<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 17:38:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 08 Jun 2026 17:38:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوام متحدہ کا طالبان سے لباس کے ضوابط پر خواتین کی گرفتاریاں بند کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287243/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کے افغانستان مشن (یوناما) نے مغربی صوبے ہرات میں خواتین کی مبینہ طور پر لباس کے ضوابط کی خلاف ورزی پر گرفتاریوں اور حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ تمام افراد کے ساتھ قانون کے تحت یکساں سلوک کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوناما نے اپنے بیان میں گرفتار خواتین کی تعداد نہیں بتائی، تاہم مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے ہرات میں کم از کم 21 خواتین اور لڑکیوں کو حراست میں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوناما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ہرات میں خواتین کی متعدد گرفتاریوں اور حراست کی اطلاعات سنگین انسانی حقوق کے خدشات کو جنم دیتی ہیں۔ مشن نے طالبان حکام کو یاد دلایا کہ ہر شخص کو آزادانہ نقل و حرکت کا حق حاصل ہے اور خواتین و مرد، دونوں قانون کی نظر میں برابری کے مستحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق حالیہ گرفتاریاں طالبان کی اس نئی ہدایت کے بعد عمل میں آئیں، جس میں خواتین کو مناسب حجاب کے بغیر عوامی مقامات پر آنے سے روک دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چہرہ کھلا رکھنے یا میک اپ کرنے والی خواتین کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان خواتین کی تعلیم، ملازمت اور کھیلوں میں شرکت سمیت متعدد شعبوں میں سخت پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جس پر عالمی برادری مسلسل تنقید کرتی رہی ہے۔ تاہم طالبان کا مؤقف ہے کہ وہ اسلامی شریعت کی اپنی تشریح کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کے افغانستان مشن (یوناما) نے مغربی صوبے ہرات میں خواتین کی مبینہ طور پر لباس کے ضوابط کی خلاف ورزی پر گرفتاریوں اور حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ تمام افراد کے ساتھ قانون کے تحت یکساں سلوک کریں۔</strong></p>
<p>یوناما نے اپنے بیان میں گرفتار خواتین کی تعداد نہیں بتائی، تاہم مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے ہرات میں کم از کم 21 خواتین اور لڑکیوں کو حراست میں لیا گیا۔</p>
<p>یوناما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ہرات میں خواتین کی متعدد گرفتاریوں اور حراست کی اطلاعات سنگین انسانی حقوق کے خدشات کو جنم دیتی ہیں۔ مشن نے طالبان حکام کو یاد دلایا کہ ہر شخص کو آزادانہ نقل و حرکت کا حق حاصل ہے اور خواتین و مرد، دونوں قانون کی نظر میں برابری کے مستحق ہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق حالیہ گرفتاریاں طالبان کی اس نئی ہدایت کے بعد عمل میں آئیں، جس میں خواتین کو مناسب حجاب کے بغیر عوامی مقامات پر آنے سے روک دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چہرہ کھلا رکھنے یا میک اپ کرنے والی خواتین کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان خواتین کی تعلیم، ملازمت اور کھیلوں میں شرکت سمیت متعدد شعبوں میں سخت پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جس پر عالمی برادری مسلسل تنقید کرتی رہی ہے۔ تاہم طالبان کا مؤقف ہے کہ وہ اسلامی شریعت کی اپنی تشریح کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287243</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 15:35:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/08153356bd0cd17.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/08153356bd0cd17.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
