<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 19:39:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 08 Jun 2026 19:39:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دفترِ خارجہ نے آزاد کشمیر کے حوالے سے برطانوی پارلیمنٹیرینز کے بیانات کو مسترد کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287249/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے برطانیہ میں مقیم سمندر پار کمیونٹی کے بعض ارکان اور برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کی صورتحال سے متعلق دیے گئے غیر ذمہ دارانہ اور کم علمی  پر مبنی بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری  ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے برطانیہ میں مقیم تارکینِ وطن کے بعض عناصر کی جانب سے آزاد کشمیر کے حوالے سے کیے گئے تبصروں کا نوٹس لیا ہے۔ بیان میں انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے معاملات میں مداخلت کرنے کے بجائے اس ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں جہاں وہ مقیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفترِ خارجہ نے برطانوی پارلیمنٹ کے چند ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور تبصروں پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ بیانات اس معاملے کے تاریخی پس منظر اور حقائق سے لاعلمی کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں واضح طور پر کہا گیا کہ جو لوگ اب بھی نوآبادیاتی دور  میں جی رہے ہیں، انہیں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ پاکستان ایک خودمختار اور جمہوریہ ملک ہے، جو دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر پختہ یقین رکھتا ہے اور دوسروں سے بھی اسی طرزِ عمل کی توقع کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں شہریوں کے پرامن اجتماع، آزادیِ اظہارِ رائے اور جمہوری شراکت داری کے آئینی حقوق کا مکمل احترام کرتی ہیں۔ تاہم بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ توڑ پھوڑ، اسپتالوں سمیت عوامی خدمات کی تنصیبات کو نقصان پہنچانے، معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے قتل کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ کالعدم تنظیموں کی حمایت کرنے والے افراد کو تنبیہ کرے اور انہیں پاکستان اور آزاد کشمیر کے دساتیر میں درج جمہوری عمل، عدالتی فیصلوں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے کی ترغیب دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سفارتی ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک سب انسپکٹر سمیت پولیس کے 4 اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راولاکوٹ کے کمشنر سردار وحید نے پولیس رپورٹ کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ جھڑپوں کے دوران آزاد کشمیر پولیس کے 13 اہلکار فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران زخمی ہونے والے عام شہری شیلنگ کی وجہ سے متاثر ہوئے، تاہم اب صورتحال معمول پر آچکی ہے اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں رک گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب حکومت نے جمعہ کی رات جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے کر اس کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا۔ گرفتار ہونے والوں میں کمیٹی کے اہم رہنما انجم زمان اور راجہ شعیب جاوید بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو لانگ مارچ اور احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ اس احتجاجی مظاہرے کے پیشِ نظر مظفرآباد میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، انٹرنیٹ سروسز معطل اور ہائی کورٹ، قانون ساز اسمبلی اور ایوانِ صدر سمیت تمام حساس مقامات پر رینجرز اور فرنٹئیر کانسٹیبلری (ایف سی) کے بھاری دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کالعدم کمیٹی کا بنیادی مطالبہ پاکستان میں مقیم مقبوضہ کشمیر کے پناہ گزینوں کے لیے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مخصوص کی گئی 12 نشستوں کو ختم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے برطانیہ میں مقیم سمندر پار کمیونٹی کے بعض ارکان اور برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کی صورتحال سے متعلق دیے گئے غیر ذمہ دارانہ اور کم علمی  پر مبنی بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔</strong></p>
<p>دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری  ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے برطانیہ میں مقیم تارکینِ وطن کے بعض عناصر کی جانب سے آزاد کشمیر کے حوالے سے کیے گئے تبصروں کا نوٹس لیا ہے۔ بیان میں انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے معاملات میں مداخلت کرنے کے بجائے اس ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں جہاں وہ مقیم ہیں۔</p>
<p>ترجمان دفترِ خارجہ نے برطانوی پارلیمنٹ کے چند ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور تبصروں پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ بیانات اس معاملے کے تاریخی پس منظر اور حقائق سے لاعلمی کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>اعلامیے میں واضح طور پر کہا گیا کہ جو لوگ اب بھی نوآبادیاتی دور  میں جی رہے ہیں، انہیں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ پاکستان ایک خودمختار اور جمہوریہ ملک ہے، جو دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر پختہ یقین رکھتا ہے اور دوسروں سے بھی اسی طرزِ عمل کی توقع کرتا ہے۔</p>
<p>دفترِ خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں شہریوں کے پرامن اجتماع، آزادیِ اظہارِ رائے اور جمہوری شراکت داری کے آئینی حقوق کا مکمل احترام کرتی ہیں۔ تاہم بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ توڑ پھوڑ، اسپتالوں سمیت عوامی خدمات کی تنصیبات کو نقصان پہنچانے، معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے قتل کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ کالعدم تنظیموں کی حمایت کرنے والے افراد کو تنبیہ کرے اور انہیں پاکستان اور آزاد کشمیر کے دساتیر میں درج جمہوری عمل، عدالتی فیصلوں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے کی ترغیب دے۔</p>
<p>یہ سفارتی ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک سب انسپکٹر سمیت پولیس کے 4 اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔</p>
<p>راولاکوٹ کے کمشنر سردار وحید نے پولیس رپورٹ کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ جھڑپوں کے دوران آزاد کشمیر پولیس کے 13 اہلکار فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران زخمی ہونے والے عام شہری شیلنگ کی وجہ سے متاثر ہوئے، تاہم اب صورتحال معمول پر آچکی ہے اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں رک گئی ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب حکومت نے جمعہ کی رات جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے کر اس کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا۔ گرفتار ہونے والوں میں کمیٹی کے اہم رہنما انجم زمان اور راجہ شعیب جاوید بھی شامل ہیں۔</p>
<p>کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو لانگ مارچ اور احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ اس احتجاجی مظاہرے کے پیشِ نظر مظفرآباد میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، انٹرنیٹ سروسز معطل اور ہائی کورٹ، قانون ساز اسمبلی اور ایوانِ صدر سمیت تمام حساس مقامات پر رینجرز اور فرنٹئیر کانسٹیبلری (ایف سی) کے بھاری دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ کالعدم کمیٹی کا بنیادی مطالبہ پاکستان میں مقیم مقبوضہ کشمیر کے پناہ گزینوں کے لیے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مخصوص کی گئی 12 نشستوں کو ختم کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287249</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 17:40:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/081726377b9fbbb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/081726377b9fbbb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
