<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 14:48:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 14:48:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حب میں پاکستان کی پہلی ڈیپ کنورژن ریفائنری لگانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287321/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپیک ریفائنری پرائیویٹ لمیٹڈ پاکستان کی پہلی ڈیپ کنورژن گرین فیلڈ ریفائنری حب بلوچستان میں قائم کرنے کے منصوبے پر پیشرفت کررہی ہے جس پر اندازاً 4.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس منصوبے سے ملک کی توانائی سیکیورٹی مضبوط ہونے اور صنعتی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سرکاری بیان کے مطابق اس پیش رفت کا انکشاف بدھ کو وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور اسپیک ریفائنری پرائیویٹ لمیٹڈ  کے وفد کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں کیا گیا جس کی قیادت ریفائنری کے چیئرمین ظفر شیخ کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے وفاقی وزیر کو منصوبے کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی اور پاکستان کی توانائی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے، ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر انحصار کم کرنے اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق مجوزہ ریفائنری میں جدید ڈیپ کنورژن ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی تاکہ اعلیٰ قدر کے پیٹرولیم مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے، جبکہ بین الاقوامی منڈیوں سے حاصل کردہ مختلف اقسام کے خام تیل کو بھی پراسیس کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وفد نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ گرین فیلڈ ریفائنری پالیسی پر عملدرآمد کو آسان بنانے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے درکار بقیہ ریگولیٹری منظوریوں کے اجراء کو تیز کرنے میں تعاون فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے انرجی سیکٹر میں ایک بڑی طویل مدتی سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے اور اس میں ڈاؤن اسٹریم پیٹروکیمیکل صنعتوں کی ترقی کو فروغ دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے وزیرِ تجارت کو مزید آگاہ کیا کہ منصوبے کے بنیادی کام  کا آغاز پہلے ہی ہو چکا ہے اور مستقبل کی حکمتِ عملیوں کو اس وقت حتمی شکل دی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ظفر شیخ نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ اس منصوبے سے حب اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں تعمیراتی اور آپریشنل، دونوں مراحل کے دوران لگ بھگ 2,000 براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ علاقائی معاشی ترقی، مہارتوں میں اضافے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مغربی چین کے سنگم پر واقع اپنی اسٹریٹجک جیو پولیٹیکل پوزیشن کی وجہ سے پاکستان بڑے پیمانے پر صنعتی اور توانائی  منصوبوں کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان ریفائننگ، پیٹروکیمیکلز، لاجسٹکس اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ میں زبردست اور غیر استعمال شدہ صلاحیت رکھتا ہے۔ حب ریفائنری جیسے اسٹریٹجک منصوبے صنعتی صلاحیت کو مضبوط بنانے، توانائی سیکیورٹی بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور طویل مدتی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے مزید کہا کہ حکومت ایسی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے پرعزم ہے جو معاشی ترقی، ماڈرنائزیشن، امپورٹ سبسٹی ٹیوشن اور برآمدات میں اضافے کا باعث بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے متعلقہ پیٹروکیمیکل سہولیات کی مستقبل میں ترقی کے حوالے سے اپنے وسیع تر وژن سے بھی آگاہ کیا، جس میں صنعتی فیڈ اسٹاک (خام مال) اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پیداوار شامل ہے جو پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو سہارا دے سکتی ہیں اور برآمدات کے اضافی مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے صنعتی سرمایہ کاری کو تیز کرنے اور پاکستان کی مکمل معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرکے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسپیک ریفائنری پرائیویٹ لمیٹڈ پاکستان کی پہلی ڈیپ کنورژن گرین فیلڈ ریفائنری حب بلوچستان میں قائم کرنے کے منصوبے پر پیشرفت کررہی ہے جس پر اندازاً 4.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس منصوبے سے ملک کی توانائی سیکیورٹی مضبوط ہونے اور صنعتی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔</strong></p>
<p>ایک سرکاری بیان کے مطابق اس پیش رفت کا انکشاف بدھ کو وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور اسپیک ریفائنری پرائیویٹ لمیٹڈ  کے وفد کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں کیا گیا جس کی قیادت ریفائنری کے چیئرمین ظفر شیخ کررہے تھے۔</p>
<p>وفد نے وفاقی وزیر کو منصوبے کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی اور پاکستان کی توانائی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے، ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر انحصار کم کرنے اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>بیان کے مطابق مجوزہ ریفائنری میں جدید ڈیپ کنورژن ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی تاکہ اعلیٰ قدر کے پیٹرولیم مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے، جبکہ بین الاقوامی منڈیوں سے حاصل کردہ مختلف اقسام کے خام تیل کو بھی پراسیس کیا جا سکے گا۔</p>
<p>ملاقات کے دوران وفد نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ گرین فیلڈ ریفائنری پالیسی پر عملدرآمد کو آسان بنانے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے درکار بقیہ ریگولیٹری منظوریوں کے اجراء کو تیز کرنے میں تعاون فراہم کرے۔</p>
<p>وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے انرجی سیکٹر میں ایک بڑی طویل مدتی سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے اور اس میں ڈاؤن اسٹریم پیٹروکیمیکل صنعتوں کی ترقی کو فروغ دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>وفد نے وزیرِ تجارت کو مزید آگاہ کیا کہ منصوبے کے بنیادی کام  کا آغاز پہلے ہی ہو چکا ہے اور مستقبل کی حکمتِ عملیوں کو اس وقت حتمی شکل دی جارہی ہے۔</p>
<p>چیئرمین ظفر شیخ نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ اس منصوبے سے حب اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں تعمیراتی اور آپریشنل، دونوں مراحل کے دوران لگ بھگ 2,000 براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>یہ منصوبہ علاقائی معاشی ترقی، مہارتوں میں اضافے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>جام کمال نے سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مغربی چین کے سنگم پر واقع اپنی اسٹریٹجک جیو پولیٹیکل پوزیشن کی وجہ سے پاکستان بڑے پیمانے پر صنعتی اور توانائی  منصوبوں کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان ریفائننگ، پیٹروکیمیکلز، لاجسٹکس اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ میں زبردست اور غیر استعمال شدہ صلاحیت رکھتا ہے۔ حب ریفائنری جیسے اسٹریٹجک منصوبے صنعتی صلاحیت کو مضبوط بنانے، توانائی سیکیورٹی بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور طویل مدتی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>جام کمال نے مزید کہا کہ حکومت ایسی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے پرعزم ہے جو معاشی ترقی، ماڈرنائزیشن، امپورٹ سبسٹی ٹیوشن اور برآمدات میں اضافے کا باعث بنے۔</p>
<p>وفد نے متعلقہ پیٹروکیمیکل سہولیات کی مستقبل میں ترقی کے حوالے سے اپنے وسیع تر وژن سے بھی آگاہ کیا، جس میں صنعتی فیڈ اسٹاک (خام مال) اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پیداوار شامل ہے جو پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو سہارا دے سکتی ہیں اور برآمدات کے اضافی مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔</p>
<p>دونوں فریقین نے صنعتی سرمایہ کاری کو تیز کرنے اور پاکستان کی مکمل معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرکے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر اتفاق کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287321</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 11:27:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/10110929fdd6289.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/10110929fdd6289.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
