<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عوامی بیانیے اور بند کمرہ بریفنگز کا دلچسپ کھیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287040/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شاید کسی بھی ملاقات کا اصل جوہر اور مقصد اس وقت ماند پڑ جاتا ہے جب اس سے جڑے  ظاہری تاثر کو ملاقات کی اصل کارروائی کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہ رکھا جائے۔ ظاہری تاثر کے ہدف کو پانے کے لیے خصوصی اور بھرپور کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دو افراد یا فریقین کے مابین بات چیت کے دوران اگر ظاہری تاثر میں کوئی بھی منفی پہلو ابھر کر سامنے آ جائے تو وہ پورے عمل کی ساکھ کو خاک میں ملا دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے یہ مقولہ صرف اسی صورت میں سچ ہو سکتا ہے جب وہ تصویر حقیقی ہو یعنی وہ حقیقت کی عکاسی کرتی ہو۔حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چین کے اپنے پہلے دورے پر صدر شی جن پنگ سے کسی حقیقی  ”بیئر ہگ“ (گرمجوشی سے گلے ملنے) کی نہیں تو کم از کم ایک ’’پانڈا ہگ ’’ (دوستانہ جھکاؤ) کی بڑی امید لگائے بیٹھے تھے۔ تاہم انہیں ایک مضبوط اور سنجیدہ مصافحہ ملا، جیسا کہ عام طور پر چینی کرتے ہیں۔ قارئین نے دیکھا یا پڑھا ہوگا کہ چین کے اس وقت کے وزیر اعظم چو این لائی، ذوالفقار علی بھٹو سے ایسا مصافحہ کرتے تھے جو کم از کم دو منٹ یا اس سے بھی زیادہ دیر تک برقرار رہتا تھا۔ اس مصافحے میں ہمیشہ ایک گہرا پیغام چھپا ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شی جن پنگ کا یہ سنجیدہ اور بے تاثر رویہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی  بلکہ یہ متوقع تھا۔ چینی گزشتہ دو سالوں سے اپنے خلاف اچھالے جانے والے اس بہت سے گند کو برداشت کر رہے تھے جو ان کے منہ پر مارا جا رہا تھا، جس کا آغاز غیر حقیقت پسندانہ ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کے نفاذ سے ہوا اور بات انہیں معاشی طور پر تباہ کرنے کی دھمکیوں تک جا پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاست کے باب میں چینی تہذیب کے بنیادی اصول ’’صبر اور استقامت ’’پر استوار ہیں۔ چینی لالچِ خام میں مبتلا ہو کر قلیل مدتی فوائد کے لیے کام نہیں کرتے بلکہ وہ طویل مدتی کھیل کے کھلاڑی ہیں۔ یہ ان کا بے پناہ صبر ہی ہے جو بدترین دشمنوں کو مایوس اور تھکا کر رکھ دیتا ہے۔ دشمن کو ’حیران و ششدر‘ کر دینے کا صدیوں پرانا سن تزو کا اصول آج بھی ان کے عمل سے جھلکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاموشی کی اسی ڈھال اور کسی بھی فوری ردعمل سے گریز کے باعث حریف کے عزائم اور مقاصد خاک میں مل جاتے ہیں، امریکہ اس کا عینی شاہد اور خود اس تجربے سے گزر چکا ہے مگر اب وقت بدل گیا ہے، دہائیوں تک امریکی غلبے کے زیرِ اثر رہنے والے یک قطبی (یونی پولر) نظامِ عالم کے برعکس آج کی دنیا ایک نئے کثیر قطبی (ملٹی پولر) نظام کے تابع ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب کھویا ہوا وقار بحال کرنے اور دوبارہ اپنے پاؤں جمانے کی عجلت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1971ء میں پاکستان کی وساطت سے ہونے والے اولین رابطے کے دوران امریکی صدر نکسن نے چیئرمین ماؤ اور وزیر اعظم چو این لائی سے ایک برتر اور حاوی پوزیشن کے ساتھ ملاقات کی تھی، کیونکہ اس وقت امریکہ بلا شرکتِ غیرے ایک عالمی معاشی قوت تھا۔ چین نے تب تک اپنی معیشت کے بند دروازے دنیا کے لیے نہیں کھولے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ امریکہ اور دیگر بڑی معیشتوں سے ’نوری سال‘ پیچھے تھا۔ مگر آج معاملات طے کرنے کے لیے سامنے کھڑا عوامی جمہوریہ چین بالکل مختلف ہے۔ اب دوستی ہو یا دشمنی وہ اس اسٹریٹیجک  مساوات میں کسی بھی طور کمزور فریق نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین ایک ایسا معاشی پاور ہاؤس ہے جو کھربوں امریکی ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر سے مالا مال ہے۔ اس کی بیرونی تجارت کا حجم دیدنی ہے۔ وہاں کے کسی ایک کامیاب سرکاری ادارے کا بجٹ دو سے تین ترقی پذیر ممالک کے مجموعی سالانہ بجٹ پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ چین اب ایک ایسی طاقتور قوم بن چکا ہے جسے مغرب اپنے تکبر یا کھوکھلی لفاظی کے بل بوتے پر پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون پر سوار 12 سے 16 نامور سی ای اوز کو بیجنگ صرف سیر و تفریح کے لیے نہیں لے جایا گیا تھا -ان کا مقصد ’میگا‘   کے نعرے کی تکمیل میں معاشی سودے بازی کرنا تھا۔ بظاہر وہ سب خالی ہاتھ لوٹے۔ چینی اپنے رکھ رکھاؤ میں نرم ہیں لیکن مذاکرات کی میز پر انتہائی سخت ثابت ہوتے ہیں۔ سوشلسٹ نظام کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے مخصوص سرمایہ دارانہ رویے کے ذریعے مذاکرات کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دورے کے دوران تائیوان جیسے کانٹے دار اور حساس معاملے کا زیرِ بحث نہ آنا ہی چینی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی حکمتِ عملی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ چین کے پالیسی ساز اپنے جائزوں، دور اندیشی اور نقطہ نظر میں غیر معمولی طور پر ذہین، سنجیدہ اور پختہ کار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورے دورے میں تائیوان کے حساس موضوع پر نہ تو کوئی سوال اٹھایا گیا اور نہ ہی کوئی جواب دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس راقم کا یہ پختہ یقین ہے کہ عوامی جمہوریہ چین تائیوان کو کسی جنگ میں الجھے بغیر واپس لے لے گا، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے ہانگ کانگ اور مکاؤ کو واپس لیا تھا۔ یہ صرف وقت کی بات ہے۔ وہ خود اس واقعے کی تاریخ کا فیصلہ کریں گے۔ اس دوران وہ تائیوان کے ساتھ تجارت اور روابط جاری رکھیں گے۔ حال ہی میں بیجنگ نے تائیوان کی پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر کی میزبانی کی۔ یہ اتحاد ہو کر رہے گا۔ یہ ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم سے کم بولیں۔ انہیں نپا تلا ہونا چاہیے۔ وہ ایک عام آدمی کی طرح بولنے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بین الاقوامی سفارت کاری کے میدان میں مصلحت پسندانہ منافقت کا ایک بڑا عنصر موجود ہوتا ہے۔ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے بعد باقاعدہ جانچ پڑتال اور کنٹرول کے تحت جاری کی جانے والی تصاویر اور بیانات دراصل ’دھوکے‘ یا شاید ’نظری دھوکے‘  ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک گرمجوش مصافحہ یا گلے ملنا لازمی طور پر گہری دوستی یا ہم آہنگی کا عکاس نہیں ہوتا۔ سیاست دان اور میڈیا ایک ایسا تاثر قائم کرتے ہیں جو حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ فوٹو سیشن کے موقع کا غلط استعمال دماغ کو غلط تشریحات کی طرف لے جانے کے لیے کیا جاتا ہے، اصل تصویر (حقیقت) کو دیکھنے کے بجائے دماغ اپنے نتائج اخذ کرنے کے لیے شارٹ کٹس یا ماضی کے مفروضوں پر انحصار کرتا ہے، جو حقیقت کے بالکل برعکس ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تصاویر ایک مکمل سراب ہیں، ایک ایسا وہم، جو سچائی سے بالکل عاری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی کھلے عام اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کی ثقافت میں یہ مانا جاتا ہے کہ اظہار سے کبھی دوسروں کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے اور دوسری طرف چینی عوامی تعریف کے بارے میں بھی انتہائی حساس ہیں، وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ اپنی ذات کو نمایاں نہ کرنا (عاجزی) پورے شمال مشرقی ایشیا بشمول کوریا، جاپان، چین، تائیوان اور ہانگ کانگ کی ثقافت کا حصہ ہے۔ وہ اپنے پیغامات سنجیدہ ردعمل کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔ اول تو وہ وقت کی نزاکت کے تحت فوری ردعمل کا اظہار نہیں کرتے۔ وہ ردعمل کے تمام اثرات پر غور کیے بغیر جواب دینے میں ہماری طرح جلد بازی نہیں کرتے۔ وہ دھیمے انداز میں ردعمل ظاہر کرنے کے لیے وقت لیتے ہیں۔ ان کی ثقافت میں اضطراری یا اچانک ردعمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چمچماتے میڈیا کی موجودگی میں ’فائر سائیڈ چیٹ‘ (غیر رسمی گفتگو) بھی ایک قسم کا اسٹنٹ ہے، یہ سب ممکنہ طور پر پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ سوالات پوچھنے کی اجازت پانے والے زیادہ تر میڈیا اہلکار پہلے سے کلیئرڈ اور مطلع شدہ ہوتے ہیں۔ انہیں ’اسکرپٹ‘ پر قائم رہنے کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے حال ہی میں طیارے سے سیدھے پل پر قدم رکھا، وہ اپنے میزبان کو طویل ترین وقت تک گلے لگانے کے لیے بانہیں پھیلائے آگے بڑھے۔ انہوں نے ڈھٹائی سے میزبان کا بازو تھام لیا۔ یہ سارا ڈرامہ واضح طور پر ظاہری تاثر کے ذریعے اس چیز کو پہنچانے کے لیے پہلے سے طے شدہ تھا جو بنیادی طور پر جھوٹ ہے لیکن اسے سچ کے طور پر پیش کیا گیا۔ بھارت کو اپنی واضح بین الاقوامی تنہائی کو پسِ پشت ڈالنے کے لیے اس کی سخت ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے یہ تصویر ایک مفید ہتھیار سمجھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کی جانب سے اپنایا گیا چیتھم ہاؤس رول جسے 1927 میں وضع کیا گیا تھا بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے کھیل کے قواعد کا تعین کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جہاں اس قانون کے تحت کوئی اجلاس یا اس کا کوئی حصہ منعقد ہوتا ہے وہاں شرکاء بولنے والے کی شناخت یا وابستگی کو ظاہر کیے بغیر معلومات استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دل کی بات کہنا ایک مقولہ ہے، لیکن یہ کسی کو اپنے ذہن میں آنے والی ہر بات بولنے کا لائسنس فراہم نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر  ایک بار برطانیہ میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر فل جاف نے لندن میں ایک عوامی تقریب میں بات کرتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں چرچل کا مجسمہ بحال کر دیا ہے لیکن کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ واقعی تاریخ کو سمجھتے ہیں؟ مزید آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے چرچل کے 1939 کے اس جملے کا حوالہ دیا جو اس وقت کے موجودہ وزیر اعظم چیمبرلین کے لیے تھا کہ آپ کے پاس جنگ اور بدنامی میں سے کسی ایک کا انتخاب تھا، آپ نے بدنامی کو چنا، پھر بھی آپ کو جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا’۔ انہیں فوراً برطرف کر دیا گیا۔ اگر کسی سیاست دان نے ایسا کچھ کہا ہوتا تو اس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ کوئی خاص توجہ نہ دیتا لیکن سفارت کاروں کا ایسی بات کہنا سفارتی دنیا میں سنگین گناہ  کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے بھی اعداد و شمار کی طرح ہوتے ہیں، جو ظاہر کو عیاں کرتے ہیں اور اہم ترین کو چھپا لیتے ہیں۔ جب ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’گرم جوش اور دوستانہ ماحول‘ میں ہوئی تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ کچھ تعاون ہوا، کچھ معاہدہ ہوا لیکن ملاقات مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں تھی اور اگر یہ  آزادانہ اور واضح ہو تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ ملاقات دوٹوک، سخت اور شدید بحث و تکرار سے بھرپور تھی۔ اختلافات کو نرمی سے سنبھالا گیا لیکن مسائل پر تصادم برقرار ہے اور اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’تعمیری‘ تھی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ دونوں فریقین نے اپنے موجودہ موقف کا اعادہ کیا۔ اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’مفید‘ تھی تو اس کا مطلب صرف یہ پڑھا جانا چاہیے کہ گلے شکوے اور الزامات کا تبادلہ ہوا لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ان سب میں سب سے زیادہ مہلک جملہ ’آف دی ریکارڈ‘ ہے کیونکہ یہ بذاتِ خود ایک دھوکہ ہے۔ آف دی ریکارڈ کی اصطلاح دراصل ہر چیز کو آن ریکارڈ لانے کا اعتراف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سیاست کا تقاضا ہے کہ جتنا کم کہا جائے وہ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ جذبات اور احساسات کا مکمل ضبط ایک بنیادی شرط ہے۔ فارن آفس، وائٹ ہاؤس، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ وغیرہ کی پریس بریفنگز میں ہمیں یہ دیکھنے اور سیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی پوچھے گئے سوال کا جواب دیے بغیر یا سوال کے جواب کے قریب پہنچے بغیر بھی کیسے راستہ نکالا جاتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں ان کا وہ مطلب نہیں ہوتا وہ اس بارے میں خاموش رہتے ہیں جس کا اصل میں ان کا مطلب ہوتا ہے۔ سفارت کاری کے اسکول میں کسی بھی سوال کا جواب نہ دینے کا بہترین فن ہی پہلا سبق ہے جو پڑھایا اور ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس پر میڈیا کا غلبہ ہے جو ہر ایک دن رہنماؤں پر جارحانہ کیمروں کے ساتھ نظریں جمائے رکھتا ہے۔ آج ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اسکرینوں پر قید نہ ہو رہی ہو۔حال ہی میں ایک یورپی دارالحکومت کے زیرِ زمین اسٹیشن پر میں نے آڈیو ریکارڈنگ کی خصوصیات کے حامل کیمروں کی تعداد گنی جو 50 سے تجاوز کر رہی تھی۔یہ ویڈیوز نقصان دہ اور مفید دونوں ہو سکتی ہیں،اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا مالک اسے کیسے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ’ظاہری تاثر کے کھیل‘ کا یہ معمہ اے آئی  ٹولز کے غلط استعمال کے ساتھ مزید بدتر ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بطور قوم ہمیں اپنی ہی باتوں سے خود کو شرمندہ کرنے  کے عمل کو روکنا سیکھنا ہوگا۔ یہ کام رہنماؤں اور پیروکاروں دونوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شاید کسی بھی ملاقات کا اصل جوہر اور مقصد اس وقت ماند پڑ جاتا ہے جب اس سے جڑے  ظاہری تاثر کو ملاقات کی اصل کارروائی کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہ رکھا جائے۔ ظاہری تاثر کے ہدف کو پانے کے لیے خصوصی اور بھرپور کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دو افراد یا فریقین کے مابین بات چیت کے دوران اگر ظاہری تاثر میں کوئی بھی منفی پہلو ابھر کر سامنے آ جائے تو وہ پورے عمل کی ساکھ کو خاک میں ملا دیتا ہے۔</strong></p>
<p>ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے یہ مقولہ صرف اسی صورت میں سچ ہو سکتا ہے جب وہ تصویر حقیقی ہو یعنی وہ حقیقت کی عکاسی کرتی ہو۔حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چین کے اپنے پہلے دورے پر صدر شی جن پنگ سے کسی حقیقی  ”بیئر ہگ“ (گرمجوشی سے گلے ملنے) کی نہیں تو کم از کم ایک ’’پانڈا ہگ ’’ (دوستانہ جھکاؤ) کی بڑی امید لگائے بیٹھے تھے۔ تاہم انہیں ایک مضبوط اور سنجیدہ مصافحہ ملا، جیسا کہ عام طور پر چینی کرتے ہیں۔ قارئین نے دیکھا یا پڑھا ہوگا کہ چین کے اس وقت کے وزیر اعظم چو این لائی، ذوالفقار علی بھٹو سے ایسا مصافحہ کرتے تھے جو کم از کم دو منٹ یا اس سے بھی زیادہ دیر تک برقرار رہتا تھا۔ اس مصافحے میں ہمیشہ ایک گہرا پیغام چھپا ہوتا تھا۔</p>
<p>شی جن پنگ کا یہ سنجیدہ اور بے تاثر رویہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی  بلکہ یہ متوقع تھا۔ چینی گزشتہ دو سالوں سے اپنے خلاف اچھالے جانے والے اس بہت سے گند کو برداشت کر رہے تھے جو ان کے منہ پر مارا جا رہا تھا، جس کا آغاز غیر حقیقت پسندانہ ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کے نفاذ سے ہوا اور بات انہیں معاشی طور پر تباہ کرنے کی دھمکیوں تک جا پہنچی۔</p>
<p>سیاست کے باب میں چینی تہذیب کے بنیادی اصول ’’صبر اور استقامت ’’پر استوار ہیں۔ چینی لالچِ خام میں مبتلا ہو کر قلیل مدتی فوائد کے لیے کام نہیں کرتے بلکہ وہ طویل مدتی کھیل کے کھلاڑی ہیں۔ یہ ان کا بے پناہ صبر ہی ہے جو بدترین دشمنوں کو مایوس اور تھکا کر رکھ دیتا ہے۔ دشمن کو ’حیران و ششدر‘ کر دینے کا صدیوں پرانا سن تزو کا اصول آج بھی ان کے عمل سے جھلکتا ہے۔</p>
<p>خاموشی کی اسی ڈھال اور کسی بھی فوری ردعمل سے گریز کے باعث حریف کے عزائم اور مقاصد خاک میں مل جاتے ہیں، امریکہ اس کا عینی شاہد اور خود اس تجربے سے گزر چکا ہے مگر اب وقت بدل گیا ہے، دہائیوں تک امریکی غلبے کے زیرِ اثر رہنے والے یک قطبی (یونی پولر) نظامِ عالم کے برعکس آج کی دنیا ایک نئے کثیر قطبی (ملٹی پولر) نظام کے تابع ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب کھویا ہوا وقار بحال کرنے اور دوبارہ اپنے پاؤں جمانے کی عجلت میں ہے۔</p>
<p>1971ء میں پاکستان کی وساطت سے ہونے والے اولین رابطے کے دوران امریکی صدر نکسن نے چیئرمین ماؤ اور وزیر اعظم چو این لائی سے ایک برتر اور حاوی پوزیشن کے ساتھ ملاقات کی تھی، کیونکہ اس وقت امریکہ بلا شرکتِ غیرے ایک عالمی معاشی قوت تھا۔ چین نے تب تک اپنی معیشت کے بند دروازے دنیا کے لیے نہیں کھولے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ امریکہ اور دیگر بڑی معیشتوں سے ’نوری سال‘ پیچھے تھا۔ مگر آج معاملات طے کرنے کے لیے سامنے کھڑا عوامی جمہوریہ چین بالکل مختلف ہے۔ اب دوستی ہو یا دشمنی وہ اس اسٹریٹیجک  مساوات میں کسی بھی طور کمزور فریق نظر نہیں آتا۔</p>
<p>چین ایک ایسا معاشی پاور ہاؤس ہے جو کھربوں امریکی ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر سے مالا مال ہے۔ اس کی بیرونی تجارت کا حجم دیدنی ہے۔ وہاں کے کسی ایک کامیاب سرکاری ادارے کا بجٹ دو سے تین ترقی پذیر ممالک کے مجموعی سالانہ بجٹ پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ چین اب ایک ایسی طاقتور قوم بن چکا ہے جسے مغرب اپنے تکبر یا کھوکھلی لفاظی کے بل بوتے پر پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔</p>
<p>ایئر فورس ون پر سوار 12 سے 16 نامور سی ای اوز کو بیجنگ صرف سیر و تفریح کے لیے نہیں لے جایا گیا تھا -ان کا مقصد ’میگا‘   کے نعرے کی تکمیل میں معاشی سودے بازی کرنا تھا۔ بظاہر وہ سب خالی ہاتھ لوٹے۔ چینی اپنے رکھ رکھاؤ میں نرم ہیں لیکن مذاکرات کی میز پر انتہائی سخت ثابت ہوتے ہیں۔ سوشلسٹ نظام کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے مخصوص سرمایہ دارانہ رویے کے ذریعے مذاکرات کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔</p>
<p>اس دورے کے دوران تائیوان جیسے کانٹے دار اور حساس معاملے کا زیرِ بحث نہ آنا ہی چینی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی حکمتِ عملی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ چین کے پالیسی ساز اپنے جائزوں، دور اندیشی اور نقطہ نظر میں غیر معمولی طور پر ذہین، سنجیدہ اور پختہ کار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورے دورے میں تائیوان کے حساس موضوع پر نہ تو کوئی سوال اٹھایا گیا اور نہ ہی کوئی جواب دیا گیا۔</p>
<p>اس راقم کا یہ پختہ یقین ہے کہ عوامی جمہوریہ چین تائیوان کو کسی جنگ میں الجھے بغیر واپس لے لے گا، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے ہانگ کانگ اور مکاؤ کو واپس لیا تھا۔ یہ صرف وقت کی بات ہے۔ وہ خود اس واقعے کی تاریخ کا فیصلہ کریں گے۔ اس دوران وہ تائیوان کے ساتھ تجارت اور روابط جاری رکھیں گے۔ حال ہی میں بیجنگ نے تائیوان کی پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر کی میزبانی کی۔ یہ اتحاد ہو کر رہے گا۔ یہ ناگزیر ہے۔</p>
<p>رہنماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم سے کم بولیں۔ انہیں نپا تلا ہونا چاہیے۔ وہ ایک عام آدمی کی طرح بولنے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بین الاقوامی سفارت کاری کے میدان میں مصلحت پسندانہ منافقت کا ایک بڑا عنصر موجود ہوتا ہے۔ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے بعد باقاعدہ جانچ پڑتال اور کنٹرول کے تحت جاری کی جانے والی تصاویر اور بیانات دراصل ’دھوکے‘ یا شاید ’نظری دھوکے‘  ہوتے ہیں۔</p>
<p>ایک گرمجوش مصافحہ یا گلے ملنا لازمی طور پر گہری دوستی یا ہم آہنگی کا عکاس نہیں ہوتا۔ سیاست دان اور میڈیا ایک ایسا تاثر قائم کرتے ہیں جو حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ فوٹو سیشن کے موقع کا غلط استعمال دماغ کو غلط تشریحات کی طرف لے جانے کے لیے کیا جاتا ہے، اصل تصویر (حقیقت) کو دیکھنے کے بجائے دماغ اپنے نتائج اخذ کرنے کے لیے شارٹ کٹس یا ماضی کے مفروضوں پر انحصار کرتا ہے، جو حقیقت کے بالکل برعکس ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تصاویر ایک مکمل سراب ہیں، ایک ایسا وہم، جو سچائی سے بالکل عاری ہوتا ہے۔</p>
<p>چینی کھلے عام اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کی ثقافت میں یہ مانا جاتا ہے کہ اظہار سے کبھی دوسروں کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے اور دوسری طرف چینی عوامی تعریف کے بارے میں بھی انتہائی حساس ہیں، وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ اپنی ذات کو نمایاں نہ کرنا (عاجزی) پورے شمال مشرقی ایشیا بشمول کوریا، جاپان، چین، تائیوان اور ہانگ کانگ کی ثقافت کا حصہ ہے۔ وہ اپنے پیغامات سنجیدہ ردعمل کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔ اول تو وہ وقت کی نزاکت کے تحت فوری ردعمل کا اظہار نہیں کرتے۔ وہ ردعمل کے تمام اثرات پر غور کیے بغیر جواب دینے میں ہماری طرح جلد بازی نہیں کرتے۔ وہ دھیمے انداز میں ردعمل ظاہر کرنے کے لیے وقت لیتے ہیں۔ ان کی ثقافت میں اضطراری یا اچانک ردعمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔</p>
<p>چمچماتے میڈیا کی موجودگی میں ’فائر سائیڈ چیٹ‘ (غیر رسمی گفتگو) بھی ایک قسم کا اسٹنٹ ہے، یہ سب ممکنہ طور پر پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ سوالات پوچھنے کی اجازت پانے والے زیادہ تر میڈیا اہلکار پہلے سے کلیئرڈ اور مطلع شدہ ہوتے ہیں۔ انہیں ’اسکرپٹ‘ پر قائم رہنے کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے۔</p>
<p>مودی نے حال ہی میں طیارے سے سیدھے پل پر قدم رکھا، وہ اپنے میزبان کو طویل ترین وقت تک گلے لگانے کے لیے بانہیں پھیلائے آگے بڑھے۔ انہوں نے ڈھٹائی سے میزبان کا بازو تھام لیا۔ یہ سارا ڈرامہ واضح طور پر ظاہری تاثر کے ذریعے اس چیز کو پہنچانے کے لیے پہلے سے طے شدہ تھا جو بنیادی طور پر جھوٹ ہے لیکن اسے سچ کے طور پر پیش کیا گیا۔ بھارت کو اپنی واضح بین الاقوامی تنہائی کو پسِ پشت ڈالنے کے لیے اس کی سخت ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے یہ تصویر ایک مفید ہتھیار سمجھی گئی۔</p>
<p>رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کی جانب سے اپنایا گیا چیتھم ہاؤس رول جسے 1927 میں وضع کیا گیا تھا بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے کھیل کے قواعد کا تعین کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جہاں اس قانون کے تحت کوئی اجلاس یا اس کا کوئی حصہ منعقد ہوتا ہے وہاں شرکاء بولنے والے کی شناخت یا وابستگی کو ظاہر کیے بغیر معلومات استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔</p>
<p>اپنے دل کی بات کہنا ایک مقولہ ہے، لیکن یہ کسی کو اپنے ذہن میں آنے والی ہر بات بولنے کا لائسنس فراہم نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر  ایک بار برطانیہ میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر فل جاف نے لندن میں ایک عوامی تقریب میں بات کرتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں چرچل کا مجسمہ بحال کر دیا ہے لیکن کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ واقعی تاریخ کو سمجھتے ہیں؟ مزید آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے چرچل کے 1939 کے اس جملے کا حوالہ دیا جو اس وقت کے موجودہ وزیر اعظم چیمبرلین کے لیے تھا کہ آپ کے پاس جنگ اور بدنامی میں سے کسی ایک کا انتخاب تھا، آپ نے بدنامی کو چنا، پھر بھی آپ کو جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا’۔ انہیں فوراً برطرف کر دیا گیا۔ اگر کسی سیاست دان نے ایسا کچھ کہا ہوتا تو اس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ کوئی خاص توجہ نہ دیتا لیکن سفارت کاروں کا ایسی بات کہنا سفارتی دنیا میں سنگین گناہ  کے مترادف ہے۔</p>
<p>کسی بھی سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے بھی اعداد و شمار کی طرح ہوتے ہیں، جو ظاہر کو عیاں کرتے ہیں اور اہم ترین کو چھپا لیتے ہیں۔ جب ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’گرم جوش اور دوستانہ ماحول‘ میں ہوئی تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ کچھ تعاون ہوا، کچھ معاہدہ ہوا لیکن ملاقات مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں تھی اور اگر یہ  آزادانہ اور واضح ہو تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ ملاقات دوٹوک، سخت اور شدید بحث و تکرار سے بھرپور تھی۔ اختلافات کو نرمی سے سنبھالا گیا لیکن مسائل پر تصادم برقرار ہے اور اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’تعمیری‘ تھی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ دونوں فریقین نے اپنے موجودہ موقف کا اعادہ کیا۔ اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’مفید‘ تھی تو اس کا مطلب صرف یہ پڑھا جانا چاہیے کہ گلے شکوے اور الزامات کا تبادلہ ہوا لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ان سب میں سب سے زیادہ مہلک جملہ ’آف دی ریکارڈ‘ ہے کیونکہ یہ بذاتِ خود ایک دھوکہ ہے۔ آف دی ریکارڈ کی اصطلاح دراصل ہر چیز کو آن ریکارڈ لانے کا اعتراف ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی سیاست کا تقاضا ہے کہ جتنا کم کہا جائے وہ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ جذبات اور احساسات کا مکمل ضبط ایک بنیادی شرط ہے۔ فارن آفس، وائٹ ہاؤس، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ وغیرہ کی پریس بریفنگز میں ہمیں یہ دیکھنے اور سیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی پوچھے گئے سوال کا جواب دیے بغیر یا سوال کے جواب کے قریب پہنچے بغیر بھی کیسے راستہ نکالا جاتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں ان کا وہ مطلب نہیں ہوتا وہ اس بارے میں خاموش رہتے ہیں جس کا اصل میں ان کا مطلب ہوتا ہے۔ سفارت کاری کے اسکول میں کسی بھی سوال کا جواب نہ دینے کا بہترین فن ہی پہلا سبق ہے جو پڑھایا اور ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔</p>
<p>ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس پر میڈیا کا غلبہ ہے جو ہر ایک دن رہنماؤں پر جارحانہ کیمروں کے ساتھ نظریں جمائے رکھتا ہے۔ آج ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اسکرینوں پر قید نہ ہو رہی ہو۔حال ہی میں ایک یورپی دارالحکومت کے زیرِ زمین اسٹیشن پر میں نے آڈیو ریکارڈنگ کی خصوصیات کے حامل کیمروں کی تعداد گنی جو 50 سے تجاوز کر رہی تھی۔یہ ویڈیوز نقصان دہ اور مفید دونوں ہو سکتی ہیں،اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا مالک اسے کیسے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ’ظاہری تاثر کے کھیل‘ کا یہ معمہ اے آئی  ٹولز کے غلط استعمال کے ساتھ مزید بدتر ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>بطور قوم ہمیں اپنی ہی باتوں سے خود کو شرمندہ کرنے  کے عمل کو روکنا سیکھنا ہوگا۔ یہ کام رہنماؤں اور پیروکاروں دونوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287040</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:14:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/03150921faacd50.webp" type="image/webp" medium="image" height="324" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/03150921faacd50.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
