<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اویس لغاری کا ناقص کارکردگی دکھانے والے فیلڈ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287029/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بدھ کے روز ملک بھر کی تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب ڈویژنل افسران (ایس ڈی اوز) اور ایکسینز  کی ناقص کارکردگی پر فوری طور پر محکمانہ کارروائی شروع کی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعلامیے کے مطابق پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) وہ پہلی ڈسکوز بن گئی ہیں جنہوں نے قومی 118 کال سینٹر سسٹم  کے تحت درج صارف شکایات کے ازالے میں ناکامی پر  ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران کے خلاف فوری کارروائی شروع کر دی ہے، جس میں معطلی بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک کی دیگر تمام ڈسکوز بھی اپنے متعلقہ ناقص کارکردگی والے افسران کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی کا عمل شروع کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی نے کہا کہ 118 کال سینٹر پلیٹ فارم شہریوں اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اور جو افسران اس نظام کو نظرانداز کرتے ہیں وہ حکومت کے صارفین کی فلاح کے عزم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کارروائیاں یکم اکتوبر 2025 سے 31 مارچ 2026 تک کے  ڈیٹا کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔ وزیرتوانائی نے ہدایت کی کہ شناخت شدہ افسران کے خلاف بلا تاخیر محکمانہ کارروائی کی جائے اور اسے مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیسکو نے فوری طور پر 3 ایس ڈی اوز اور 1 ایکسین کو معطل کر دیا ہے، جن پر شکایات کے ازالے میں ناکامی اور کارکردگی کے اہداف پورے نہ کرنے کا الزام ہے۔ معطل شدہ افسران کو جنرل منیجر آپریشنز پیسکو ہیڈکوارٹر کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی حاضری یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سیپکو نے بھی  ایک ایس ڈی او اور ایک ایکسین (سابقہ) کو ناقص کارکردگی اور شکایات کے بروقت ازالے میں ناکامی پر معطل کیا ہے اور انہیں ہیڈکوارٹر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق یہ احتسابی مہم صرف پیسکو اور سیپکو تک محدود نہیں بلکہ لیسکو، گیپکو، فیسکو، آئیسکو، میپکو، ہیزکو، حیسکو، کیسکو اور ٹیسکو سمیت تمام کمپنیوں میں بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت توانائی کے مطابق مجموعی طور پر 100 سے زائد ایس ڈی اوز اور ایکسینز کی نشاندہی کی گئی ہے جو ناقص کارکردگی کے باعث ممکنہ تادیبی کارروائی، شوکاز نوٹسز، معطلی اور غیر آپریشنل پوسٹنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی نے تمام ڈسکوز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہفتہ وار بنیادوں پر شکایات کے ازالے کی نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنائیں، جبکہ مسلسل ناکامی دکھانے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی، جس میں معطلی، تبادلہ اور لازمی ریٹائرمنٹ بھی شامل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے کہ ہر شہری کو بروقت، قابل اعتماد اور باعزت بجلی سروس فراہم کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیلڈ افسران کی ناقص کارکردگی صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، جسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بدھ کے روز ملک بھر کی تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب ڈویژنل افسران (ایس ڈی اوز) اور ایکسینز  کی ناقص کارکردگی پر فوری طور پر محکمانہ کارروائی شروع کی جائے۔</strong></p>
<p>سرکاری اعلامیے کے مطابق پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) وہ پہلی ڈسکوز بن گئی ہیں جنہوں نے قومی 118 کال سینٹر سسٹم  کے تحت درج صارف شکایات کے ازالے میں ناکامی پر  ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران کے خلاف فوری کارروائی شروع کر دی ہے، جس میں معطلی بھی شامل ہے۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک کی دیگر تمام ڈسکوز بھی اپنے متعلقہ ناقص کارکردگی والے افسران کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی کا عمل شروع کر رہی ہیں۔</p>
<p>وزیر توانائی نے کہا کہ 118 کال سینٹر پلیٹ فارم شہریوں اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اور جو افسران اس نظام کو نظرانداز کرتے ہیں وہ حکومت کے صارفین کی فلاح کے عزم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔</p>
<p>یہ کارروائیاں یکم اکتوبر 2025 سے 31 مارچ 2026 تک کے  ڈیٹا کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔ وزیرتوانائی نے ہدایت کی کہ شناخت شدہ افسران کے خلاف بلا تاخیر محکمانہ کارروائی کی جائے اور اسے مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے۔</p>
<p>پیسکو نے فوری طور پر 3 ایس ڈی اوز اور 1 ایکسین کو معطل کر دیا ہے، جن پر شکایات کے ازالے میں ناکامی اور کارکردگی کے اہداف پورے نہ کرنے کا الزام ہے۔ معطل شدہ افسران کو جنرل منیجر آپریشنز پیسکو ہیڈکوارٹر کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی حاضری یقینی بنائی جا سکے۔</p>
<p>اسی طرح سیپکو نے بھی  ایک ایس ڈی او اور ایک ایکسین (سابقہ) کو ناقص کارکردگی اور شکایات کے بروقت ازالے میں ناکامی پر معطل کیا ہے اور انہیں ہیڈکوارٹر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق یہ احتسابی مہم صرف پیسکو اور سیپکو تک محدود نہیں بلکہ لیسکو، گیپکو، فیسکو، آئیسکو، میپکو، ہیزکو، حیسکو، کیسکو اور ٹیسکو سمیت تمام کمپنیوں میں بھی جاری ہے۔</p>
<p>وزارت توانائی کے مطابق مجموعی طور پر 100 سے زائد ایس ڈی اوز اور ایکسینز کی نشاندہی کی گئی ہے جو ناقص کارکردگی کے باعث ممکنہ تادیبی کارروائی، شوکاز نوٹسز، معطلی اور غیر آپریشنل پوسٹنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>وزیر توانائی نے تمام ڈسکوز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہفتہ وار بنیادوں پر شکایات کے ازالے کی نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنائیں، جبکہ مسلسل ناکامی دکھانے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی، جس میں معطلی، تبادلہ اور لازمی ریٹائرمنٹ بھی شامل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے کہ ہر شہری کو بروقت، قابل اعتماد اور باعزت بجلی سروس فراہم کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیلڈ افسران کی ناقص کارکردگی صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، جسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287029</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:33:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/03123125b44679a.webp" type="image/webp" medium="image" height="278" width="497">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/03123125b44679a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
