<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 21:15:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 09 Jun 2026 21:15:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کی بجٹ سے قبل زراعت کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، اصلاحاتی اقدامات کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287298/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے منگل  کے روز مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل پاکستان کے زرعی شعبے کے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقات کی ہے، جس میں ترقی کو تیز کرنے اور اس شعبے کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے سفارشات طلب کی گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں کسانوں کی تنظیموں، ڈیری اور لائیوسٹاک کاروبار، ویلیو ایڈیڈ زرعی صنعتوں، بیج کمپنیوں کے نمائندے، ساتھ ہی اس شعبے میں کام کرنے والی قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشاورتی اجلاس حکومت کے قبل از بجٹ مشاورت کے عمل کا حصہ تھا، جس کا مقصد اسٹیک ہولڈرز کے خیالات کو پالیسی اور بجٹ کی منصوبہ بندی میں شامل کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء نے موجودہ علاقائی حالات میں امن کے فروغ کے لیے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا اور اقتصادی استحکام کے لیے حکومت کے عزم کی بھی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیک ہولڈرز نے حال ہی میں متعارف کرائی گئی بیج پالیسی اور وسیع پیمانے پر زرعی اصلاحات کا بھی خیرمقدم کیا اور انہیں پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک ”گیم چینجر“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زرعی شعبے میں پاکستان کی معیشت میں تبدیلی لانے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ ملک کی معاشی بحالی اور طویل مدتی ترقی میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حکومت، زرعی تحقیق اور جدت کو تیز کرنے کے لیے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل ( پی اے آر سی) کو چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کی معاونت سے جدید بنا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ٹیکنالوجی پر مبنی کاشتکاری، پیداوار میں بہتری اور تحقیقی اداروں اور کسانوں کے درمیان مضبوط رابطوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس شعبے کی مسابقت بڑھائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور شعبے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے شہباز شریف نے ملک بھر کے ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ کمیٹی زرعی جدید کاری کی حمایت، پالیسی کے نفاذ کو بہتر بنانے اور کسانوں اور زرعی کاروباروں کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشاورت ایسے وقت میں ہوئی جب حکومت مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاری کر رہی ہے، اور زرعی شعبہ روزگار، برآمدات اور فوڈ سیکورٹی میں اپنے اہم کردار کی وجہ سے مرکزی توجہ کا حامل رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے منگل  کے روز مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل پاکستان کے زرعی شعبے کے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقات کی ہے، جس میں ترقی کو تیز کرنے اور اس شعبے کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے سفارشات طلب کی گئیں۔</strong></p>
<p>ملاقات میں کسانوں کی تنظیموں، ڈیری اور لائیوسٹاک کاروبار، ویلیو ایڈیڈ زرعی صنعتوں، بیج کمپنیوں کے نمائندے، ساتھ ہی اس شعبے میں کام کرنے والی قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔</p>
<p>یہ مشاورتی اجلاس حکومت کے قبل از بجٹ مشاورت کے عمل کا حصہ تھا، جس کا مقصد اسٹیک ہولڈرز کے خیالات کو پالیسی اور بجٹ کی منصوبہ بندی میں شامل کرنا تھا۔</p>
<p>شرکاء نے موجودہ علاقائی حالات میں امن کے فروغ کے لیے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا اور اقتصادی استحکام کے لیے حکومت کے عزم کی بھی تعریف کی۔</p>
<p>اسٹیک ہولڈرز نے حال ہی میں متعارف کرائی گئی بیج پالیسی اور وسیع پیمانے پر زرعی اصلاحات کا بھی خیرمقدم کیا اور انہیں پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک ”گیم چینجر“ قرار دیا۔</p>
<p>ملاقات سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زرعی شعبے میں پاکستان کی معیشت میں تبدیلی لانے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ ملک کی معاشی بحالی اور طویل مدتی ترقی میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ حکومت، زرعی تحقیق اور جدت کو تیز کرنے کے لیے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل ( پی اے آر سی) کو چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کی معاونت سے جدید بنا رہی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے ٹیکنالوجی پر مبنی کاشتکاری، پیداوار میں بہتری اور تحقیقی اداروں اور کسانوں کے درمیان مضبوط رابطوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس شعبے کی مسابقت بڑھائی جا سکے۔</p>
<p>زرعی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور شعبے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے شہباز شریف نے ملک بھر کے ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی۔</p>
<p>حکومت کے ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ کمیٹی زرعی جدید کاری کی حمایت، پالیسی کے نفاذ کو بہتر بنانے اور کسانوں اور زرعی کاروباروں کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔</p>
<p>یہ مشاورت ایسے وقت میں ہوئی جب حکومت مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاری کر رہی ہے، اور زرعی شعبہ روزگار، برآمدات اور فوڈ سیکورٹی میں اپنے اہم کردار کی وجہ سے مرکزی توجہ کا حامل رہنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287298</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 18:35:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/091811373a16065.webp" type="image/webp" medium="image" height="1210" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/091811373a16065.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
