<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 20:48:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 20:48:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>علاقائی استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ناگزیر ہے، پاکستان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287173/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو ایک سینئر پاکستانی سفارت کار نے بتایا کہ سلامتی کونسل کی حالیہ سالانہ رپورٹ میں دیرینہ تنازعات، کشمیر اور فلسطین کو اجاگر کیا گیا ہے جنہیں ان کے مطابق 15 رکنی ادارے کی اپنی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹنگ کی مدت (1 جنوری سے 31 دسمبر 2025) کے دوران مسئلہ پاک ہند سے متعلق 20 سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کی توجہ میں لائے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کونسل نے مئی 2025 میں اس ایجنڈا آئٹم کے تحت بند کمرے کا مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر عاصم احمد نے اس رپورٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے مسلسل اس کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ جولائی 2025 میں کونسل کے صدر کی حیثیت سے پاکستان نے اس رپورٹ کو مرتب کرنے اور اس کا مسودہ تیار کرنے میں تعاون کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا یہ ماننا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل ناگزیر ہے اور کشمیریوں کو ان کے حقِ خودارادیت کے استعمال کی اجازت ملنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب کے ان بیانات پر بھارتی سفیر پروا تھانینی ہریش نے ردِعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے جس پر پاکستانی مندوب گل قیصر سروانی نے سخت جوابی وار کرتے ہوئے نئی دہلی پر کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کے وعدہ کردہ حقِ خودارادیت سے محروم رکھنے کا الزام لگایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;193 رکنی اسمبلی سے اپنے خطاب میں سفیر عاصم احمد نے یہ بھی کہا کہ یہ سالانہ رپورٹ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو نمایاں کرتی ہے جن میں مسئلہ فلسطین اور جموں و کشمیر کا تنازع شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازعات علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور ان کا حل ہونا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ فلسطین پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ جاری المیہ، بالخصوص غزہ کی صورتحال کونسل کے ایجنڈے پر سرفہرست رہی۔ خونریزی کو روکنے میں بار بار کی ناکامیوں کے بعد کونسل نے قرارداد 2803 منظور کی جس میں غزہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی اور یہ امید کی ایک کرن بن کر سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ انتہائی ناگزیر ہے کہ قرارداد 2803 پر مکمل اور دیانتداری کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر جڑے ہوئے فلسطین کی ریاست کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر عاصم احمد نے کہا کہ یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور خصوصی سیاسی مشنز کے ناگزیر کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان امن مشنز کو مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ یہ مشنز موثر ہوں، انہیں مناسب وسائل فراہم کیے جائیں اور وہ ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو درپیش چیلنجز ایک زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ کثیر الجہتی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویٹو  کا استعمال رکن ممالک کے درمیان تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس لیے یہ واضح ہے کہ مستقل اراکین کی انفرادی تعداد میں اضافہ اور ویٹو کا حق ان مشترکہ مقاصد کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم سلامتی کونسل میں ایک ایسی جامع اصلاحات کے لیے پرعزم ہیں جو چند ممالک کے بجائے رکن ممالک کی ایک بڑی اکثریت کے مفادات سے مطابقت رکھتی ہو، یعنی سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے کوئی خاص مراعات نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے جواب کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان مشن کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سروانی نے بھارتی مندوب کو یاد دلایا کہ جموں و کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مغالطہ اس تنازع کی تاریخی، قانونی اور بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتی، جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل قیصر سروانی نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ بھارت کشمیری عوام کو ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے مسلسل محروم رکھ رہا ہے۔ دریں اثنا بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں من مانی گرفتاریاں، بنیادی آزادیوں پر پابندیاں، آبادیاتی تناسب کی تبدیلی  اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں جو کہ دستاویزی طور پر ریکارڈ کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے انکار کرکے بھارت اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو مسلسل پسِ پشت ڈال رہا ہے جس میں آرٹیکل 25 بھی شامل ہے جو رکن ممالک کو سلامتی کونسل کے فیصلوں کو تسلیم کرنے اور ان پر عمل کرنے کا پابند بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان کے خلاف الزامات لگا کر توجہ ہٹانے کی بھارتی کوششیں اس کے اپنے تشویشناک ریکارڈ کو نہیں چھپا سکتیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو ایک سینئر پاکستانی سفارت کار نے بتایا کہ سلامتی کونسل کی حالیہ سالانہ رپورٹ میں دیرینہ تنازعات، کشمیر اور فلسطین کو اجاگر کیا گیا ہے جنہیں ان کے مطابق 15 رکنی ادارے کی اپنی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹنگ کی مدت (1 جنوری سے 31 دسمبر 2025) کے دوران مسئلہ پاک ہند سے متعلق 20 سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کی توجہ میں لائے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کونسل نے مئی 2025 میں اس ایجنڈا آئٹم کے تحت بند کمرے کا مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیا تھا۔</p>
<p>سفیر عاصم احمد نے اس رپورٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے مسلسل اس کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ جولائی 2025 میں کونسل کے صدر کی حیثیت سے پاکستان نے اس رپورٹ کو مرتب کرنے اور اس کا مسودہ تیار کرنے میں تعاون کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا یہ ماننا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل ناگزیر ہے اور کشمیریوں کو ان کے حقِ خودارادیت کے استعمال کی اجازت ملنی چاہیے۔</p>
<p>پاکستانی مندوب کے ان بیانات پر بھارتی سفیر پروا تھانینی ہریش نے ردِعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے جس پر پاکستانی مندوب گل قیصر سروانی نے سخت جوابی وار کرتے ہوئے نئی دہلی پر کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کے وعدہ کردہ حقِ خودارادیت سے محروم رکھنے کا الزام لگایا۔</p>
<p>193 رکنی اسمبلی سے اپنے خطاب میں سفیر عاصم احمد نے یہ بھی کہا کہ یہ سالانہ رپورٹ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو نمایاں کرتی ہے جن میں مسئلہ فلسطین اور جموں و کشمیر کا تنازع شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازعات علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور ان کا حل ہونا ناگزیر ہے۔</p>
<p>مسئلہ فلسطین پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ جاری المیہ، بالخصوص غزہ کی صورتحال کونسل کے ایجنڈے پر سرفہرست رہی۔ خونریزی کو روکنے میں بار بار کی ناکامیوں کے بعد کونسل نے قرارداد 2803 منظور کی جس میں غزہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی اور یہ امید کی ایک کرن بن کر سامنے آئی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ انتہائی ناگزیر ہے کہ قرارداد 2803 پر مکمل اور دیانتداری کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر جڑے ہوئے فلسطین کی ریاست کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔</p>
<p>سفیر عاصم احمد نے کہا کہ یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور خصوصی سیاسی مشنز کے ناگزیر کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان امن مشنز کو مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ یہ مشنز موثر ہوں، انہیں مناسب وسائل فراہم کیے جائیں اور وہ ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو درپیش چیلنجز ایک زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ کثیر الجہتی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویٹو  کا استعمال رکن ممالک کے درمیان تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس لیے یہ واضح ہے کہ مستقل اراکین کی انفرادی تعداد میں اضافہ اور ویٹو کا حق ان مشترکہ مقاصد کے منافی ہے۔</p>
<p>ہم سلامتی کونسل میں ایک ایسی جامع اصلاحات کے لیے پرعزم ہیں جو چند ممالک کے بجائے رکن ممالک کی ایک بڑی اکثریت کے مفادات سے مطابقت رکھتی ہو، یعنی سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے کوئی خاص مراعات نہیں۔</p>
<p>اپنے جواب کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان مشن کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سروانی نے بھارتی مندوب کو یاد دلایا کہ جموں و کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مغالطہ اس تنازع کی تاریخی، قانونی اور بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتی، جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔</p>
<p>گل قیصر سروانی نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ بھارت کشمیری عوام کو ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے مسلسل محروم رکھ رہا ہے۔ دریں اثنا بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں من مانی گرفتاریاں، بنیادی آزادیوں پر پابندیاں، آبادیاتی تناسب کی تبدیلی  اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں جو کہ دستاویزی طور پر ریکارڈ کا حصہ ہیں۔</p>
<p>بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے انکار کرکے بھارت اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو مسلسل پسِ پشت ڈال رہا ہے جس میں آرٹیکل 25 بھی شامل ہے جو رکن ممالک کو سلامتی کونسل کے فیصلوں کو تسلیم کرنے اور ان پر عمل کرنے کا پابند بناتا ہے۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان کے خلاف الزامات لگا کر توجہ ہٹانے کی بھارتی کوششیں اس کے اپنے تشویشناک ریکارڈ کو نہیں چھپا سکتیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287173</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 15:59:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/06155808b42c97d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/06155808b42c97d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
