<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 18:03:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 07 Jun 2026 18:03:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت سے ای پی زیڈ انڈسٹریز کے لیے 80/20 اسکیم جاری رکھنے کا پرزور مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287198/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈ) کے لیے  80/20 سہولت برقرار رکھے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت ستمبر 2026 تک زونز سے مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد فروخت پر مکمل پابندی لگانے اور 2035 تک ان زونز کو مرحلہ وار ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے خبردار کیا کہ اس سہولت کی واپسی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوگا اور درجنوں صنعتی یونٹس بند ہو سکتے ہیں۔ ای پی زیڈز سالانہ تقریباً 1 ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ کماتے ہیں اور 50,000 ملازمین کو روزگار فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پیداواری عمل کا 20 فیصد فضلہ اور بی/سی گریڈ مال مکمل کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد ہی مقامی مارکیٹ میں لایا جاتا ہے، جو کہ قانونی طور پر دستاویزی عمل ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی اپیل کی اور متبادل کے طور پر ای ایف ایس سہولت دینے کی تجویز پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈ) کے لیے  80/20 سہولت برقرار رکھے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت ستمبر 2026 تک زونز سے مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد فروخت پر مکمل پابندی لگانے اور 2035 تک ان زونز کو مرحلہ وار ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔</strong></p>
<p>میاں زاہد حسین نے خبردار کیا کہ اس سہولت کی واپسی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوگا اور درجنوں صنعتی یونٹس بند ہو سکتے ہیں۔ ای پی زیڈز سالانہ تقریباً 1 ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ کماتے ہیں اور 50,000 ملازمین کو روزگار فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پیداواری عمل کا 20 فیصد فضلہ اور بی/سی گریڈ مال مکمل کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد ہی مقامی مارکیٹ میں لایا جاتا ہے، جو کہ قانونی طور پر دستاویزی عمل ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی اپیل کی اور متبادل کے طور پر ای ایف ایس سہولت دینے کی تجویز پیش کی۔</p>
<p><em>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287198</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 12:58:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/07125225d5080a4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/07125225d5080a4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
