<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 12:24:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 07 Jun 2026 12:24:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی فنڈنگ سے جاری ترقیاتی منصوبے، بار بار درخواستوں کے باوجود حکومت روپے کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287186/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے ترقیاتی شراکت داروں اور منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے اداروں کی بار بار درخواستوں کے باوجود اربوں روپے مالیت کے غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں کے لیے بروقت روپے کی فراہمی (روپیہ کور) کے حوالے سے تاحال کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے مجوزہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2026-27 میں غیر ملکی مالی معاونت سے جاری درجنوں منصوبے شامل کیے ہیں، تاہم ان کی بروقت تکمیل کا انحصار وزارتِ خزانہ کی جانب سے روپے کی دستیابی پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں پاور ڈویژن نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو آگاہ کیا کہ غیر ملکی فنڈنگ والے منصوبے، جن میں درآمدی آلات کی لاگت مجموعی لاگت کا تقریباً 60 سے 75 فیصد ہے، غیر ملکی فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود روپے کی منظوری حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ اگرچہ غیر ملکی ادائیگیاں کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے ذریعے کی جاتی ہیں، تاہم پی ایس ڈی پی کے تحت روپے کی فراہمی محدود ہے، جس کے باعث آڈٹ اعتراضات اور منصوبوں میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ ان منصوبوں میں ادائیگیوں کا ایک بڑا حصہ تھرڈ پارٹی انتظامات کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس کے لیے پی ایس ڈی پی کے تحت روپے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ ادائیگیاں بیرونی ذرائع سے براہِ راست کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاخیر اور ممکنہ آڈٹ اعتراضات سے بچنے کے لیے قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارتِ خزانہ اور وزارتِ منصوبہ بندی غیر ملکی فنڈنگ والے منصوبوں میں تھرڈ پارٹی ادائیگیوں کے لیے روپے کی شرط پر نظرثانی کریں۔ کمیٹی نے مزید تجویز دی کہ غیر ملکی حصے اور تھرڈ پارٹی ادائیگیوں کو اس شرط سے استثنا دیا جائے تاکہ منصوبوں پر عمل درآمد تیز ہو، تاخیر اور لاگت میں اضافے سے بچا جا سکے، خصوصاً اس لیے کہ ان میں سے بیشتر منصوبے عالمی بینک سمیت مختلف کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے قرضوں سے چل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پی ایس ڈی پی کے تحت قومی اہمیت کے حامل غیر ملکی فنڈنگ والے منصوبوں کے لیے روپے کی فراہمی کے مسئلے کا جائزہ لینے اور اس کا حل نکالنے کے لیے ایک وزارتی کمیٹی قائم کی ہے، جس کی سربراہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کمیٹی کا اجلاس 30 اکتوبر 2025 کو منعقد ہوا تھا۔ اس کے علاوہ وزارتِ منصوبہ بندی، اقتصادی امور ڈویژن اور وزارتِ خزانہ کے سیکریٹریز پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس نے پاور ڈویژن سمیت مختلف متعلقہ وزارتوں اور فریقین کے ساتھ متعدد اجلاس کیے تاکہ پی ایس ڈی پی کے تحت روپے کی فراہمی، بالخصوص تھرڈ پارٹی اور براہِ راست ادائیگیوں سے متعلق مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ ذیلی کمیٹی کی سفارشات کو وزارتی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جب بھی یہ اجلاس طلب کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے ترقیاتی شراکت داروں اور منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے اداروں کی بار بار درخواستوں کے باوجود اربوں روپے مالیت کے غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں کے لیے بروقت روپے کی فراہمی (روپیہ کور) کے حوالے سے تاحال کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی۔</strong></p>
<p>وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے مجوزہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2026-27 میں غیر ملکی مالی معاونت سے جاری درجنوں منصوبے شامل کیے ہیں، تاہم ان کی بروقت تکمیل کا انحصار وزارتِ خزانہ کی جانب سے روپے کی دستیابی پر ہے۔</p>
<p>حال ہی میں پاور ڈویژن نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو آگاہ کیا کہ غیر ملکی فنڈنگ والے منصوبے، جن میں درآمدی آلات کی لاگت مجموعی لاگت کا تقریباً 60 سے 75 فیصد ہے، غیر ملکی فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود روپے کی منظوری حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ اگرچہ غیر ملکی ادائیگیاں کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے ذریعے کی جاتی ہیں، تاہم پی ایس ڈی پی کے تحت روپے کی فراہمی محدود ہے، جس کے باعث آڈٹ اعتراضات اور منصوبوں میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ ان منصوبوں میں ادائیگیوں کا ایک بڑا حصہ تھرڈ پارٹی انتظامات کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس کے لیے پی ایس ڈی پی کے تحت روپے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ ادائیگیاں بیرونی ذرائع سے براہِ راست کی جاتی ہیں۔</p>
<p>تاخیر اور ممکنہ آڈٹ اعتراضات سے بچنے کے لیے قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارتِ خزانہ اور وزارتِ منصوبہ بندی غیر ملکی فنڈنگ والے منصوبوں میں تھرڈ پارٹی ادائیگیوں کے لیے روپے کی شرط پر نظرثانی کریں۔ کمیٹی نے مزید تجویز دی کہ غیر ملکی حصے اور تھرڈ پارٹی ادائیگیوں کو اس شرط سے استثنا دیا جائے تاکہ منصوبوں پر عمل درآمد تیز ہو، تاخیر اور لاگت میں اضافے سے بچا جا سکے، خصوصاً اس لیے کہ ان میں سے بیشتر منصوبے عالمی بینک سمیت مختلف کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے قرضوں سے چل رہے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پی ایس ڈی پی کے تحت قومی اہمیت کے حامل غیر ملکی فنڈنگ والے منصوبوں کے لیے روپے کی فراہمی کے مسئلے کا جائزہ لینے اور اس کا حل نکالنے کے لیے ایک وزارتی کمیٹی قائم کی ہے، جس کی سربراہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس کمیٹی کا اجلاس 30 اکتوبر 2025 کو منعقد ہوا تھا۔ اس کے علاوہ وزارتِ منصوبہ بندی، اقتصادی امور ڈویژن اور وزارتِ خزانہ کے سیکریٹریز پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس نے پاور ڈویژن سمیت مختلف متعلقہ وزارتوں اور فریقین کے ساتھ متعدد اجلاس کیے تاکہ پی ایس ڈی پی کے تحت روپے کی فراہمی، بالخصوص تھرڈ پارٹی اور براہِ راست ادائیگیوں سے متعلق مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ ذیلی کمیٹی کی سفارشات کو وزارتی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جب بھی یہ اجلاس طلب کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287186</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 10:08:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/071001139046e97.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/071001139046e97.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
