<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے کویت پر حملے کے بعد خلیج میں کشیدگی بڑھ گئی، ہرمز کے قریب امریکی حملے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287052/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیج میں بدھ کے روز ایک بار پھر کشیدگی شدت اختیار کر گئی۔ ایران کے کویت پر حملوں میں وہاں کا ہوائی اڈہ متاثر ہوا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب کارروائیاں کیں۔ دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں کسی نمایاں پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حملے ایک کمزور اور غیر مستحکم جنگ بندی کے لیے تازہ آزمائش ثابت ہوئے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2 فیصد سے زائد بڑھ گئیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویتی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تنصیبات اور سفارتی مشنز کو نقصان پہنچا، ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حملے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ ضروری حفاظتی اقدامات کے بعد کویت ایئرویز اور جزیرہ ایئرویز نے پروازوں کا آپریشن دوبارہ شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، ایک امریکی فضائی اڈے اور ’’پانایا‘‘ نامی ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے کسی اڈے کو نقصان نہیں پہنچا اور ایرانی بیلسٹک میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹکام کے مطابق اس نے جنوبی ایران میں ’’دفاعی حملوں‘‘ کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا، جس کے دوران میزائل لانچنگ سائٹس، بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی کشتیوں اور ایرانی حملوں کی کوششوں کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرتے ہیں تو امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ مکمل فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنگ-بندی-پر-بار-بار-کے-حملوں-کا-دباؤ" href="#جنگ-بندی-پر-بار-بار-کے-حملوں-کا-دباؤ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جنگ بندی پر بار بار کے حملوں کا دباؤ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد تہران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں والے مقامات کو بارہا نشانہ بنایا ہے، جن میں فوجی اور شہری دونوں اہداف شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اپریل کے آغاز میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، لیکن حالیہ ہفتوں میں وقفے وقفے سے جھڑپیں اور حملے جاری رہے ہیں۔ امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے ذریعے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے کی جانب پیش رفت کا اشارہ دیا تھا، تاہم اب تک دونوں فریق اس معاہدے کی حتمی منظوری نہیں دے سکے۔ اس معاہدے کے بعد مزید پیچیدہ معاملات پر الگ مذاکرات ہونا تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا کہ ایران مذاکرات یا جنگ بندی کے معاملات میں امریکا کو ’’حد سے آگے بڑھنے‘‘ کی اجازت نہیں دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب میزائلوں اور ڈرونز کی بھرپور بارش سے دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ کویت اور بحرین پر بار بار ہونے والے حملوں کے لیے خلیجی ممالک کا مضبوط اور متحد ردعمل ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’یہ جارحیت کسی ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ ہم سب کے خلاف ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مذاکرات-کے-مستقبل-پر-غیر-یقینی" href="#مذاکرات-کے-مستقبل-پر-غیر-یقینی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مذاکرات کے مستقبل پر غیر یقینی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے وسط سے ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت پیچیدہ معاملات پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران نے کسی بھی معاہدے کو لبنان میں جنگ بندی سے مشروط کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ایران اربوں ڈالر کی تیل آمدن تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی، اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز پر اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ، جو ایک جانب امریکا میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے دباؤ میں ہیں اور دوسری جانب ایران کو رعایتیں دینے سے گریز کرنا چاہتے ہیں، کہہ چکے ہیں کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی &lt;strong&gt;تسنیم&lt;/strong&gt; نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں امریکا کو کوئی جواب نہیں دیا اور ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی اس وقت تک معطل کر دیا گیا ہے جب تک لبنان کے حوالے سے ایرانی شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو جاری ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہو چکا ہے اور آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا، ’’وہ پہلے ہی اس بات پر رضامند ہو چکے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="لبنان-پر-اسرائیلی-حملے-جاری" href="#لبنان-پر-اسرائیلی-حملے-جاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;لبنان پر اسرائیلی حملے جاری&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن کی اکثریت ایران اور لبنان سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ توانائی کی سپلائی اور بحری تجارت شدید متاثر ہونے سے عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک نئے محاذ کو بھی جنم دیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے گزشتہ 25 برس کے دوران لبنان میں اپنی سب سے گہری فوجی پیش قدمی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوب میں ایک گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک ’’دشمنانہ فضائی ہدف‘‘ کو تباہ کر دیا، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حزب اللہ نے بھیجا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے ڈرون حملوں سے متعلق خبر رساں ادارے رائٹرز کے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا، تاہم گاڑی پر حملہ اس لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ پیر کو امریکا کی ثالثی میں جزوی جنگ بندی کے اعلان اور ٹرمپ کی جانب سے بیروت کو نشانہ نہ بنانے کی درخواست کے بعد یہ بیروت کے قریب ہونے والی نمایاں کارروائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے پوڈکاسٹ انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انہوں نے لبنان میں جاری لڑائی کے معاملے پر ایک سخت فون کال کے دوران نیتن یاہو کو ’’پاگل‘‘ قرار دیا تھا، جبکہ وہ وسیع تر جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی کوشش کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا، ’’ایک موقع پر میں نے بی بی سے کہا کہ ہمیں یہ سب روکنا ہوگا، ہمیں اسے بند کرنا ہوگا۔‘‘ یہاں انہوں نے نیتن یاہو کو ان کے عرفی نام ’’بی بی‘‘ سے مخاطب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر نیتن یاہو نے سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کے اور ٹرمپ کے درمیان بعض اوقات ’’حکمتِ عملی کے اختلافات‘‘ ضرور ہوتے ہیں، لیکن ایران سے متعلق بنیادی معاملات پر دونوں مکمل اتفاق رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیج میں بدھ کے روز ایک بار پھر کشیدگی شدت اختیار کر گئی۔ ایران کے کویت پر حملوں میں وہاں کا ہوائی اڈہ متاثر ہوا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب کارروائیاں کیں۔ دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں کسی نمایاں پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دیے۔</strong></p>
<p>یہ حملے ایک کمزور اور غیر مستحکم جنگ بندی کے لیے تازہ آزمائش ثابت ہوئے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2 فیصد سے زائد بڑھ گئیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے۔</p>
<p>کویتی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تنصیبات اور سفارتی مشنز کو نقصان پہنچا، ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حملے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔</p>
<p>بعد ازاں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ ضروری حفاظتی اقدامات کے بعد کویت ایئرویز اور جزیرہ ایئرویز نے پروازوں کا آپریشن دوبارہ شروع کر دیا۔</p>
<p>اس سے قبل ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، ایک امریکی فضائی اڈے اور ’’پانایا‘‘ نامی ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے کسی اڈے کو نقصان نہیں پہنچا اور ایرانی بیلسٹک میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔</p>
<p>سینٹکام کے مطابق اس نے جنوبی ایران میں ’’دفاعی حملوں‘‘ کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا، جس کے دوران میزائل لانچنگ سائٹس، بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی کشتیوں اور ایرانی حملوں کی کوششوں کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرتے ہیں تو امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ مکمل فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔</p>
<h3><a id="جنگ-بندی-پر-بار-بار-کے-حملوں-کا-دباؤ" href="#جنگ-بندی-پر-بار-بار-کے-حملوں-کا-دباؤ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جنگ بندی پر بار بار کے حملوں کا دباؤ</h3>
<p>28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد تہران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں والے مقامات کو بارہا نشانہ بنایا ہے، جن میں فوجی اور شہری دونوں اہداف شامل ہیں۔</p>
<p>اگرچہ اپریل کے آغاز میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، لیکن حالیہ ہفتوں میں وقفے وقفے سے جھڑپیں اور حملے جاری رہے ہیں۔ امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے ذریعے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے کی جانب پیش رفت کا اشارہ دیا تھا، تاہم اب تک دونوں فریق اس معاہدے کی حتمی منظوری نہیں دے سکے۔ اس معاہدے کے بعد مزید پیچیدہ معاملات پر الگ مذاکرات ہونا تھے۔</p>
<p>ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا کہ ایران مذاکرات یا جنگ بندی کے معاملات میں امریکا کو ’’حد سے آگے بڑھنے‘‘ کی اجازت نہیں دے گا۔</p>
<p>انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب میزائلوں اور ڈرونز کی بھرپور بارش سے دیا جائے گا۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ کویت اور بحرین پر بار بار ہونے والے حملوں کے لیے خلیجی ممالک کا مضبوط اور متحد ردعمل ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’یہ جارحیت کسی ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ ہم سب کے خلاف ہے۔‘‘</p>
<h3><a id="مذاکرات-کے-مستقبل-پر-غیر-یقینی" href="#مذاکرات-کے-مستقبل-پر-غیر-یقینی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مذاکرات کے مستقبل پر غیر یقینی</h3>
<p>مارچ کے وسط سے ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت پیچیدہ معاملات پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>تہران نے کسی بھی معاہدے کو لبنان میں جنگ بندی سے مشروط کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ایران اربوں ڈالر کی تیل آمدن تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی، اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز پر اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔</p>
<p>ٹرمپ، جو ایک جانب امریکا میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے دباؤ میں ہیں اور دوسری جانب ایران کو رعایتیں دینے سے گریز کرنا چاہتے ہیں، کہہ چکے ہیں کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔</p>
<p>اگرچہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی <strong>تسنیم</strong> نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں امریکا کو کوئی جواب نہیں دیا اور ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی اس وقت تک معطل کر دیا گیا ہے جب تک لبنان کے حوالے سے ایرانی شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔</p>
<p>بدھ کو جاری ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہو چکا ہے اور آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا، ’’وہ پہلے ہی اس بات پر رضامند ہو چکے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے۔‘‘</p>
<h3><a id="لبنان-پر-اسرائیلی-حملے-جاری" href="#لبنان-پر-اسرائیلی-حملے-جاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>لبنان پر اسرائیلی حملے جاری</h3>
<p>اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن کی اکثریت ایران اور لبنان سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ توانائی کی سپلائی اور بحری تجارت شدید متاثر ہونے سے عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>اس تنازع نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک نئے محاذ کو بھی جنم دیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے گزشتہ 25 برس کے دوران لبنان میں اپنی سب سے گہری فوجی پیش قدمی کی۔</p>
<p>لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوب میں ایک گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک ’’دشمنانہ فضائی ہدف‘‘ کو تباہ کر دیا، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حزب اللہ نے بھیجا تھا۔</p>
<p>اسرائیلی فوج نے ڈرون حملوں سے متعلق خبر رساں ادارے رائٹرز کے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا، تاہم گاڑی پر حملہ اس لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ پیر کو امریکا کی ثالثی میں جزوی جنگ بندی کے اعلان اور ٹرمپ کی جانب سے بیروت کو نشانہ نہ بنانے کی درخواست کے بعد یہ بیروت کے قریب ہونے والی نمایاں کارروائی تھی۔</p>
<p>اپنے پوڈکاسٹ انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انہوں نے لبنان میں جاری لڑائی کے معاملے پر ایک سخت فون کال کے دوران نیتن یاہو کو ’’پاگل‘‘ قرار دیا تھا، جبکہ وہ وسیع تر جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی کوشش کر رہے تھے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا، ’’ایک موقع پر میں نے بی بی سے کہا کہ ہمیں یہ سب روکنا ہوگا، ہمیں اسے بند کرنا ہوگا۔‘‘ یہاں انہوں نے نیتن یاہو کو ان کے عرفی نام ’’بی بی‘‘ سے مخاطب کیا۔</p>
<p>ادھر نیتن یاہو نے سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کے اور ٹرمپ کے درمیان بعض اوقات ’’حکمتِ عملی کے اختلافات‘‘ ضرور ہوتے ہیں، لیکن ایران سے متعلق بنیادی معاملات پر دونوں مکمل اتفاق رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287052</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:00:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/032155434c3b901.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/032155434c3b901.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
