<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>او جی ڈی سی ایل نے سانگھڑ میں تیل کے نئے ذخائر دریافت کرلئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287024/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع اپنے ایک تلاشی کنویں بابی ڈیپ- ون سے تیل کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی ایل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بدھ کے روز بتایا کہ بابی اور دھامرکی مائننگ لیز کے علاقے میں تیل کے ذخائر دریافت کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی اس منصوبے کی آپریٹر ہے اور اس میں اس کا 100 فیصد ورکنگ انٹرسٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق وائر لائن لاگز کی تشریح کی بنیاد پر لوئر گورو فارمیشن کے بڑے ریتیلے ذخائر کو کیسڈ ہول ڈرل اسٹیم ٹیسٹ (ڈی ایس ٹی) کے ذریعے آزمایا گیا، جس کے نتیجے میں یومیہ 2,000 بیرل خام تیل  اور 1.1 ملین معیاری مکعب فٹ گیس  پیداوار حاصل ہوئی۔ یہ پیداوار 32/64 انچ چوک سائز پر حاصل ہوئی جبکہ ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر (1,050 پاؤنڈ فی اسکوائر انچ  ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ بابی ڈیپ-ون ایکسپلورٹری کنویں کو 3 مئی 2026 کو دوبارہ کھولا گیا تاکہ لوئر گورو فارمیشن کے بڑے ریتیلے ذخائر میں ہائیڈروکاربن کی موجودگی کا جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کنواں مجموعی طور پر 3,305 میٹر کی گہرائی تک سمبر فارمیشن میں او جی ڈی سی ایل کی اندرونی تکنیکی اور آپریشنل صلاحیتوں کے ذریعے ڈرل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق یہ دریافت بابی اور دھامرکی مائننگ لیز کے علاقے میں ایک اہم سنگِ میل ہے اور یہ اس علاقے میں ماسِیو سینڈ پلے سے پہلی ہائیڈروکاربن دریافت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ اس نئی دریافت سے نہ صرف ایک نیا ایکسپلوریشن پلے متعارف ہوا ہے بلکہ قریبی علاقوں میں موجود ممکنہ ذخائر کے خطرات بھی کم ہوئے ہیں، جس سے مستقبل کی تلاش اور وسائل میں اضافے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق یہ دریافت ملکی توانائی کی طلب و رسد کے فرق کو کم کرنے میں مدد دے گی، جبکہ او جی ڈی سی ایل اور ملک کے مجموعی ہائیڈروکاربن ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع اپنے ایک تلاشی کنویں بابی ڈیپ- ون سے تیل کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>او جی ڈی سی ایل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بدھ کے روز بتایا کہ بابی اور دھامرکی مائننگ لیز کے علاقے میں تیل کے ذخائر دریافت کیے گئے ہیں۔</p>
<p>کمپنی اس منصوبے کی آپریٹر ہے اور اس میں اس کا 100 فیصد ورکنگ انٹرسٹ ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق وائر لائن لاگز کی تشریح کی بنیاد پر لوئر گورو فارمیشن کے بڑے ریتیلے ذخائر کو کیسڈ ہول ڈرل اسٹیم ٹیسٹ (ڈی ایس ٹی) کے ذریعے آزمایا گیا، جس کے نتیجے میں یومیہ 2,000 بیرل خام تیل  اور 1.1 ملین معیاری مکعب فٹ گیس  پیداوار حاصل ہوئی۔ یہ پیداوار 32/64 انچ چوک سائز پر حاصل ہوئی جبکہ ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر (1,050 پاؤنڈ فی اسکوائر انچ  ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ بابی ڈیپ-ون ایکسپلورٹری کنویں کو 3 مئی 2026 کو دوبارہ کھولا گیا تاکہ لوئر گورو فارمیشن کے بڑے ریتیلے ذخائر میں ہائیڈروکاربن کی موجودگی کا جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>یہ کنواں مجموعی طور پر 3,305 میٹر کی گہرائی تک سمبر فارمیشن میں او جی ڈی سی ایل کی اندرونی تکنیکی اور آپریشنل صلاحیتوں کے ذریعے ڈرل کیا گیا۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق یہ دریافت بابی اور دھامرکی مائننگ لیز کے علاقے میں ایک اہم سنگِ میل ہے اور یہ اس علاقے میں ماسِیو سینڈ پلے سے پہلی ہائیڈروکاربن دریافت ہے۔</p>
<p>او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ اس نئی دریافت سے نہ صرف ایک نیا ایکسپلوریشن پلے متعارف ہوا ہے بلکہ قریبی علاقوں میں موجود ممکنہ ذخائر کے خطرات بھی کم ہوئے ہیں، جس سے مستقبل کی تلاش اور وسائل میں اضافے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق یہ دریافت ملکی توانائی کی طلب و رسد کے فرق کو کم کرنے میں مدد دے گی، جبکہ او جی ڈی سی ایل اور ملک کے مجموعی ہائیڈروکاربن ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287024</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 11:37:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/031134434ad1234.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/031134434ad1234.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
