<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں 21 سال کے کم ترین بجٹ خسارے کی پیش گوئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287026/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مقامی ریسرچ ہاؤس کے مطابق پاکستان مالی سال 2025-26  میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 3.6 فیصد کے ساتھ گزشتہ 21 سال کی کم ترین بجٹ خسارے کی سطح پر پہنچنے کا امکان رکھتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت جاری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت سخت مالی نظم و ضبط برقرار رکھے ہوئے ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال میں یہ خسارہ 5.4 فیصد جی ڈی پی کے برابر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;بجٹ خسارہ (یا مالی خسارہ) اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت کے کل اخراجات اس کی کل آمدنی سے زیادہ ہوں، یعنی ریاست اپنی آمدن سے زیادہ خرچ کر رہی ہو۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے منگل کے روز اپنے مختصر تبصرے میں کہا کہ مالی توازن میں یہ نمایاں بہتری حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اختیار کی گئی سخت مالی پالیسی کے باعث متوقع ہے، جس میں اخراجات میں محدود اضافہ اور مجموعی آمدنی (بشمول ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدنی) میں مناسب اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/02224207c065d75.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/02224207c065d75.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن ریسرچ کے ڈائریکٹر شنکر تلریجا نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی جانب سے وفاقی حکومت کو 2.4 کھرب روپے منافع کی فراہمی مالی سال 26 میں ممکنہ طور پر 21 سال کی کم ترین مالی خسارے کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے حال ہی میں رپورٹ کیا کہ 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے پہلے نو ماہ میں مالی خسارہ مجموعی جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک کم ہو گیا۔ بنیادی سرپلس (یعنی مجموعی مالی خسارے میں سے قرضوں پر سود کی ادائیگی کو نکال کر) اسی مدت میں جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق مرکزی بینک کے منافع میں اضافہ، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) میں 45 فیصد اضافہ ہو کر 1.2 کھرب روپے تک پہنچنا، اور اندرونی قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی کے باعث سودی ادائیگیوں میں نمایاں کمی نے حکومت کو سخت مالی پالیسی برقرار رکھنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے اپنی نو ماہ کی مالی رپورٹ میں کہا کہ سخت مالی نظم و ضبط، کیش مینجمنٹ اور 1.9 کھرب روپے کے اندرونی قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی کے نتیجے میں گزشتہ مالی سال  کے مقابلے میں اندرونی قرضوں کی سروسنگ میں 1.495 کھرب روپے کی بچت ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنکر تلریجا نے مزید کہا کہ پورے مالی سال 26 کے لیے مالی خسارہ 3.2 فیصد تک بڑھ جائے گا، جبکہ پہلے نو ماہ میں یہ منفی 0.7 فیصد تھا، جس کی وجہ آخری سہ ماہی (اپریل تا جون مالی سال26) میں متوقع طور پر زیادہ اخراجات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تاریخی رجحانات کے مطابق حکومت ہر سال آخری سہ ماہی میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ فنڈز جاری کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جاری آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں اب تک 150 بیسس پوائنٹس کا اضافہ بھی مالی خسارے میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیس سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ یوسف ایم فاروق نے کہا کہ مالی خسارہ کم ہی رہے گا، چاہے مرکزی بینک 2.4 کھرب روپے کا منافع حکومت کو منتقل نہ بھی کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق حکومت نے سیاسی استحکام کے باعث محتاط مالی پالیسی اپنائی ہے۔ سیاسی استحکام نے حکومت کو مالی سال 26 میں گزشتہ غیر مستحکم ادوار کے مقابلے میں کم نئی کرنسی نوٹ چھاپنے کا موقع دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جولائی تا مئی (2025-26) کے دوران 11.227 کھرب روپے کی عارضی وصولی کی ہے، جبکہ نظرثانی شدہ ہدف 12.095 کھرب روپے تھا، یعنی 868 ارب روپے کا شارٹ فال رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف بھی 14.307 کھرب روپے سے کم کر کے 13.979 کھرب روپے کر دیا گیا ہے، یعنی 328 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ٹیکس مشینری کو موجودہ مالی سال کے آخری مہینے یعنی جون 2026 میں 2.752 کھرب روپے کی بھاری رقم اکٹھی کرنے کا مشکل ہدف درپیش ہے، جو بظاہر ایک ناممکن ٹاسک ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مقامی ریسرچ ہاؤس کے مطابق پاکستان مالی سال 2025-26  میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 3.6 فیصد کے ساتھ گزشتہ 21 سال کی کم ترین بجٹ خسارے کی سطح پر پہنچنے کا امکان رکھتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت جاری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت سخت مالی نظم و ضبط برقرار رکھے ہوئے ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ مالی سال میں یہ خسارہ 5.4 فیصد جی ڈی پی کے برابر تھا۔</p>
<ul>
<li>بجٹ خسارہ (یا مالی خسارہ) اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت کے کل اخراجات اس کی کل آمدنی سے زیادہ ہوں، یعنی ریاست اپنی آمدن سے زیادہ خرچ کر رہی ہو۔</li>
</ul>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے منگل کے روز اپنے مختصر تبصرے میں کہا کہ مالی توازن میں یہ نمایاں بہتری حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اختیار کی گئی سخت مالی پالیسی کے باعث متوقع ہے، جس میں اخراجات میں محدود اضافہ اور مجموعی آمدنی (بشمول ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدنی) میں مناسب اضافہ شامل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/02224207c065d75.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/02224207c065d75.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ٹاپ لائن ریسرچ کے ڈائریکٹر شنکر تلریجا نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی جانب سے وفاقی حکومت کو 2.4 کھرب روپے منافع کی فراہمی مالی سال 26 میں ممکنہ طور پر 21 سال کی کم ترین مالی خسارے کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے حال ہی میں رپورٹ کیا کہ 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے پہلے نو ماہ میں مالی خسارہ مجموعی جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک کم ہو گیا۔ بنیادی سرپلس (یعنی مجموعی مالی خسارے میں سے قرضوں پر سود کی ادائیگی کو نکال کر) اسی مدت میں جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک رہا۔</p>
<p>وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق مرکزی بینک کے منافع میں اضافہ، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) میں 45 فیصد اضافہ ہو کر 1.2 کھرب روپے تک پہنچنا، اور اندرونی قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی کے باعث سودی ادائیگیوں میں نمایاں کمی نے حکومت کو سخت مالی پالیسی برقرار رکھنے میں مدد دی۔</p>
<p>وزارت خزانہ نے اپنی نو ماہ کی مالی رپورٹ میں کہا کہ سخت مالی نظم و ضبط، کیش مینجمنٹ اور 1.9 کھرب روپے کے اندرونی قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی کے نتیجے میں گزشتہ مالی سال  کے مقابلے میں اندرونی قرضوں کی سروسنگ میں 1.495 کھرب روپے کی بچت ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>شنکر تلریجا نے مزید کہا کہ پورے مالی سال 26 کے لیے مالی خسارہ 3.2 فیصد تک بڑھ جائے گا، جبکہ پہلے نو ماہ میں یہ منفی 0.7 فیصد تھا، جس کی وجہ آخری سہ ماہی (اپریل تا جون مالی سال26) میں متوقع طور پر زیادہ اخراجات ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تاریخی رجحانات کے مطابق حکومت ہر سال آخری سہ ماہی میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ فنڈز جاری کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جاری آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں اب تک 150 بیسس پوائنٹس کا اضافہ بھی مالی خسارے میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔</p>
<p>چیس سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ یوسف ایم فاروق نے کہا کہ مالی خسارہ کم ہی رہے گا، چاہے مرکزی بینک 2.4 کھرب روپے کا منافع حکومت کو منتقل نہ بھی کرتا۔</p>
<p>ان کے مطابق حکومت نے سیاسی استحکام کے باعث محتاط مالی پالیسی اپنائی ہے۔ سیاسی استحکام نے حکومت کو مالی سال 26 میں گزشتہ غیر مستحکم ادوار کے مقابلے میں کم نئی کرنسی نوٹ چھاپنے کا موقع دیا ہے۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جولائی تا مئی (2025-26) کے دوران 11.227 کھرب روپے کی عارضی وصولی کی ہے، جبکہ نظرثانی شدہ ہدف 12.095 کھرب روپے تھا، یعنی 868 ارب روپے کا شارٹ فال رہا۔</p>
<p>ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف بھی 14.307 کھرب روپے سے کم کر کے 13.979 کھرب روپے کر دیا گیا ہے، یعنی 328 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے۔</p>
<p>اب ٹیکس مشینری کو موجودہ مالی سال کے آخری مہینے یعنی جون 2026 میں 2.752 کھرب روپے کی بھاری رقم اکٹھی کرنے کا مشکل ہدف درپیش ہے، جو بظاہر ایک ناممکن ٹاسک ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287026</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 11:57:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/03115337879f252.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/03115337879f252.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
