<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 12:13:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 09 Jun 2026 12:13:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالیاتی بل 2026 میں ایک ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس اور نفاذی اقدامات متوقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287259/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالیاتی بل 2026 میں آئندہ بجٹ (2026-27) کے تحت تقریباً ایک ہزار ارب روپے کے ٹیکس پالیسی اور نفاذی اقدامات متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جن میں نیفتھا پیٹرولیم مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (فیڈ)، اسٹیل سیکٹر کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس نظام، اور ڈیجیٹل انضمام، پروڈکشن مانیٹرنگ اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم سے انکار کرنے والے نان کمپلائنٹ ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ متوقع اضافی آمدن کا تقریباً نصف حصہ نفاذی اقدامات سے جبکہ باقی نصف پالیسی اقدامات سے حاصل ہونے کی توقع ہے، جس سے مجموعی طور پر تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیفتھا پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا نفاذ مالی سال 2026-27 کے اہم ترین محصولات بڑھانے والے اقدامات میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی بل 2026 کے تحت ان لینڈ ریونیو قوانین میں ترمیم کرکے یکم جولائی 2026 سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مکمل طور پر فیس لیس ادارہ بنانے کی تجویز ہے، جس کے لیے ٹیکس دہندگان کا ایف بی آر کے نظام کے ساتھ ڈیجیٹل انضمام، خصوصاً پروڈکشن مانیٹرنگ، لازمی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے تحت ایسے ٹیکس دہندگان پر غیر معمولی جرمانے عائد کیے جائیں گے جو یکم جولائی 2026 سے ڈیجیٹل انضمام اور پروڈکشن مانیٹرنگ کے تقاضوں پر عمل نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کا فیس لیس ان لینڈ ریونیو نظام یکم اکتوبر 2026 سے شروع کیا جائے گا، جس کے لیے بڑے صنعتی شعبوں کے پیداواری یونٹس میں فوری طور پر پروڈکشن مانیٹرنگ کا نفاذ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی او ایس سسٹم اور ڈیجیٹل انضمام ہر صورت نافذ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حکومت کی اولین ترجیح فیس لیس ایف بی آر کا قیام ہے اور اکتوبر 2026 میں فیس لیس ایف بی آر سینٹر (ان لینڈ ریونیو) کا آغاز کیا جائے گا۔ چونکہ ڈیجیٹل انضمام کے بغیر یہ نظام ممکن نہیں، اس لیے مالیاتی بل 2026 میں نان کمپلائنٹ ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ اقدامات میں سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ، پرنٹ شدہ ریٹیل قیمت کی بنیاد پر سیلز ٹیکس کے دائرے میں نئی اشیا کو شامل کرنا، اور مارکیٹ میں غیر قانونی مصنوعات خصوصاً سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف سیلز ٹیکس ایکٹ میں مزید سخت نفاذی شقیں شامل کرنا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان تجاویز پر عملدرآمد وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے حال ہی میں اس سلسلے میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں ملک بھر میں غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ 2026-27 کا بنیادی محور نان کمپلائنٹ شعبوں اور ٹیکس دہندگان کے خلاف نفاذی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی وہ چھوٹیں جو 30 جون 2026 کو ختم ہو چکی ہیں، انہیں آئندہ بجٹ میں توسیع نہ دینے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق حکومت یکم جولائی سے مینوفیکچررز کے لیے یہ لازمی قرار دے سکتی ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی اشیائے صرف اور گھریلو برقی آلات، جیسے ریفریجریٹر، ایئر کنڈیشنر اور واشنگ مشینوں کی پیکنگ پر ریٹیل قیمت اور قابلِ اطلاق 18 فیصد سیلز ٹیکس واضح طور پر درج کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز (ایف ایم سی جی) کی بیشتر اشیا کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے آئندہ مالی سال میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالیاتی بل 2026 میں آئندہ بجٹ (2026-27) کے تحت تقریباً ایک ہزار ارب روپے کے ٹیکس پالیسی اور نفاذی اقدامات متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جن میں نیفتھا پیٹرولیم مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (فیڈ)، اسٹیل سیکٹر کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس نظام، اور ڈیجیٹل انضمام، پروڈکشن مانیٹرنگ اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم سے انکار کرنے والے نان کمپلائنٹ ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں شامل ہیں۔</strong></p>
<p>ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ متوقع اضافی آمدن کا تقریباً نصف حصہ نفاذی اقدامات سے جبکہ باقی نصف پالیسی اقدامات سے حاصل ہونے کی توقع ہے، جس سے مجموعی طور پر تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔</p>
<p>نیفتھا پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا نفاذ مالی سال 2026-27 کے اہم ترین محصولات بڑھانے والے اقدامات میں شامل ہے۔</p>
<p>مالیاتی بل 2026 کے تحت ان لینڈ ریونیو قوانین میں ترمیم کرکے یکم جولائی 2026 سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مکمل طور پر فیس لیس ادارہ بنانے کی تجویز ہے، جس کے لیے ٹیکس دہندگان کا ایف بی آر کے نظام کے ساتھ ڈیجیٹل انضمام، خصوصاً پروڈکشن مانیٹرنگ، لازمی ہوگا۔</p>
<p>بل کے تحت ایسے ٹیکس دہندگان پر غیر معمولی جرمانے عائد کیے جائیں گے جو یکم جولائی 2026 سے ڈیجیٹل انضمام اور پروڈکشن مانیٹرنگ کے تقاضوں پر عمل نہیں کریں گے۔</p>
<p>ایف بی آر کا فیس لیس ان لینڈ ریونیو نظام یکم اکتوبر 2026 سے شروع کیا جائے گا، جس کے لیے بڑے صنعتی شعبوں کے پیداواری یونٹس میں فوری طور پر پروڈکشن مانیٹرنگ کا نفاذ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی او ایس سسٹم اور ڈیجیٹل انضمام ہر صورت نافذ کیا جائے گا۔</p>
<p>موجودہ حکومت کی اولین ترجیح فیس لیس ایف بی آر کا قیام ہے اور اکتوبر 2026 میں فیس لیس ایف بی آر سینٹر (ان لینڈ ریونیو) کا آغاز کیا جائے گا۔ چونکہ ڈیجیٹل انضمام کے بغیر یہ نظام ممکن نہیں، اس لیے مالیاتی بل 2026 میں نان کمپلائنٹ ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔</p>
<p>مجوزہ اقدامات میں سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ، پرنٹ شدہ ریٹیل قیمت کی بنیاد پر سیلز ٹیکس کے دائرے میں نئی اشیا کو شامل کرنا، اور مارکیٹ میں غیر قانونی مصنوعات خصوصاً سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف سیلز ٹیکس ایکٹ میں مزید سخت نفاذی شقیں شامل کرنا بھی شامل ہے۔</p>
<p>تاہم ان تجاویز پر عملدرآمد وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے حال ہی میں اس سلسلے میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں ملک بھر میں غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر زور دیا گیا۔</p>
<p>وفاقی بجٹ 2026-27 کا بنیادی محور نان کمپلائنٹ شعبوں اور ٹیکس دہندگان کے خلاف نفاذی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔</p>
<p>سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی وہ چھوٹیں جو 30 جون 2026 کو ختم ہو چکی ہیں، انہیں آئندہ بجٹ میں توسیع نہ دینے کا امکان ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق حکومت یکم جولائی سے مینوفیکچررز کے لیے یہ لازمی قرار دے سکتی ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی اشیائے صرف اور گھریلو برقی آلات، جیسے ریفریجریٹر، ایئر کنڈیشنر اور واشنگ مشینوں کی پیکنگ پر ریٹیل قیمت اور قابلِ اطلاق 18 فیصد سیلز ٹیکس واضح طور پر درج کریں۔</p>
<p>فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز (ایف ایم سی جی) کی بیشتر اشیا کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>حکومت نے آئندہ مالی سال میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287259</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 09:08:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/09090647c3e98fe.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/09090647c3e98fe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
