<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 21:42:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 07 Jun 2026 21:42:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے مہاجرین کی نشستوں پر حکومتی موقف کی توثیق کر دی، احتجاج کی سیاست مسترد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287211/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ کے صدارتی ریفرنس پر مشاورتی فیصلے نے مہاجرین کی نشستوں پر حکومتی موقف کی توثیق کر دی ہے اور احتجاج کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی رائے کے مطابق مہاجرین کی یہ 12 نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ کی حامل ہیں اور ان میں محض کسی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے واضح کیا کہ مہاجرین کی نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کے لیے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔عدالتِ عالیہ نے حکومت کے اس فیصلے کی تائید کی کہ باقی ماندہ آئینی امور کو منتخب اسمبلی کے سپرد کیا جانا چاہیے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئینی ترامیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مناسب آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے مزید اس بات پر زور دیا کہ آرٹیکل 22(4) کے تحت وقت پر انتخابات کا انعقاد لازمی ہے اور احتجاج یا سیاسی تنازعات کو اس کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کا کہنا تھا کہ اگرچہ پرامن احتجاج ایک آئینی حق ہے، لیکن سڑکیں بلاک کرنے، دھمکانے اور روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کرنے جیسے اقدامات کو کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ عدالت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ کسی ایک فرد کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے حقوق غصب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ چنانچہ انتظامیہ پبلک پیس (عوامی امن)، آئینی نظم و نسق اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی ماہرین کے مطابق آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ کی اس رائے نے انتخابات اور ریاستی اداروں کے کام میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے فریم ورک کو نمایاں طور پر مضبوط کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ کے صدارتی ریفرنس پر مشاورتی فیصلے نے مہاجرین کی نشستوں پر حکومتی موقف کی توثیق کر دی ہے اور احتجاج کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی رائے کے مطابق مہاجرین کی یہ 12 نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ کی حامل ہیں اور ان میں محض کسی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔</p>
<p>عدالت نے واضح کیا کہ مہاجرین کی نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کے لیے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔عدالتِ عالیہ نے حکومت کے اس فیصلے کی تائید کی کہ باقی ماندہ آئینی امور کو منتخب اسمبلی کے سپرد کیا جانا چاہیے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئینی ترامیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مناسب آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے مزید اس بات پر زور دیا کہ آرٹیکل 22(4) کے تحت وقت پر انتخابات کا انعقاد لازمی ہے اور احتجاج یا سیاسی تنازعات کو اس کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>عدالت کا کہنا تھا کہ اگرچہ پرامن احتجاج ایک آئینی حق ہے، لیکن سڑکیں بلاک کرنے، دھمکانے اور روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کرنے جیسے اقدامات کو کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں ہے۔</p>
<p>اعلیٰ عدالت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ کسی ایک فرد کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے حقوق غصب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ چنانچہ انتظامیہ پبلک پیس (عوامی امن)، آئینی نظم و نسق اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔</p>
<p>قانونی ماہرین کے مطابق آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ کی اس رائے نے انتخابات اور ریاستی اداروں کے کام میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے فریم ورک کو نمایاں طور پر مضبوط کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287211</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 19:09:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/07185315e879be4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/07185315e879be4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
