<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 01:53:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 01:53:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالیاتی خسارے پر قابو پانا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287137/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;10 جون 2026 کو وفاقی حکومت مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرے گی، اور حسبِ روایت اس موقع پر مالیاتی خسارے، بڑھتے ہوئے قرضوں، آئی ایم ایف کی شرائط اور اضافی ٹیکس عائد کرنے کی مبینہ ناگزیر ضرورت سے متعلق تنبیہات بھی سامنے آئیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بار پھر عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے گی کہ پاکستان کو محصولات کی کمی کا سامنا ہے۔ سرکاری مؤقف یہ ہے کہ مالیاتی استحکام کے لیے زیادہ ٹیکس عائد کرنا، ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید سخت بنانا اور معاشرے کے پہلے ہی ضرورت سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے طبقات سے مزید قربانیاں لینا ضروری ہے۔ تاہم حقائق ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً تین دہائیوں سے ان صفحات سمیت مختلف فورمز پر ’’کھربوں روپے کے ترک کردہ ٹیکسوں‘‘ ( فارگون ٹیکسز) کے مسئلے کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ حیران کن طور پر اس معاملے کو پالیسی سازی کے حلقوں میں بہت کم توجہ ملی۔ حالیہ برسوں میں وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی سرکاری رپورٹس، پاکستان اکنامک سرویز اور حتیٰ کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے مطالعات نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ خدشات نہ تو مبالغہ آمیز تھے اور نہ ہی بے بنیاد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مالیاتی خسارہ محض ناکافی ٹیکس وصولی کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ وہ کھربوں روپے ہیں جن سے حکومت ٹیکس اخراجات کی صورت میں خود دستبردار ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ اکنامک سرویز اور ایف بی آر کی ویب سائٹ سے حاصل کردہ درج ذیل سرکاری اعدادوشمار اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;pre&gt;&lt;code&gt;===========================================
Table: Tax Expenditure (2010-11 to 2024-25)
===========================================
Fiscal Year    Tax Expenditure (Rs billion)
===========================================
2010-11                               150.3
2011-12                               185.5
2012-13                               239.5
2013-14                               477.1
2014-15                               415.8
2015-16                               394.6
2016-17                               415.8
2017-18                               541.0
2018-19                               972.4
2019-20                                1150
2020-21                              1314.3
2021-22                   1482.3 GST on POL
                       waived in March 2022
2022-23         2239.6 Excluding GST on POL
2023-24         3879.2 Excluding GST on POL
2024-25         2434.7 Excluding GST on POL
===========================================
&lt;/code&gt;&lt;/pre&gt;
&lt;p&gt;یہ جدول ایک چونکا دینے والی حقیقت بے نقاب کرتا ہے۔ مالی سال 2010-11 سے مالی سال 2024-25 تک وفاقی ٹیکس اخراجات میں تقریباً سولہ گنا اضافہ ہوا۔ تازہ ترین تخمینے کے مطابق یہ رقم 2.435 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے (جس میں پیٹرولیم مصنوعات پر معاف شدہ سیلز ٹیکس شامل نہیں)۔ یہ رقم کئی صوبوں کے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہے اور اس مالیاتی خلا سے بھی کہیں بڑی ہے جسے حکومت بار بار نئے ٹیکس عائد کرنے کے جواز کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اگر ان مراعات اور رعایتوں کے صرف ایک حصے کو بھی معقول بنایا جاتا تو پاکستان کا مالیاتی خسارہ نمایاں حد تک کم ہو سکتا تھا اور بعض برسوں میں تو یہ خسارہ سرپلس میں بھی تبدیل ہو سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس اخراجات سے مراد وہ محصولات ہیں جن سے استثنیٰ، رعایتوں، اخراجات، ٹیکس کریڈٹس، ترجیحی شرحوں، خصوصی نظاموں اور ٹیکس ڈھانچے سے دیگر انحرافات کے ذریعے دستبرداری اختیار کی جاتی ہے۔ معاشی اعتبار سے یہ براہِ راست بجٹ اخراجات سے مختلف نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ وہ جانچ پڑتال نہیں جھیلتے جو عام طور پر بجٹ میں ظاہر کیے جانے والے اخراجات پر کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابل تقسیم  محاصل ( ڈیوائزایبل پول ٹیکسز) میں دی جانے والی وفاقی ٹیکس رعایت کا ہر روپیہ نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ صوبوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ 1973 کا آئین قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو وفاقی ٹیکس محصولات میں حصہ دینے کی ضمانت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب وفاقی حکام استثنیٰ اور رعایتوں کی صورت میں کھربوں روپے کے محصولات سے دستبردار ہوتے ہیں تو اسی وقت صوبے تعلیم، صحت، بلدیاتی نظام، بنیادی ڈھانچے اور سماجی تحفظ کے لیے درکار وسائل سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ اس سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: آخر کس آئینی منطق کے تحت مخصوص فائدہ اٹھانے والوں کو ترجیحی ٹیکس مراعات دی جائیں جبکہ صوبے ان وسائل سے محروم ہو جائیں جو آئینی طور پر ان کے شہریوں کے لیے مختص ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس اخراجات پر بحث محض مالیاتی مسئلہ نہیں بلکہ وفاق کے اندر اختیارات، وسائل اور مواقع کی تقسیم سے بھی جڑی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پائیڈ کے حالیہ مطالعے نے بھی اسی قدر تشویشناک نتیجہ اخذ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکس مراعات کی افادیت جانچنے کے لیے سخت گیر لاگت و فائدہ تجزیے ( کاسٹ بینیفٹ اینالیسز)، بامعنی جائزے اور مؤثر ادارہ جاتی نگرانی کا فقدان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ یا سماجی مقاصد کے نام پر اکثر استثنیٰ اور رعایتیں دی جاتی ہیں، لیکن شاذ و نادر ہی اس بات کے شواہد پیش کیے جاتے ہیں کہ آیا یہ مقاصد واقعی حاصل بھی ہوئے یا نہیں۔ بہت سی مراعات اپنی اصل وجہ ختم ہو جانے کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں، جبکہ بعض درحقیقت عوامی وسائل کی قیمت پر محدود گروہوں کو فائدہ پہنچانے والی پوشیدہ سبسڈیز کا کردار ادا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر معمولی صورتحال میں پہلی اور فوری اصلاح یہ ہونی چاہیے کہ تمام ٹیکس اخراجات کا جامع جائزہ لیا جائے۔ ہر رعایت کو سالانہ جانچ پڑتال کے عمل سے گزارا جائے، اس کے ساتھ ایک مقررہ مدتِ اختتام ( سن سیٹ کلاز) رکھی جائے اور قابلِ پیمائش معاشی و سماجی فوائد کی عدم موجودگی میں اسے خودکار طور پر ختم کر دیا جائے۔ موجودہ ٹیکس اخراجات میں صرف ایک تہائی کمی بھی سیکڑوں ارب روپے کے اضافی وسائل فراہم کر سکتی ہے، جس سے رجعت پسندانہ ٹیکسوں اور قرضوں پر انحصار نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری اصلاح کا تعلق پاکستان میں غیر ٹیکس شدہ دولت کے ایک ایسے ذریعے سے ہے جو سب سے زیادہ تحفظ یافتہ سمجھا جاتا ہے: زرعی اراضی سے حاصل ہونے والا کرایہ یا منافع ( ایگری کلچرل لینڈ رینٹ)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی دہائیوں سے عوامی مباحثے میں چھوٹے کاشتکاروں اور بڑے زمینداروں کے مفادات کو خلط ملط کیا جاتا رہا ہے، حالانکہ یہ دو بالکل مختلف معاملات ہیں۔ موسمیاتی جھٹکوں، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور کم ہوتی پیداواریت کا سامنا کرنے والے چھوٹے کاشتکار یقیناً تحفظ اور معاونت کے مستحق ہیں، لیکن زمین کی ملکیت سے خاطر خواہ آمدن حاصل کرنے والے بڑے زرعی جاگیردار یا رینٹ لینے والے طبقے کو اسی زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زرعی آمدن&lt;/strong&gt; کی اصل تعریف، جو 1922 کے انکم ٹیکس ایکٹ میں دی گئی تھی، زرعی سرگرمیوں اور کاشت کاری پر مبنی تھی۔ اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ بڑے زمینداروں کو مکمل مالیاتی استثنیٰ فراہم کر دیا جائے۔ یہ رعایت صرف اس آمدن کے لیے تھی جو زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی زمین اور اس پر انجام دی جانے والی زرعی سرگرمیوں سے حاصل ہوتی تھی۔ تاہم بعد کی دہائیوں میں ایک سیاسی بگاڑ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں زراعت کے آئینی تحفظ کا تصور بتدریج زرعی زمین سے حاصل ہونے والے کرائے اور جاگیردارانہ مراعات کے تحفظ میں تبدیل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل 2026 میں کاشت کاری سے حاصل ہونے والی آمدن اور زرعی زمین کی ملکیت سے حاصل ہونے والی آمدن میں واضح فرق کیا جانا چاہیے۔ چھوٹے کاشتکار تحفظ اور معاونت کے مستحق ہیں، نہ کہ ٹیکسوں کے۔ اس کے برعکس، غیر حاضر مالکان اور بڑے زمینداروں کو زمین کی ملکیت کی بنیاد پر حاصل ہونے والا زرعی کرایہ ایک الگ معاشی زمرہ ہے اور اسے ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے۔ ایسا امتیاز نہ صرف کلاسیکی اصولِ مالیاتِ عامہ سے مطابقت رکھتا ہے بلکہ 1922 کے انکم ٹیکس ایکٹ کی اصل روح کے بھی عین مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری اصلاح کا تعلق پاکستان کے انکم ٹیکس نظام کے منتشر اور پیچیدہ ڈھانچے سے ہے۔ موجودہ نظام جامع آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کے بنیادی اصول سے ہٹ چکا ہے۔ علیحدہ ٹیکس بلاکس، فائنل ٹیکسیشن نظام، کم از کم ٹیکس، قیاسی (مفروضہ بنیادوں پر عائد ٹیکس) ٹیکس اور بے شمار خصوصی دفعات نے ایک ایسا نظام تشکیل دے دیا ہے جو پیچیدگی، عدم مساوات اور قانونی تنازعات سے بھرپور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی تمام آمدن کو، متعلقہ آمدنی کے زمرے کے مطابق حساب لگانے کے بعد، ایک واحد قابلِ ٹیکس بنیاد میں جمع کیا جانا چاہیے تاکہ مختلف النوع خصوصی سلوک کا خاتمہ ہو۔ اسی طرح آمدن کی مختلف اقسام کے درمیان مصنوعی تفریق بھی ختم کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طریقۂ کار کے تحت قابلِ ٹیکس آمدن کا تعین کرنے کے بعد ایک سادہ نظام نافذ کیا جا سکتا ہے، جس میں سالانہ 12 لاکھ روپے تک کی آمدن کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ 12 لاکھ روپے سے زائد اور 36 لاکھ روپے تک کی آمدن پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہو۔ 36 لاکھ روپے سے زائد اور 60 لاکھ روپے تک کی آمدن پر 15 فیصد جبکہ 60 لاکھ روپے سے زیادہ آمدن پر 25 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے۔ اسی کے ساتھ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح بھی کم کر کے 25 فیصد کر دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ضرورت محسوس ہو تو 20 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد پر اضافی منافع ٹیکس یا کاروباری منافع ٹیکس الگ قانون سازی کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی کیا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع ٹیکس بنیاد اور معتدل شرحوں پر مشتمل نظام ہمیشہ اس محدود ٹیکس بنیاد سے بہتر نتائج دیتا ہے جس پر غیر معمولی ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے مالیاتی چیلنجز ایک اور طویل عرصے سے نظر انداز کیے جانے والے آئینی مسئلے کے حل کے بھی متقاضی ہیں: سیلز ٹیکس کا منتشر نظام۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشیا پر وفاقی سیلز ٹیکس اور خدمات پر صوبائی سیلز ٹیکس کے درمیان تقسیم نے اختیارات کے باہمی تصادم، متعدد تعمیلی نظاموں (کمپلائنس ریجیمز)، ٹیکس پر ٹیکس کے اثرات (کیسکیڈنگ ٹیکسیشن) اور نمایاں انتظامی نااہلیوں کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حدود سے ماورا خدمات اور ایک سے زائد صوبوں میں کام کرنے والے اداروں کے لیے ہم آہنگ ٹیکس نظام ناگزیر ہے۔ ایسے شعبوں کو ایک متحدہ وفاقی فریم ورک میں شامل کرنے سے نہ صرف انتظامی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ محصولات میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ ماضی میں کیے گئے مطالعات کے مطابق، بین الصوبائی خدمات پر جامع ٹیکس نظام نافذ کرنے سے مربوط انتظام اور محصولات کے ضیاع کا سدباب کرکے وقت کے ساتھ تقریباً 3 سے 4 کھرب روپے کی اضافی آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف یہی صلاحیت پاکستان کے مالیاتی منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی صوبائی حکومتوں کو وفاقی مالیاتی منتقلیوں پر اپنی حد سے زیادہ انحصار کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے صوبوں کو زرعی آمدن، زرعی اراضی، شہری غیر منقولہ جائیداد، خدمات اور مقامی معاشی سرگرمیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہیں، لیکن بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں صوبائی سطح پر ٹیکس وصولی انتہائی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامیاب وفاقی نظاموں میں ذیلی قومی حکومتیں اپنے وسائل کا بڑا حصہ خود جمع کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت کی ریاستیں اپنی ٹیکس عائد کرنے کی صلاحیت کے ذریعے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 8 فیصد کے برابر محصولات اکٹھے کرتی ہیں۔ پاکستان کے صوبوں کو بھی کم از کم جی ڈی پی کے 5 سے 8 فیصد کے مساوی محصولات جمع کرنے کا ہدف رکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر صوبے اپنے آئینی اختیارات کو مؤثر انداز میں استعمال کریں اور وفاق ٹیکس اخراجات کو معقول بنائے، زرعی کرایہ کو ٹیکس نیٹ میں لائے، بین الصوبائی ٹیکس نظام کو مربوط کرے اور جامع انکم ٹیکس نظام نافذ کرے تو پاکستان کا دائمی مالیاتی خسارہ بڑی حد تک ختم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورت میں ملک کو کمزور ٹیکس پالیسی کی تلافی کے لیے پٹرولیم لیوی پر غیر معمولی انحصار کی ضرورت نہیں رہے گی۔ قرضوں پر انحصار کم ہوگا، کارپوریٹ ٹیکس بین الاقوامی سطح پر زیادہ مسابقتی بن سکے گا اور ذاتی آمدن پر ٹیکس کا نظام زیادہ سادہ، منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے سالانہ وفاقی بجٹ کے گرد ہونے والی بحث ایک غلط مفروضے سے شروع ہوتی ہے۔ پاکستان کو قابلِ ٹیکس صلاحیت کی کمی کا سامنا نہیں، بلکہ مسئلہ ایسی پالیسیوں کا ہے جو انصاف کے بجائے استثنیٰ، سادگی کے بجائے انتشار اور آئینی مالیاتی انصاف کے بجائے مراعات یافتہ طبقوں کو ترجیح دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل چیلنج نئے ٹیکس دہندگان تلاش کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ طاقتور مفاداتی گروہوں کو ٹیکس نظام کے ذریعے دی جانے والی پوشیدہ مراعات کا خاتمہ کیا جائے، جبکہ دوسری جانب حکمرانی کے لیے وسائل کی کمی کا شکوہ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی خودمختاری اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کھربوں روپے ٹیکس رعایتوں کی نذر ہوتے رہیں، معاشی منفعت کے بڑے ذرائع ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں اور آئین کے تحت حاصل ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات پوری طرح استعمال نہ کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سازوں کے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے: یا تو قواعد کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈال کر اور قرضوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کے ذریعے خساروں کا انتظام جاری رکھا جائے، یا پھر ان ساختی بگاڑوں کو ختم کیا جائے جو سرے سے ان خساروں کو جنم دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا راستہ ملک کو قرضوں کی معیشت ( ڈیٹاکریسی) میں مزید جکڑ دے گا، جبکہ دوسرا راستہ حقیقی مالیاتی پائیداری اور آئینی وفاقیت کی جانب پیش رفت کا موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>10 جون 2026 کو وفاقی حکومت مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرے گی، اور حسبِ روایت اس موقع پر مالیاتی خسارے، بڑھتے ہوئے قرضوں، آئی ایم ایف کی شرائط اور اضافی ٹیکس عائد کرنے کی مبینہ ناگزیر ضرورت سے متعلق تنبیہات بھی سامنے آئیں گی۔</strong></p>
<p>ایک بار پھر عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے گی کہ پاکستان کو محصولات کی کمی کا سامنا ہے۔ سرکاری مؤقف یہ ہے کہ مالیاتی استحکام کے لیے زیادہ ٹیکس عائد کرنا، ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید سخت بنانا اور معاشرے کے پہلے ہی ضرورت سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے طبقات سے مزید قربانیاں لینا ضروری ہے۔ تاہم حقائق ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>تقریباً تین دہائیوں سے ان صفحات سمیت مختلف فورمز پر ’’کھربوں روپے کے ترک کردہ ٹیکسوں‘‘ ( فارگون ٹیکسز) کے مسئلے کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ حیران کن طور پر اس معاملے کو پالیسی سازی کے حلقوں میں بہت کم توجہ ملی۔ حالیہ برسوں میں وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی سرکاری رپورٹس، پاکستان اکنامک سرویز اور حتیٰ کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے مطالعات نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ خدشات نہ تو مبالغہ آمیز تھے اور نہ ہی بے بنیاد۔</p>
<p>پاکستان کا مالیاتی خسارہ محض ناکافی ٹیکس وصولی کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ وہ کھربوں روپے ہیں جن سے حکومت ٹیکس اخراجات کی صورت میں خود دستبردار ہو جاتی ہے۔</p>
<p>سالانہ اکنامک سرویز اور ایف بی آر کی ویب سائٹ سے حاصل کردہ درج ذیل سرکاری اعدادوشمار اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں:</p>
<pre><code>===========================================
Table: Tax Expenditure (2010-11 to 2024-25)
===========================================
Fiscal Year    Tax Expenditure (Rs billion)
===========================================
2010-11                               150.3
2011-12                               185.5
2012-13                               239.5
2013-14                               477.1
2014-15                               415.8
2015-16                               394.6
2016-17                               415.8
2017-18                               541.0
2018-19                               972.4
2019-20                                1150
2020-21                              1314.3
2021-22                   1482.3 GST on POL
                       waived in March 2022
2022-23         2239.6 Excluding GST on POL
2023-24         3879.2 Excluding GST on POL
2024-25         2434.7 Excluding GST on POL
===========================================
</code></pre>
<p>یہ جدول ایک چونکا دینے والی حقیقت بے نقاب کرتا ہے۔ مالی سال 2010-11 سے مالی سال 2024-25 تک وفاقی ٹیکس اخراجات میں تقریباً سولہ گنا اضافہ ہوا۔ تازہ ترین تخمینے کے مطابق یہ رقم 2.435 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے (جس میں پیٹرولیم مصنوعات پر معاف شدہ سیلز ٹیکس شامل نہیں)۔ یہ رقم کئی صوبوں کے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہے اور اس مالیاتی خلا سے بھی کہیں بڑی ہے جسے حکومت بار بار نئے ٹیکس عائد کرنے کے جواز کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اگر ان مراعات اور رعایتوں کے صرف ایک حصے کو بھی معقول بنایا جاتا تو پاکستان کا مالیاتی خسارہ نمایاں حد تک کم ہو سکتا تھا اور بعض برسوں میں تو یہ خسارہ سرپلس میں بھی تبدیل ہو سکتا تھا۔</p>
<p>ٹیکس اخراجات سے مراد وہ محصولات ہیں جن سے استثنیٰ، رعایتوں، اخراجات، ٹیکس کریڈٹس، ترجیحی شرحوں، خصوصی نظاموں اور ٹیکس ڈھانچے سے دیگر انحرافات کے ذریعے دستبرداری اختیار کی جاتی ہے۔ معاشی اعتبار سے یہ براہِ راست بجٹ اخراجات سے مختلف نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ وہ جانچ پڑتال نہیں جھیلتے جو عام طور پر بجٹ میں ظاہر کیے جانے والے اخراجات پر کی جاتی ہے۔</p>
<p>قابل تقسیم  محاصل ( ڈیوائزایبل پول ٹیکسز) میں دی جانے والی وفاقی ٹیکس رعایت کا ہر روپیہ نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ صوبوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ 1973 کا آئین قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو وفاقی ٹیکس محصولات میں حصہ دینے کی ضمانت دیتا ہے۔</p>
<p>جب وفاقی حکام استثنیٰ اور رعایتوں کی صورت میں کھربوں روپے کے محصولات سے دستبردار ہوتے ہیں تو اسی وقت صوبے تعلیم، صحت، بلدیاتی نظام، بنیادی ڈھانچے اور سماجی تحفظ کے لیے درکار وسائل سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ اس سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: آخر کس آئینی منطق کے تحت مخصوص فائدہ اٹھانے والوں کو ترجیحی ٹیکس مراعات دی جائیں جبکہ صوبے ان وسائل سے محروم ہو جائیں جو آئینی طور پر ان کے شہریوں کے لیے مختص ہیں؟</p>
<p>ٹیکس اخراجات پر بحث محض مالیاتی مسئلہ نہیں بلکہ وفاق کے اندر اختیارات، وسائل اور مواقع کی تقسیم سے بھی جڑی ہوئی ہے۔</p>
<p>پائیڈ کے حالیہ مطالعے نے بھی اسی قدر تشویشناک نتیجہ اخذ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکس مراعات کی افادیت جانچنے کے لیے سخت گیر لاگت و فائدہ تجزیے ( کاسٹ بینیفٹ اینالیسز)، بامعنی جائزے اور مؤثر ادارہ جاتی نگرانی کا فقدان ہے۔</p>
<p>صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ یا سماجی مقاصد کے نام پر اکثر استثنیٰ اور رعایتیں دی جاتی ہیں، لیکن شاذ و نادر ہی اس بات کے شواہد پیش کیے جاتے ہیں کہ آیا یہ مقاصد واقعی حاصل بھی ہوئے یا نہیں۔ بہت سی مراعات اپنی اصل وجہ ختم ہو جانے کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں، جبکہ بعض درحقیقت عوامی وسائل کی قیمت پر محدود گروہوں کو فائدہ پہنچانے والی پوشیدہ سبسڈیز کا کردار ادا کرتی ہیں۔</p>
<p>اس غیر معمولی صورتحال میں پہلی اور فوری اصلاح یہ ہونی چاہیے کہ تمام ٹیکس اخراجات کا جامع جائزہ لیا جائے۔ ہر رعایت کو سالانہ جانچ پڑتال کے عمل سے گزارا جائے، اس کے ساتھ ایک مقررہ مدتِ اختتام ( سن سیٹ کلاز) رکھی جائے اور قابلِ پیمائش معاشی و سماجی فوائد کی عدم موجودگی میں اسے خودکار طور پر ختم کر دیا جائے۔ موجودہ ٹیکس اخراجات میں صرف ایک تہائی کمی بھی سیکڑوں ارب روپے کے اضافی وسائل فراہم کر سکتی ہے، جس سے رجعت پسندانہ ٹیکسوں اور قرضوں پر انحصار نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔</p>
<p>دوسری اصلاح کا تعلق پاکستان میں غیر ٹیکس شدہ دولت کے ایک ایسے ذریعے سے ہے جو سب سے زیادہ تحفظ یافتہ سمجھا جاتا ہے: زرعی اراضی سے حاصل ہونے والا کرایہ یا منافع ( ایگری کلچرل لینڈ رینٹ)۔</p>
<p>کئی دہائیوں سے عوامی مباحثے میں چھوٹے کاشتکاروں اور بڑے زمینداروں کے مفادات کو خلط ملط کیا جاتا رہا ہے، حالانکہ یہ دو بالکل مختلف معاملات ہیں۔ موسمیاتی جھٹکوں، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور کم ہوتی پیداواریت کا سامنا کرنے والے چھوٹے کاشتکار یقیناً تحفظ اور معاونت کے مستحق ہیں، لیکن زمین کی ملکیت سے خاطر خواہ آمدن حاصل کرنے والے بڑے زرعی جاگیردار یا رینٹ لینے والے طبقے کو اسی زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔</p>
<p><strong>زرعی آمدن</strong> کی اصل تعریف، جو 1922 کے انکم ٹیکس ایکٹ میں دی گئی تھی، زرعی سرگرمیوں اور کاشت کاری پر مبنی تھی۔ اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ بڑے زمینداروں کو مکمل مالیاتی استثنیٰ فراہم کر دیا جائے۔ یہ رعایت صرف اس آمدن کے لیے تھی جو زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی زمین اور اس پر انجام دی جانے والی زرعی سرگرمیوں سے حاصل ہوتی تھی۔ تاہم بعد کی دہائیوں میں ایک سیاسی بگاڑ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں زراعت کے آئینی تحفظ کا تصور بتدریج زرعی زمین سے حاصل ہونے والے کرائے اور جاگیردارانہ مراعات کے تحفظ میں تبدیل ہو گیا۔</p>
<p>فنانس بل 2026 میں کاشت کاری سے حاصل ہونے والی آمدن اور زرعی زمین کی ملکیت سے حاصل ہونے والی آمدن میں واضح فرق کیا جانا چاہیے۔ چھوٹے کاشتکار تحفظ اور معاونت کے مستحق ہیں، نہ کہ ٹیکسوں کے۔ اس کے برعکس، غیر حاضر مالکان اور بڑے زمینداروں کو زمین کی ملکیت کی بنیاد پر حاصل ہونے والا زرعی کرایہ ایک الگ معاشی زمرہ ہے اور اسے ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے۔ ایسا امتیاز نہ صرف کلاسیکی اصولِ مالیاتِ عامہ سے مطابقت رکھتا ہے بلکہ 1922 کے انکم ٹیکس ایکٹ کی اصل روح کے بھی عین مطابق ہے۔</p>
<p>تیسری اصلاح کا تعلق پاکستان کے انکم ٹیکس نظام کے منتشر اور پیچیدہ ڈھانچے سے ہے۔ موجودہ نظام جامع آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کے بنیادی اصول سے ہٹ چکا ہے۔ علیحدہ ٹیکس بلاکس، فائنل ٹیکسیشن نظام، کم از کم ٹیکس، قیاسی (مفروضہ بنیادوں پر عائد ٹیکس) ٹیکس اور بے شمار خصوصی دفعات نے ایک ایسا نظام تشکیل دے دیا ہے جو پیچیدگی، عدم مساوات اور قانونی تنازعات سے بھرپور ہے۔</p>
<p>مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی تمام آمدن کو، متعلقہ آمدنی کے زمرے کے مطابق حساب لگانے کے بعد، ایک واحد قابلِ ٹیکس بنیاد میں جمع کیا جانا چاہیے تاکہ مختلف النوع خصوصی سلوک کا خاتمہ ہو۔ اسی طرح آمدن کی مختلف اقسام کے درمیان مصنوعی تفریق بھی ختم کی جانی چاہیے۔</p>
<p>اس طریقۂ کار کے تحت قابلِ ٹیکس آمدن کا تعین کرنے کے بعد ایک سادہ نظام نافذ کیا جا سکتا ہے، جس میں سالانہ 12 لاکھ روپے تک کی آمدن کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ 12 لاکھ روپے سے زائد اور 36 لاکھ روپے تک کی آمدن پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہو۔ 36 لاکھ روپے سے زائد اور 60 لاکھ روپے تک کی آمدن پر 15 فیصد جبکہ 60 لاکھ روپے سے زیادہ آمدن پر 25 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے۔ اسی کے ساتھ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح بھی کم کر کے 25 فیصد کر دی جائے۔</p>
<p>اگر ضرورت محسوس ہو تو 20 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد پر اضافی منافع ٹیکس یا کاروباری منافع ٹیکس الگ قانون سازی کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی کیا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>وسیع ٹیکس بنیاد اور معتدل شرحوں پر مشتمل نظام ہمیشہ اس محدود ٹیکس بنیاد سے بہتر نتائج دیتا ہے جس پر غیر معمولی ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہو۔</p>
<p>پاکستان کے مالیاتی چیلنجز ایک اور طویل عرصے سے نظر انداز کیے جانے والے آئینی مسئلے کے حل کے بھی متقاضی ہیں: سیلز ٹیکس کا منتشر نظام۔</p>
<p>اشیا پر وفاقی سیلز ٹیکس اور خدمات پر صوبائی سیلز ٹیکس کے درمیان تقسیم نے اختیارات کے باہمی تصادم، متعدد تعمیلی نظاموں (کمپلائنس ریجیمز)، ٹیکس پر ٹیکس کے اثرات (کیسکیڈنگ ٹیکسیشن) اور نمایاں انتظامی نااہلیوں کو جنم دیا ہے۔</p>
<p>صوبائی حدود سے ماورا خدمات اور ایک سے زائد صوبوں میں کام کرنے والے اداروں کے لیے ہم آہنگ ٹیکس نظام ناگزیر ہے۔ ایسے شعبوں کو ایک متحدہ وفاقی فریم ورک میں شامل کرنے سے نہ صرف انتظامی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ محصولات میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ ماضی میں کیے گئے مطالعات کے مطابق، بین الصوبائی خدمات پر جامع ٹیکس نظام نافذ کرنے سے مربوط انتظام اور محصولات کے ضیاع کا سدباب کرکے وقت کے ساتھ تقریباً 3 سے 4 کھرب روپے کی اضافی آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>صرف یہی صلاحیت پاکستان کے مالیاتی منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی صوبائی حکومتوں کو وفاقی مالیاتی منتقلیوں پر اپنی حد سے زیادہ انحصار کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔</p>
<p>پاکستان کے صوبوں کو زرعی آمدن، زرعی اراضی، شہری غیر منقولہ جائیداد، خدمات اور مقامی معاشی سرگرمیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہیں، لیکن بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں صوبائی سطح پر ٹیکس وصولی انتہائی کم ہے۔</p>
<p>کامیاب وفاقی نظاموں میں ذیلی قومی حکومتیں اپنے وسائل کا بڑا حصہ خود جمع کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت کی ریاستیں اپنی ٹیکس عائد کرنے کی صلاحیت کے ذریعے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 8 فیصد کے برابر محصولات اکٹھے کرتی ہیں۔ پاکستان کے صوبوں کو بھی کم از کم جی ڈی پی کے 5 سے 8 فیصد کے مساوی محصولات جمع کرنے کا ہدف رکھنا چاہیے۔</p>
<p>اگر صوبے اپنے آئینی اختیارات کو مؤثر انداز میں استعمال کریں اور وفاق ٹیکس اخراجات کو معقول بنائے، زرعی کرایہ کو ٹیکس نیٹ میں لائے، بین الصوبائی ٹیکس نظام کو مربوط کرے اور جامع انکم ٹیکس نظام نافذ کرے تو پاکستان کا دائمی مالیاتی خسارہ بڑی حد تک ختم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ایسی صورت میں ملک کو کمزور ٹیکس پالیسی کی تلافی کے لیے پٹرولیم لیوی پر غیر معمولی انحصار کی ضرورت نہیں رہے گی۔ قرضوں پر انحصار کم ہوگا، کارپوریٹ ٹیکس بین الاقوامی سطح پر زیادہ مسابقتی بن سکے گا اور ذاتی آمدن پر ٹیکس کا نظام زیادہ سادہ، منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی ہو جائے گا۔</p>
<p>بدقسمتی سے سالانہ وفاقی بجٹ کے گرد ہونے والی بحث ایک غلط مفروضے سے شروع ہوتی ہے۔ پاکستان کو قابلِ ٹیکس صلاحیت کی کمی کا سامنا نہیں، بلکہ مسئلہ ایسی پالیسیوں کا ہے جو انصاف کے بجائے استثنیٰ، سادگی کے بجائے انتشار اور آئینی مالیاتی انصاف کے بجائے مراعات یافتہ طبقوں کو ترجیح دیتی ہیں۔</p>
<p>اصل چیلنج نئے ٹیکس دہندگان تلاش کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ طاقتور مفاداتی گروہوں کو ٹیکس نظام کے ذریعے دی جانے والی پوشیدہ مراعات کا خاتمہ کیا جائے، جبکہ دوسری جانب حکمرانی کے لیے وسائل کی کمی کا شکوہ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>مالیاتی خودمختاری اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کھربوں روپے ٹیکس رعایتوں کی نذر ہوتے رہیں، معاشی منفعت کے بڑے ذرائع ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں اور آئین کے تحت حاصل ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات پوری طرح استعمال نہ کیے جائیں۔</p>
<p>پالیسی سازوں کے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے: یا تو قواعد کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈال کر اور قرضوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کے ذریعے خساروں کا انتظام جاری رکھا جائے، یا پھر ان ساختی بگاڑوں کو ختم کیا جائے جو سرے سے ان خساروں کو جنم دیتے ہیں۔</p>
<p>پہلا راستہ ملک کو قرضوں کی معیشت ( ڈیٹاکریسی) میں مزید جکڑ دے گا، جبکہ دوسرا راستہ حقیقی مالیاتی پائیداری اور آئینی وفاقیت کی جانب پیش رفت کا موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287137</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 16:47:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/05154021af9a587.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/05154021af9a587.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
