور مالی سال 2027 کے لیے بجٹ حکمتِ عملی پر مرکوز تھی۔</p>
<p>تاہم آئی ایم ایف کے لیے یہ بات تشویش کا باعث بننے کا امکان نہیں ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے ریونیو شیئرنگ کی نظرِ ثانی کی وکالت کرتا آیا ہے (خاص طور پر 2010 میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد جس نے قابلِ تقسیم پول میں صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد مقرر کرنے کی اجازت دی تھی)۔ معاملہ کچھ بھی ہو بجٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو فنڈ کے ساتھ شیئر کرنا لازمی ہوگا اور جیسا کہ ماضی کے تین آئی ایم ایف پروگراموں میں واضح طور پر دیکھا گیا ہے، بشمول 2019 کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (اہ اہف اہف) پروگرام، 2023 کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) اور موجودہ 2024 کا ای ایف ایف پہلے سے طے شدہ سخت اور فوری شرائط سے ذرا سی بھی انحراف خود بخود اگلے اسٹاف لیول معاہدے میں تاخیر کا سبب بنے گی جو کہ قسط کے اجرا کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ تاخیر حکومت کو دو دوست ممالک سے مزید ایک سال کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر کے رول اوورز حاصل کرنے سے بھی روک سکتی ہے، یہ وہ رقم ہے جو اسٹیٹ بینک  کے پاس غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کے طور پر رکھی گئی ہے جو نہ صرف امپورٹ کور فراہم کرتی ہے بلکہ سب سے اہم بات یہ کہ روپے اور ڈالر کی قدر کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔</p>
<p>ریونیو کو اپنے پاس رکھنے کا یہ فیصلہ اس صوبائی سرپلس کے علاوہ ہوگا جس پر مبینہ طور پر تمام صوبوں نے اگلے مالی سال کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ جو لوگ یہ تجویز دے رہے ہیں کہ وفاقی حکومت کے 1.2 ٹریلین روپے کے اس اضافی مطالبے کو صوبے اپنے سرپلس میں اضافہ کر کے پورا کریں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جاری مالی سال کے لیے طے شدہ صوبائی سرپلس 1.4 ٹریلین روپے ہے اور اس میں مزید 1.2 ٹریلین روپے کا اضافہ اس سرپلس کو 3.1 ٹریلین روپے تک بڑھا دے گا جو کہ انتہائی یا حد درجہ مشکل ہوگا۔</p>
<p>فی الوقت تفصیلی مختص رقوم (ایلوکیشنز) اور آمدن کے ذرائع پر مشتمل بجٹ تجاویز قدرتی طور پر پبلک ڈومین  یا جائزہ کے لیے دستیاب نہیں ہیں، تاہم یہ امید کی جانی چاہیے کہ اسٹریٹجک اخراجات کی تعریف واضح کی جائے گی اور پی ایس ڈی پی میں مخصوص اضافی منصوبوں کو نمایاں کیا جائے گا (یہ امید بھی کی جانی چاہیے کہ سڑکوں کی تعمیر پر ضرورت سے زیادہ دی جانے والی توجہ کو پانی کے تحفظ کے اقدامات، بشمول آبی ذخائر کی طرف منتقل کیا جائے گا)۔</p>
<p>اور پچھلے سال کے برعکس اس بار حقیقت پسندانہ اعداد و شمار پیش کرنے کی ضرورت ہے، جب بجٹ دستاویزات میں اس مفروضے پر مارک اپ (سود/منافع) کو کم دکھایا گیا تھا کہ پالیسی ریٹ میں کمی آئے گی (ایک ایسا مفروضہ جو پورا نہ ہو سکا)۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی کمیٹی کا باقاعدہ اجلاس پیر 15 جون کو شیڈول ہے اور پالیسی ریٹ میں اضافے کی توقعات ہیں جس سے بجٹ میں مارک اپ کے لیے مختص رقم بڑھ جائے گی، کیونکہ مئی میں کور انفلیشن میں ایک فیصد اور کنزیومر پرائس انڈیکس میں 0.8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے اشارہ دیا ہے کہ بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے تاہم اس کا دارومدار (اتحادیوں کے درمیان) اتفاقِ رائے پیدا ہونے پر ہے۔</p>
<p>اگرچہ ملک میں موجود ہائبرڈ طرزِ حکومت نظرِ ثانی شدہ تجاویز کو زبردستی (بلڈوز کر کے) منظور کرانے کی صلاحیت تو رکھتا ہے لیکن یہ ایک بڑے سیاسی تصادم اور خلیج کو جنم دے سکتا ہے جو ملک کے معاشی مفاد میں نہیں ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287326</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 12:52:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/101212377a124b8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/101212377a124b8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
