<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Commodities</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 19:58:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 19:58:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیج میں کشیدگی کے باعث ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح پر برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287071/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیج میں تازہ ترین کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سرمایہ کاروں میں خطرہ مول لینے کے رجحان میں کمی کے نتیجے میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب اپنی حالیہ مضبوطی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ دوسری جانب جاپانی ین 160 کی اہم نفسیاتی سطح کے آس پاس ہی گردش کرتا رہا جس نے ٹریڈرز کو مارکیٹ میں ممکنہ مداخلت کے الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو کویت پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں وہاں کے ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے ہیں۔ ان واقعات نے پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور جنگ کے سفارتی خاتمے کی امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.1604 ڈالر پر برقرار رہا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3424 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور ایشیائی مارکیٹ میں دونوں کرنسیاں مجموعی طور پر مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے لیے حساس تصور کیا جانے والا آسٹریلوی ڈالر 0.7132 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر ایک ہفتے کی کم ترین سطح سے سنبھلتے ہوئے  0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 0.5872 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 99.47 پر آ گیا، اس سے پچھلے کاروباری سیشن میں یہ انڈیکس 7 اپریل کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح کو چھو چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی بی سی کے فاریکس  اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ کا کہنا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں اور عالمی بانڈ منافع میں دوبارہ اضافے کے ساتھ ہی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سیف ہیون کے طور پر امریکی ڈالر کی حیثیت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امریکی ڈالر کی قیمتوں میں کسی بڑی مندی کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں ہے۔ بینک اس وقت غیر جانبدار پوزیشن پر قائم ہے اور ڈالر کے مضبوط لیکن ایک خاص حد کے اندر ہی برقرار رہنے  کی توقع رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی اعدادوشمار کے محاذ پر بدھ کو سامنے آنے والے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی سروسز بزنسزکی جانب سے ادا کی جانے والی قیمتوں کا انڈیکس چھلانگ لگا کر گزشتہ تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس چیز نے ماہرینِ معیشت کے اس نقطہِ نظر کو مزید تقویت دی ہے کہ فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) اگلے سال کے کافی حصے تک شرحِ سود کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 159.91 کی سطح پر ٹریڈ ہوا جو کہ بدھ کو ریکارڈ کی جانے والی ان نچلی ترین سطحوں سے کچھ بہتر پوزیشن ہے جس کے باعث ین 30 اپریل کے بعد پہلی بار 160 کی اہم ترین (کریٹیکل) حد کو پار کر گیا تھا اور حکام کی جانب سے زبانی انتباہ  کا باعث بنا تھا۔ مارکیٹوں میں 160 کی اس سطح کو بڑے پیمانے پر ایک ایسی آخری حد کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں سے حکومت کی جانب سے مارکیٹ میں باقاعدہ مداخلت کا امکان شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف جاپان کے گورنر کازوؤ یوئیدا کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کے خطرات معاشی سست روی کے خطرات سے بڑھ جائیں تو مرکزی بینک کو شرحِ سود بڑھانے کے فائدے اور نقصان پر لازمی بحث کرنی چاہیے، ان کے اس تبصرے کو اسی ماہ شرحِ سود میں اضافے کے قوی امکان کے سگنل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برکلیز  میں جاپان ریسرچ کے سربراہ اور چیف جاپان اکانومسٹ ناوہیکو بابا نے لکھا کہ  اگرچہ انہوں نے جون کے اجلاس میں شرحِ سود بڑھانے کا واضح اشارہ دینے سے گریز کیا لیکن انہوں نے اس مرحلے پر جتنا ممکن ہو سکتا تھا اتنی گراؤنڈ ورک کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا ک مرکزی بینک کا سخت جارحانہ مؤقف اب مزید مضبوط ہوگیا ہے جس میں وقت پر فیصلہ نہ کر پانے کے خطرے  پر تشویش کا واضح اظہار بھی شامل ہے۔ ہم جون میں شرحِ سود بڑھائے جانے کے اپنے اندازے پر قائم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بٹ کوائن گر کر چار ماہ کی نچلی ترین سطح پر آ گیا اور 2.8 فیصد کی مندی کے ساتھ 63,119.5 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ ایتھر بھی اسی طرح چار ماہ کی نچلی ترین سطح کو چھوتے ہوئے 1,786 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیج میں تازہ ترین کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سرمایہ کاروں میں خطرہ مول لینے کے رجحان میں کمی کے نتیجے میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب اپنی حالیہ مضبوطی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ دوسری جانب جاپانی ین 160 کی اہم نفسیاتی سطح کے آس پاس ہی گردش کرتا رہا جس نے ٹریڈرز کو مارکیٹ میں ممکنہ مداخلت کے الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔</strong></p>
<p>بدھ کو کویت پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں وہاں کے ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے ہیں۔ ان واقعات نے پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور جنگ کے سفارتی خاتمے کی امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔</p>
<p>یورو 1.1604 ڈالر پر برقرار رہا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3424 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور ایشیائی مارکیٹ میں دونوں کرنسیاں مجموعی طور پر مستحکم رہیں۔</p>
<p>مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے لیے حساس تصور کیا جانے والا آسٹریلوی ڈالر 0.7132 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر ایک ہفتے کی کم ترین سطح سے سنبھلتے ہوئے  0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 0.5872 ڈالر پر آ گیا۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 99.47 پر آ گیا، اس سے پچھلے کاروباری سیشن میں یہ انڈیکس 7 اپریل کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح کو چھو چکا تھا۔</p>
<p>او سی بی سی کے فاریکس  اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ کا کہنا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں اور عالمی بانڈ منافع میں دوبارہ اضافے کے ساتھ ہی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سیف ہیون کے طور پر امریکی ڈالر کی حیثیت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ امریکی ڈالر کی قیمتوں میں کسی بڑی مندی کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں ہے۔ بینک اس وقت غیر جانبدار پوزیشن پر قائم ہے اور ڈالر کے مضبوط لیکن ایک خاص حد کے اندر ہی برقرار رہنے  کی توقع رکھتا ہے۔</p>
<p>معاشی اعدادوشمار کے محاذ پر بدھ کو سامنے آنے والے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی سروسز بزنسزکی جانب سے ادا کی جانے والی قیمتوں کا انڈیکس چھلانگ لگا کر گزشتہ تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس چیز نے ماہرینِ معیشت کے اس نقطہِ نظر کو مزید تقویت دی ہے کہ فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) اگلے سال کے کافی حصے تک شرحِ سود کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھے گا۔</p>
<p>جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 159.91 کی سطح پر ٹریڈ ہوا جو کہ بدھ کو ریکارڈ کی جانے والی ان نچلی ترین سطحوں سے کچھ بہتر پوزیشن ہے جس کے باعث ین 30 اپریل کے بعد پہلی بار 160 کی اہم ترین (کریٹیکل) حد کو پار کر گیا تھا اور حکام کی جانب سے زبانی انتباہ  کا باعث بنا تھا۔ مارکیٹوں میں 160 کی اس سطح کو بڑے پیمانے پر ایک ایسی آخری حد کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں سے حکومت کی جانب سے مارکیٹ میں باقاعدہ مداخلت کا امکان شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>بینک آف جاپان کے گورنر کازوؤ یوئیدا کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کے خطرات معاشی سست روی کے خطرات سے بڑھ جائیں تو مرکزی بینک کو شرحِ سود بڑھانے کے فائدے اور نقصان پر لازمی بحث کرنی چاہیے، ان کے اس تبصرے کو اسی ماہ شرحِ سود میں اضافے کے قوی امکان کے سگنل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔</p>
<p>برکلیز  میں جاپان ریسرچ کے سربراہ اور چیف جاپان اکانومسٹ ناوہیکو بابا نے لکھا کہ  اگرچہ انہوں نے جون کے اجلاس میں شرحِ سود بڑھانے کا واضح اشارہ دینے سے گریز کیا لیکن انہوں نے اس مرحلے پر جتنا ممکن ہو سکتا تھا اتنی گراؤنڈ ورک کر دی ہے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا ک مرکزی بینک کا سخت جارحانہ مؤقف اب مزید مضبوط ہوگیا ہے جس میں وقت پر فیصلہ نہ کر پانے کے خطرے  پر تشویش کا واضح اظہار بھی شامل ہے۔ ہم جون میں شرحِ سود بڑھائے جانے کے اپنے اندازے پر قائم ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب بٹ کوائن گر کر چار ماہ کی نچلی ترین سطح پر آ گیا اور 2.8 فیصد کی مندی کے ساتھ 63,119.5 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ ایتھر بھی اسی طرح چار ماہ کی نچلی ترین سطح کو چھوتے ہوئے 1,786 ڈالر پر آ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287071</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 11:54:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0411374075677d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0411374075677d8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
