<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 14:18:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 09 Jun 2026 14:18:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے ناقابل برداشت نتائج ہو سکتے ہیں، وزیراعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287260/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تشدد میں اضافہ ایک نازک جنگ بندی کو درپیش خطرات کو اجاگر کرتا ہے اور اگر تحمل کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو اس کے ناقابلِ برداشت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے بھائیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر خطے میں جاری تنازعات کے پُرامن سفارتی حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب حتمی مقصد کے حصول کا مرحلہ قریب ہے تو ہم خلوصِ دل سے تمام فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن کو ایک اور موقع دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہے گا کیونکہ یہ راستہ تشدد اور تباہی کے مقابلے میں کامیابی کے زیادہ امکانات فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری مذاکراتی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے، جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد پاکستان نے خود کو علاقائی سفارتی اقدامات میں ایک سہولت کار کے طور پر پیش کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تشدد میں اضافہ ایک نازک جنگ بندی کو درپیش خطرات کو اجاگر کرتا ہے اور اگر تحمل کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو اس کے ناقابلِ برداشت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے بھائیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر خطے میں جاری تنازعات کے پُرامن سفارتی حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب حتمی مقصد کے حصول کا مرحلہ قریب ہے تو ہم خلوصِ دل سے تمام فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن کو ایک اور موقع دیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہے گا کیونکہ یہ راستہ تشدد اور تباہی کے مقابلے میں کامیابی کے زیادہ امکانات فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری مذاکراتی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے، جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>فروری سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد پاکستان نے خود کو علاقائی سفارتی اقدامات میں ایک سہولت کار کے طور پر پیش کیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287260</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 09:15:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/090913160cefb4e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/090913160cefb4e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
