<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 13:37:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 13:37:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا جوابی حملہ، اردن اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈے نشانہ بن گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287313/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز جوابی کارروائی کے طور پر اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے اور خلیج میں 21 دیگر اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز کے قریب امریکی حملوں کے ردعمل میں کی گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جھڑپیں اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑی کشیدگی میں شمار کی جا رہی ہیں۔ ایران کے مطابق یہ حملے کویت اور بحرین میں بھی کیے گئے، جبکہ اس سے قبل امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنز اور ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایران کے اقدامات کے جواب میں انتہائی سخت اور طاقتور ردعمل دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردن میں واقع امریکی بیس الازرق پر چار اہداف کو لانگ رینج میزائلوں سے نشانہ بنایا، جن میں ایف-35 لڑاکا طیاروں کے ہینگرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر شامل تھے۔ اردنی فوج نے بتایا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے پانچ میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے اور ان کا ملبہ زمین پر گرا تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت اور بحرین میں بھی فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کو ناکام بنایا، جبکہ بحرین میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق ابتدائی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر میزائل اور ڈرونز کو روک لیا گیا اور امریکی تنصیبات کو کسی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی ردعمل دیکھا گیا اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو بڑھا رہی ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز جوابی کارروائی کے طور پر اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے اور خلیج میں 21 دیگر اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز کے قریب امریکی حملوں کے ردعمل میں کی گئیں۔</strong></p>
<p>یہ جھڑپیں اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑی کشیدگی میں شمار کی جا رہی ہیں۔ ایران کے مطابق یہ حملے کویت اور بحرین میں بھی کیے گئے، جبکہ اس سے قبل امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنز اور ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایران کے اقدامات کے جواب میں انتہائی سخت اور طاقتور ردعمل دیا جائے گا۔</p>
<p>ایرانی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردن میں واقع امریکی بیس الازرق پر چار اہداف کو لانگ رینج میزائلوں سے نشانہ بنایا، جن میں ایف-35 لڑاکا طیاروں کے ہینگرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر شامل تھے۔ اردنی فوج نے بتایا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے پانچ میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے اور ان کا ملبہ زمین پر گرا تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>کویت اور بحرین میں بھی فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کو ناکام بنایا، جبکہ بحرین میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی گئی۔</p>
<p>امریکی حکام کے مطابق ابتدائی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر میزائل اور ڈرونز کو روک لیا گیا اور امریکی تنصیبات کو کسی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>ادھر کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی ردعمل دیکھا گیا اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو بڑھا رہی ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287313</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 10:14:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/10101049b62c3dd.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/10101049b62c3dd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
