<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ جنگ کے اثرات: بنگلہ دیش میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287050/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش نے بدھ کے روز بجلی کی قیمتوں میں 16 فیصد اضافہ کر دیا ہے، جو ایک تازہ اضافہ ہے، جبکہ حکومت مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث ریاستی مالی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;170 ملین آبادی والا یہ جنوب ایشیائی ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ قیمتوں  میں  بار بار ہونے والے اضافے نے عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جو طویل عرصے سے جاری مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، جو اپریل میں 9.04 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش انرجی ریگولیٹری کمیشن کے چیئرمین جلال احمد نے یہ 16 فیصد اضافہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے دو روز بعد کا اعلان کیا۔ اس اضافے کے بعد مٹی کے تیل (کیروسین) کی قیمت 130 ٹکا سے بڑھ کر 135 ٹکا فی لیٹر (1.09 ڈالر) ہو گئی، جبکہ پیٹرول 135 سے بڑھ کر 140 ٹکا فی لیٹر ہو گیا۔ ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ادارے بنگلہ دیش پاور ڈویلپمنٹ بورڈ کے مطابق ملک کی تقریباً 44 فیصد نصب شدہ بجلی پیداوار قدرتی گیس سے، 24 فیصد کوئلے سے اور مزید 24 فیصد تیل اور ڈیزل سے حاصل کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کا پہلا جوہری بجلی گھر تکمیل کے قریب ہے، اور اس کے پہلے مرحلے میں یورینیم فیول لوڈنگ پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمیوں میں جب دارالحکومت ڈھاکا میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، تاہم بڑے شہروں میں مجموعی طور پر بار بار کی لوڈشیڈنگ سے گریز کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ میں ڈھاکا نے کہا تھا کہ وہ توانائی کی سلامتی کے خدشات سے نمٹنے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر کے قرضوں کے حصول کی کوشش کر رہا ہے، یہ خدشات ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا تھا کہ وہ ڈھاکا کی درخواست پر ایک نئے امدادی پروگرام پر مذاکرات کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش پہلے ہی 5.7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، جو 2023 میں شروع ہوا تھا اور چار سال تک جاری رہنا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش نے بدھ کے روز بجلی کی قیمتوں میں 16 فیصد اضافہ کر دیا ہے، جو ایک تازہ اضافہ ہے، جبکہ حکومت مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث ریاستی مالی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>170 ملین آبادی والا یہ جنوب ایشیائی ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ قیمتوں  میں  بار بار ہونے والے اضافے نے عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جو طویل عرصے سے جاری مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، جو اپریل میں 9.04 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔</p>
<p>بنگلہ دیش انرجی ریگولیٹری کمیشن کے چیئرمین جلال احمد نے یہ 16 فیصد اضافہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے دو روز بعد کا اعلان کیا۔ اس اضافے کے بعد مٹی کے تیل (کیروسین) کی قیمت 130 ٹکا سے بڑھ کر 135 ٹکا فی لیٹر (1.09 ڈالر) ہو گئی، جبکہ پیٹرول 135 سے بڑھ کر 140 ٹکا فی لیٹر ہو گیا۔ ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔</p>
<p>سرکاری ادارے بنگلہ دیش پاور ڈویلپمنٹ بورڈ کے مطابق ملک کی تقریباً 44 فیصد نصب شدہ بجلی پیداوار قدرتی گیس سے، 24 فیصد کوئلے سے اور مزید 24 فیصد تیل اور ڈیزل سے حاصل کی جاتی ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش کا پہلا جوہری بجلی گھر تکمیل کے قریب ہے، اور اس کے پہلے مرحلے میں یورینیم فیول لوڈنگ پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔</p>
<p>گرمیوں میں جب دارالحکومت ڈھاکا میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، تاہم بڑے شہروں میں مجموعی طور پر بار بار کی لوڈشیڈنگ سے گریز کیا گیا ہے۔</p>
<p>مارچ میں ڈھاکا نے کہا تھا کہ وہ توانائی کی سلامتی کے خدشات سے نمٹنے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر کے قرضوں کے حصول کی کوشش کر رہا ہے، یہ خدشات ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہوئے۔</p>
<p>مئی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا تھا کہ وہ ڈھاکا کی درخواست پر ایک نئے امدادی پروگرام پر مذاکرات کر رہا ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش پہلے ہی 5.7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، جو 2023 میں شروع ہوا تھا اور چار سال تک جاری رہنا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287050</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:36:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/03193110a42db5e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/03193110a42db5e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
