<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 12:13:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 09 Jun 2026 12:13:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیرف پالیسی بورڈ نے دوسرے سال کے ٹیرف ریشنلائزیشن پلان کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287258/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت تجارت کی سربراہی میں قائم ٹیرف پالیسی بورڈ (ٹی پی بی) نے  قومی ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) 2025-30 کے تحت دوسرے سال کے ٹیرف ریشنلائزیشن منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس میں نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی) کی تجویز کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) کی 1 فیصد، 2 فیصد اور 2.5 فیصد شرحوں میں ردوبدل شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نظرثانی شدہ شرحیں یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ٹیرف پالیسی بورڈ نے 6 جون 2026 کو اپنی سفارشات کو حتمی شکل دی اور 4 جون 2026 کو وزیر اعظم شہباز شریف سے باضابطہ منظوری حاصل کرنے کے بعد انہیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ارسال کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے قومی ٹیرف پالیسی کے دوسرے سال کے اہداف حاصل کرنے کے لیے آپشن-ٹو گزشتہ اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی ٹیرف پالیسی کے مطابق دوسرے سال میں کسٹمز ڈیوٹی (سی ڈی) کی زیادہ سے زیادہ شرح 50 فیصد ہوگی، لہٰذا 50 فیصد سے زائد تمام سی ڈی شرحوں کو 20 فیصد سے 50 فیصد کے درمیان ایڈجسٹ کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دوسرے سال میں ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) کی زیادہ سے زیادہ شرح 4 فیصد ہوگی۔ اس ہدف کے حصول کے لیے اے سی ڈی کی شرحوں کو 6 فیصد سے 4 فیصد، 4 فیصد سے 2 فیصد اور 2 فیصد سے صفر فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ قومی ٹیرف پالیسی کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹیز کو 2030 تک مکمل طور پر ختم کیا جانا ہے اور نفاذ کے دوسرے سال میں آر ڈی کی زیادہ سے زیادہ شرح 20 فیصد ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین نیشنل ٹیرف کمیشن نے این ٹی پی 2025-30 کے تحت دوسرے سال کے اہداف پر عمل درآمد کے لیے ایک متبادل تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی سی وزارتِ تجارت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز سے متفق ہے، تاہم خوردنی تیل پر 2 فیصد اے سی ڈی کے خاتمے، موجودہ 1 فیصد، 2 فیصد اور 2.5 فیصد آر ڈی کے خاتمے اور آٹو سیکٹر کے ٹیرف کی تنظیمِ نو سے متعلق کچھ مختلف آراء رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ صارفین کو ریلیف فراہم کرنے اور موجودہ غذائی افراطِ زر کو قابو میں رکھنے کے لیے خوردنی تیل پر عائد 2 فیصد اے سی ڈی ختم کر دی جائے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے حکومتی محصولات میں تقریباً 26 ارب روپے کی کمی واقع ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1 فیصد (105 ٹیرف لائنز)، 2 فیصد (3 ٹیرف لائنز) اور 2.5 فیصد (105 ٹیرف لائنز) کی موجودہ آر ڈی شرحوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مقامی پیداوار اور برآمدات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی مصنوعات پاکستان میں مقامی طور پر تیار ہوتی ہیں یا برآمد کی جاتی ہیں تو ان پر عائد موجودہ 1 فیصد، 2 فیصد اور 2.5 فیصد آر ڈی کو 20 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ ایسی مصنوعات جو نہ پاکستان میں تیار ہوتی ہیں اور نہ ہی برآمد کی جاتی ہیں، ان پر یہ آر ڈی شرحیں مکمل طور پر ختم کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ مجوزہ اسکیم کے تحت 1 فیصد آر ڈی والی 105 ٹیرف لائنز میں سے 34 پر آر ڈی صفر کر دی جائے گی، جبکہ باقی 71 ٹیرف لائنز پر آر ڈی 1 فیصد سے کم کرکے 0.8 فیصد کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 2 فیصد آر ڈی والی 3 ٹیرف لائنز میں سے ایک پر شرح 2 فیصد سے کم کرکے 1.6 فیصد کر دی جائے گی، جبکہ باقی دو ٹیرف لائنز پر آر ڈی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2.5 فیصد آر ڈی والی 105 ٹیرف لائنز میں سے 41 پر آر ڈی صفر کر دی جائے گی، جبکہ باقی 64 ٹیرف لائنز پر آر ڈی 2.5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری تجارت کے مطابق بورڈ کے سامنے تین الگ الگ تجاویز پیش کی گئی تھیں، جن میں وزارتِ تجارت، روبینہ اطہر اور نیشنل ٹیرف کمیشن کی تجاویز شامل تھیں۔ انہوں نے بورڈ سے قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت دوسرے سال کے ٹیرف میں کمی کے راستے پر حتمی فیصلہ کرنے کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید وضاحت کی کہ سیکریٹری وزارتِ تجارت کی حیثیت سے ان کا کردار حکومت کی منظور شدہ قومی ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد کرنا ہے، اور اگر پالیسی سے کسی قسم کی انحراف کی ضرورت ہو تو متعلقہ وزارت کو وزیر اعظم سے منظوری حاصل کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت و پیداوار کے امور پر وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر نے 1 فیصد، 2 فیصد اور 2.5 فیصد آر ڈی شرحوں میں ردوبدل کے حوالے سے نیشنل ٹیرف کمیشن کی تجویز کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ این ٹی سی کی تجویز نسبتاً زیادہ جامع اور حقیقت پسندانہ ہے، تاہم 2.5 فیصد سے زیادہ آر ڈی شرحوں کے معاملے میں انہوں نے وزارتِ تجارت کی تجویز کردہ کمی کے طریقہ کار کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت تجارت کی سربراہی میں قائم ٹیرف پالیسی بورڈ (ٹی پی بی) نے  قومی ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) 2025-30 کے تحت دوسرے سال کے ٹیرف ریشنلائزیشن منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس میں نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی) کی تجویز کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) کی 1 فیصد، 2 فیصد اور 2.5 فیصد شرحوں میں ردوبدل شامل ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ تجارت کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نظرثانی شدہ شرحیں یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ٹیرف پالیسی بورڈ نے 6 جون 2026 کو اپنی سفارشات کو حتمی شکل دی اور 4 جون 2026 کو وزیر اعظم شہباز شریف سے باضابطہ منظوری حاصل کرنے کے بعد انہیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ارسال کر دیا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے قومی ٹیرف پالیسی کے دوسرے سال کے اہداف حاصل کرنے کے لیے آپشن-ٹو گزشتہ اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی ٹیرف پالیسی کے مطابق دوسرے سال میں کسٹمز ڈیوٹی (سی ڈی) کی زیادہ سے زیادہ شرح 50 فیصد ہوگی، لہٰذا 50 فیصد سے زائد تمام سی ڈی شرحوں کو 20 فیصد سے 50 فیصد کے درمیان ایڈجسٹ کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>اسی طرح دوسرے سال میں ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) کی زیادہ سے زیادہ شرح 4 فیصد ہوگی۔ اس ہدف کے حصول کے لیے اے سی ڈی کی شرحوں کو 6 فیصد سے 4 فیصد، 4 فیصد سے 2 فیصد اور 2 فیصد سے صفر فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ قومی ٹیرف پالیسی کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹیز کو 2030 تک مکمل طور پر ختم کیا جانا ہے اور نفاذ کے دوسرے سال میں آر ڈی کی زیادہ سے زیادہ شرح 20 فیصد ہوگی۔</p>
<p>چیئرمین نیشنل ٹیرف کمیشن نے این ٹی پی 2025-30 کے تحت دوسرے سال کے اہداف پر عمل درآمد کے لیے ایک متبادل تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی سی وزارتِ تجارت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز سے متفق ہے، تاہم خوردنی تیل پر 2 فیصد اے سی ڈی کے خاتمے، موجودہ 1 فیصد، 2 فیصد اور 2.5 فیصد آر ڈی کے خاتمے اور آٹو سیکٹر کے ٹیرف کی تنظیمِ نو سے متعلق کچھ مختلف آراء رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ صارفین کو ریلیف فراہم کرنے اور موجودہ غذائی افراطِ زر کو قابو میں رکھنے کے لیے خوردنی تیل پر عائد 2 فیصد اے سی ڈی ختم کر دی جائے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے حکومتی محصولات میں تقریباً 26 ارب روپے کی کمی واقع ہوگی۔</p>
<p>1 فیصد (105 ٹیرف لائنز)، 2 فیصد (3 ٹیرف لائنز) اور 2.5 فیصد (105 ٹیرف لائنز) کی موجودہ آر ڈی شرحوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مقامی پیداوار اور برآمدات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>اگر کوئی مصنوعات پاکستان میں مقامی طور پر تیار ہوتی ہیں یا برآمد کی جاتی ہیں تو ان پر عائد موجودہ 1 فیصد، 2 فیصد اور 2.5 فیصد آر ڈی کو 20 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ ایسی مصنوعات جو نہ پاکستان میں تیار ہوتی ہیں اور نہ ہی برآمد کی جاتی ہیں، ان پر یہ آر ڈی شرحیں مکمل طور پر ختم کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ مجوزہ اسکیم کے تحت 1 فیصد آر ڈی والی 105 ٹیرف لائنز میں سے 34 پر آر ڈی صفر کر دی جائے گی، جبکہ باقی 71 ٹیرف لائنز پر آر ڈی 1 فیصد سے کم کرکے 0.8 فیصد کر دی جائے گی۔</p>
<p>اسی طرح 2 فیصد آر ڈی والی 3 ٹیرف لائنز میں سے ایک پر شرح 2 فیصد سے کم کرکے 1.6 فیصد کر دی جائے گی، جبکہ باقی دو ٹیرف لائنز پر آر ڈی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔</p>
<p>2.5 فیصد آر ڈی والی 105 ٹیرف لائنز میں سے 41 پر آر ڈی صفر کر دی جائے گی، جبکہ باقی 64 ٹیرف لائنز پر آر ڈی 2.5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کر دی جائے گی۔</p>
<p>سیکریٹری تجارت کے مطابق بورڈ کے سامنے تین الگ الگ تجاویز پیش کی گئی تھیں، جن میں وزارتِ تجارت، روبینہ اطہر اور نیشنل ٹیرف کمیشن کی تجاویز شامل تھیں۔ انہوں نے بورڈ سے قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت دوسرے سال کے ٹیرف میں کمی کے راستے پر حتمی فیصلہ کرنے کی درخواست کی۔</p>
<p>انہوں نے مزید وضاحت کی کہ سیکریٹری وزارتِ تجارت کی حیثیت سے ان کا کردار حکومت کی منظور شدہ قومی ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد کرنا ہے، اور اگر پالیسی سے کسی قسم کی انحراف کی ضرورت ہو تو متعلقہ وزارت کو وزیر اعظم سے منظوری حاصل کرنا ہوگی۔</p>
<p>صنعت و پیداوار کے امور پر وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر نے 1 فیصد، 2 فیصد اور 2.5 فیصد آر ڈی شرحوں میں ردوبدل کے حوالے سے نیشنل ٹیرف کمیشن کی تجویز کی حمایت کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ این ٹی سی کی تجویز نسبتاً زیادہ جامع اور حقیقت پسندانہ ہے، تاہم 2.5 فیصد سے زیادہ آر ڈی شرحوں کے معاملے میں انہوں نے وزارتِ تجارت کی تجویز کردہ کمی کے طریقہ کار کی حمایت کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287258</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 08:57:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/09085442e9ababf.webp" type="image/webp" medium="image" height="394" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/09085442e9ababf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
