<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 13:12:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 08 Jun 2026 13:12:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غذائیت کی کمی سے ملک کو سالانہ 17 ارب ڈالر کا معاشی نقصان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287224/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک سیمینار کے مقررین نے ملک میں بڑھتے ہوئے غذائی بحران پر تبادلہ خیال کیا اور وفاقی بجٹ سے قبل سامنے آنے والے ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارشات پیش کیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے نشوونما میں کمی (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں جبکہ نصف سے زائد خواتین اور بچے خون کی کمی (انیمیا) سے متاثر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوٹریشن کرائسز — چیلنجز اینڈ پاتھ ویز ٹو ریفارم کے عنوان سے منعقدہ یہ سیمینار پاکستان نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹک سوسائٹی (پی این ڈی ایس) نے کراچی پریس کلب  کے اشتراک سے منعقد کیا، جس میں غذائیت اور عوامی صحت کے ماہرین نے پائیدار اصلاحات اور پالیسی انضمام پر غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقررین نے کہا کہ غذائیت کا شعبہ وفاقی بجٹ میں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی سطح پر اس کی مالی ضروریات میں 75 فیصد تک کمی موجود ہے، جس کے باعث پاکستان کو سالانہ تقریباً 17 ارب ڈالر کا نقصان پیداواری صلاحیت میں کمی، صحت کے اخراجات اور انسانی سرمائے کے نقصان کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیلتھ اکنامسٹ اور پبلک فنانس کے ماہر ڈاکٹر عاصم بشیر خان نے غذائیت کے لیے مالی وسائل اور احتساب کے نظام میں بڑی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی غذائی سرمایہ کاری عالمی سفارشات سے کم ہے اور اکثر قابلِ پیمائش نتائج سے منسلک نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ معمولی اضافے پر مبنی بجٹ کے بجائے کارکردگی پر مبنی بجٹ سازی کی ضرورت ہے، ساتھ ہی مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن کے مضبوط نظام، شفافیت میں اضافہ اور واضح احتسابی نظام قائم کیا جائے تاکہ غذائی پالیسیاں حقیقی بہتری میں تبدیل ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈس اسپتال کے ڈائریکٹر برائے ذیابیطس و اینڈوکرائنولوجی پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا کہ موٹاپا تیزی سے پاکستان میں ذیابیطس کا بڑا سبب بنتا جا رہا ہے، مگر موجودہ بچاؤ کی کوششیں 30 سے 40 سال کی عمر کے افراد پر مرکوز ہیں جو بہت دیر سے کی جا رہی ہیں، کیونکہ خطرے کے عوامل اسکول جانے کی عمر تک ہی قائم ہو جاتے ہیں، جبکہ 1 کروڑ سے زائد بچے زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خطرہ پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے، کیونکہ زچگی کی صحت، کم دودھ پلانا، اور کم یا زیادہ وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے مستقبل میں موٹاپے اور ذیابیطس کے خطرات کو بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا جو حمل سے لے کر بچپن اور جوانی تک کے مراحل کا احاطہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی این ڈی ایس کی صدر فائزہ خان نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ غذائیت کو ملک کے صحت کے نظام کا بنیادی ستون تسلیم کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ غذائیت کے ماہرین کو بنیادی صحت کے نظام میں شامل کیا جائے، اسپتالوں اور تحقیقی اداروں میں ڈائیٹیشنز کی تعیناتی ہو اور انہیں پالیسی سازی میں مؤثر کردار دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی این ڈی ایس ملٹی سیکٹرل غذائی مالیات، ماہرین کی شمولیت اور پالیسی و تحقیق میں غذائیت کے عہدوں کے قیام کے لیے اپنی وکالت جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک سیمینار کے مقررین نے ملک میں بڑھتے ہوئے غذائی بحران پر تبادلہ خیال کیا اور وفاقی بجٹ سے قبل سامنے آنے والے ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارشات پیش کیں۔</strong></p>
<p>گفتگو میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے نشوونما میں کمی (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں جبکہ نصف سے زائد خواتین اور بچے خون کی کمی (انیمیا) سے متاثر ہیں۔</p>
<p>نیوٹریشن کرائسز — چیلنجز اینڈ پاتھ ویز ٹو ریفارم کے عنوان سے منعقدہ یہ سیمینار پاکستان نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹک سوسائٹی (پی این ڈی ایس) نے کراچی پریس کلب  کے اشتراک سے منعقد کیا، جس میں غذائیت اور عوامی صحت کے ماہرین نے پائیدار اصلاحات اور پالیسی انضمام پر غور کیا۔</p>
<p>مقررین نے کہا کہ غذائیت کا شعبہ وفاقی بجٹ میں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی سطح پر اس کی مالی ضروریات میں 75 فیصد تک کمی موجود ہے، جس کے باعث پاکستان کو سالانہ تقریباً 17 ارب ڈالر کا نقصان پیداواری صلاحیت میں کمی، صحت کے اخراجات اور انسانی سرمائے کے نقصان کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>ہیلتھ اکنامسٹ اور پبلک فنانس کے ماہر ڈاکٹر عاصم بشیر خان نے غذائیت کے لیے مالی وسائل اور احتساب کے نظام میں بڑی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی غذائی سرمایہ کاری عالمی سفارشات سے کم ہے اور اکثر قابلِ پیمائش نتائج سے منسلک نہیں ہوتی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ معمولی اضافے پر مبنی بجٹ کے بجائے کارکردگی پر مبنی بجٹ سازی کی ضرورت ہے، ساتھ ہی مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن کے مضبوط نظام، شفافیت میں اضافہ اور واضح احتسابی نظام قائم کیا جائے تاکہ غذائی پالیسیاں حقیقی بہتری میں تبدیل ہو سکیں۔</p>
<p>انڈس اسپتال کے ڈائریکٹر برائے ذیابیطس و اینڈوکرائنولوجی پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا کہ موٹاپا تیزی سے پاکستان میں ذیابیطس کا بڑا سبب بنتا جا رہا ہے، مگر موجودہ بچاؤ کی کوششیں 30 سے 40 سال کی عمر کے افراد پر مرکوز ہیں جو بہت دیر سے کی جا رہی ہیں، کیونکہ خطرے کے عوامل اسکول جانے کی عمر تک ہی قائم ہو جاتے ہیں، جبکہ 1 کروڑ سے زائد بچے زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خطرہ پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے، کیونکہ زچگی کی صحت، کم دودھ پلانا، اور کم یا زیادہ وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے مستقبل میں موٹاپے اور ذیابیطس کے خطرات کو بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا جو حمل سے لے کر بچپن اور جوانی تک کے مراحل کا احاطہ کرے۔</p>
<p>پی این ڈی ایس کی صدر فائزہ خان نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ غذائیت کو ملک کے صحت کے نظام کا بنیادی ستون تسلیم کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ غذائیت کے ماہرین کو بنیادی صحت کے نظام میں شامل کیا جائے، اسپتالوں اور تحقیقی اداروں میں ڈائیٹیشنز کی تعیناتی ہو اور انہیں پالیسی سازی میں مؤثر کردار دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی این ڈی ایس ملٹی سیکٹرل غذائی مالیات، ماہرین کی شمولیت اور پالیسی و تحقیق میں غذائیت کے عہدوں کے قیام کے لیے اپنی وکالت جاری رکھے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287224</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 10:32:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/08102948ef9f0ce.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/08102948ef9f0ce.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
