<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا 2 ارب ڈالر کے ڈرونز کا اب تک کا سب سے بڑا آرڈر دینے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287046/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی اور علاقائی تنازعات کے تناظر میں بھارت رواں سال مقامی کمپنیوں کو 2 ارب ڈالر (200 ارب بھارتی روپے) سے زائد مالیت کے فوجی ڈرونز کا اب تک کا سب سے بڑا آرڈر دینے جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈرون فیڈریشن آف انڈیا (ڈی ایف آئی) کے صدر سمت شاہ نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ منصوبہ آخری مراحل میں ہے اور ہنگامی ضروریات کے تحت اس کی سپلائی 18 سے 24 ماہ میں متوقع ہے۔ ماضی میں یہ حجم محض 30 ارب روپے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کیا گیا، جہاں پہلی بار بڑے پیمانے پر ڈرون استعمال ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ یوکرین اور ایران کے تنازعات نے بھی جنگی حکمتِ عملی میں سستے ڈرونز کی اہمیت واضح کر دی ہے۔ بھارتی وزارتِ دفاع نے حال ہی میں مجموعی طور پر 2.38 ٹریلین روپے کے دفاعی سودوں کی منظوری دی ہے جس میں مسلح ڈرونز بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق فوجی حکام کے مطابق فوج بڑے پیمانے پر ڈرونز کی شمولیت کے لیے فاسٹ ٹریک طریقہ کار اپنا رہی ہے۔ بھارت میں اس وقت 600 سے زائد ڈرون کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں ٹاٹا، اڈانی اور ایل اینڈ ٹی جیسے بڑے گروپس شامل ہیں۔ حکومت گھریلو پیداوار اور اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کے لیے فنڈنگ اور ٹیسٹنگ کے قوانین کو بھی آسان بنا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی اور علاقائی تنازعات کے تناظر میں بھارت رواں سال مقامی کمپنیوں کو 2 ارب ڈالر (200 ارب بھارتی روپے) سے زائد مالیت کے فوجی ڈرونز کا اب تک کا سب سے بڑا آرڈر دینے جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>ڈرون فیڈریشن آف انڈیا (ڈی ایف آئی) کے صدر سمت شاہ نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ منصوبہ آخری مراحل میں ہے اور ہنگامی ضروریات کے تحت اس کی سپلائی 18 سے 24 ماہ میں متوقع ہے۔ ماضی میں یہ حجم محض 30 ارب روپے تھا۔</p>
<p>یہ فیصلہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کیا گیا، جہاں پہلی بار بڑے پیمانے پر ڈرون استعمال ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ یوکرین اور ایران کے تنازعات نے بھی جنگی حکمتِ عملی میں سستے ڈرونز کی اہمیت واضح کر دی ہے۔ بھارتی وزارتِ دفاع نے حال ہی میں مجموعی طور پر 2.38 ٹریلین روپے کے دفاعی سودوں کی منظوری دی ہے جس میں مسلح ڈرونز بھی شامل ہیں۔</p>
<p>سابق فوجی حکام کے مطابق فوج بڑے پیمانے پر ڈرونز کی شمولیت کے لیے فاسٹ ٹریک طریقہ کار اپنا رہی ہے۔ بھارت میں اس وقت 600 سے زائد ڈرون کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں ٹاٹا، اڈانی اور ایل اینڈ ٹی جیسے بڑے گروپس شامل ہیں۔ حکومت گھریلو پیداوار اور اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کے لیے فنڈنگ اور ٹیسٹنگ کے قوانین کو بھی آسان بنا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287046</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:39:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/03173627f7af7ab.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/03173627f7af7ab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
