<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 13:13:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 09 Jun 2026 13:13:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایم-6 موٹروے کیلئے ترقیاتی فنڈ میں 20 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287265/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی وزارت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2026-27 کے تحت سکھر–حیدرآباد موٹروے (ایم-6) منصوبے کے لیے 20 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ اس منصوبے کے لیے مجموعی ضرورت 70 ارب روپے ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات سیکریٹری منصوبہ بندی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات اور منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے مشترکہ اجلاس میں بتائی۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر پرویز رشید اور قرت العین مری نے کی۔ سیکریٹری نے کہا کہ منصوبے کی مجموعی مالی ضرورت 70 ارب روپے ہے اور حتمی فنڈنگ کا فیصلہ مزید مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اراکین کمیٹی نے منصوبے کی سست پیش رفت اور ناکافی فنڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ 306 کلومیٹر طویل ایم-6 سیکشن، پشاور–کراچی موٹروے (1522 کلومیٹر) کا واحد باقی ماندہ حصہ ہے، اور موجودہ فنڈنگ کے باعث اس کی تکمیل مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی شاہراہوں کے ادارے (این ایچ اے) کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اراضی کا حصول مکمل کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ اسلامی ترقیاتی بینک، اوپیک فنڈ اور سعودی سرمایہ کاروں سمیت بین الاقوامی اداروں کے ساتھ فنانسنگ کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر پرویز رشید نے ایم-6 کو پاکستان کے موٹروے نیٹ ورک کا اہم اور گمشدہ لنک قرار دیتے ہوئے اس پر پیش رفت کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں متعدد ارکان نے متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے وزارتی نگرانی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے بلوچستان، چترال اور دیگر علاقوں میں سڑکوں کی خراب صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور ان منصوبوں کو ترجیح دینے کی سفارش کی۔ مزید کہا گیا کہ نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے جاری منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے سفارش کی کہ ایم-6 کے لیے 70 ارب روپے کی مکمل فنڈنگ فراہم کی جائے اور اس سفارش کو قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) تک پہنچایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی وزارت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2026-27 کے تحت سکھر–حیدرآباد موٹروے (ایم-6) منصوبے کے لیے 20 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ اس منصوبے کے لیے مجموعی ضرورت 70 ارب روپے ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات سیکریٹری منصوبہ بندی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات اور منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے مشترکہ اجلاس میں بتائی۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر پرویز رشید اور قرت العین مری نے کی۔ سیکریٹری نے کہا کہ منصوبے کی مجموعی مالی ضرورت 70 ارب روپے ہے اور حتمی فنڈنگ کا فیصلہ مزید مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔</p>
<p>اراکین کمیٹی نے منصوبے کی سست پیش رفت اور ناکافی فنڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ 306 کلومیٹر طویل ایم-6 سیکشن، پشاور–کراچی موٹروے (1522 کلومیٹر) کا واحد باقی ماندہ حصہ ہے، اور موجودہ فنڈنگ کے باعث اس کی تکمیل مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔</p>
<p>قومی شاہراہوں کے ادارے (این ایچ اے) کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اراضی کا حصول مکمل کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ اسلامی ترقیاتی بینک، اوپیک فنڈ اور سعودی سرمایہ کاروں سمیت بین الاقوامی اداروں کے ساتھ فنانسنگ کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔</p>
<p>سینیٹر پرویز رشید نے ایم-6 کو پاکستان کے موٹروے نیٹ ورک کا اہم اور گمشدہ لنک قرار دیتے ہوئے اس پر پیش رفت کو سراہا۔</p>
<p>اجلاس میں متعدد ارکان نے متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے وزارتی نگرانی ضروری ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے بلوچستان، چترال اور دیگر علاقوں میں سڑکوں کی خراب صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور ان منصوبوں کو ترجیح دینے کی سفارش کی۔ مزید کہا گیا کہ نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے جاری منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>کمیٹی نے سفارش کی کہ ایم-6 کے لیے 70 ارب روپے کی مکمل فنڈنگ فراہم کی جائے اور اس سفارش کو قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) تک پہنچایا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287265</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 10:03:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0910010542cb28f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0910010542cb28f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
