<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہیلنگ صارفین پر اضافی چارجز کا نفاذ، پاور ڈویژن نے نیپرا سے منظوری مانگ لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287011/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن نے ملک بھر میں وہیلنگ صارفین پر یکساں گرڈ چارجز کے نفاذ کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے باضابطہ منظوری طلب کر لی ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت یوز آف سسٹم چارجز (یو او ایس سی) کو تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے-الیکٹرک پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے وفاقی حکومت کی درخواست اور مجوزہ پالیسی گائیڈ لائنز پر غور کے لیے 11 جون 2026 کو عوامی سماعت مقرر کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں اوپن ایکسس اور بلک پاور صارفین کے لیے یکساں گرڈ چارجز کا نظام متعارف کرانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر کے مطابق یہ درخواست نیپرا کی 18 دسمبر 2025 کی ان سفارشات کے تناظر میں پیش کی گئی ہے جو سابق واپڈا ڈسکوز کے لیے یو او ایس سی سے متعلق تھیں۔ حکومت اب قومی بجلی پالیسی، قومی بجلی منصوبے اور 2023 کے الیکٹرک پاور سپلائر لائسنس رولز کے مطابق ایک یکساں فریم ورک نافذ کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کی تجویز کے مطابق ڈسکوز اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے اخراجات کی وصولی کے لیے اضافی چارجز عائد کیے جائیں گے۔ ان اخراجات کو آئندہ ٹیرف تعین میں پریئر ایئر ایڈجسٹمنٹس (پی وائے اے) کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ یکساں وہیلنگ چارجز کے باعث پیدا ہونے والے مالیاتی خلا کو پُر کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ یو او ایس سی نرخوں کے مطابق  بی-4 صارفین کے لیے 6.69 روپے فی یونٹ،  سی-3 کے لیے 18.29 روپے،  بی-3 کے لیے 8.51 روپے،  سی-2( اے) کے لیے 12.63 روپے، سی-2(بی) کے لیے 18.20 روپے،  اے-2(سی) کے لیے 25.01 روپے،  اے-3 کے لیے 15.22 روپے جبکہ  ڈی-1(بی) کے لیے 5.30 روپے فی یونٹ چارج تجویز کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے سیکشن 88 میں ترمیم کی بھی تجویز دی ہے، جس کا مقصد مختلف ڈسکوز کے درمیان یکساں اوپن ایکسس چارجز سے پیدا ہونے والے مالی فرق کو منظم کرنا ہے۔ یہ ترمیم اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی منظوری سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) اصلاحات اور جون 2026 میں متوقع پہلی مارکیٹ نیلامی کے پیش نظر یکساں یو او ایس سی کا جلد تعین ناگزیر ہے۔ وفاقی حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ 11 ڈسکوز کے لیے مقررہ یو او ایس سی کو کے-الیکٹرک تک توسیع دی جائے اور مالیاتی خلا کو سبسڈی کے بجائے ریگولیٹر سے منظور شدہ اضافی چارجز کے ذریعے پورا کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں تمام فریقوں کے لیے مساوی مواقع یقینی بنائے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن نے ملک بھر میں وہیلنگ صارفین پر یکساں گرڈ چارجز کے نفاذ کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے باضابطہ منظوری طلب کر لی ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت یوز آف سسٹم چارجز (یو او ایس سی) کو تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے-الیکٹرک پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>نیپرا نے وفاقی حکومت کی درخواست اور مجوزہ پالیسی گائیڈ لائنز پر غور کے لیے 11 جون 2026 کو عوامی سماعت مقرر کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں اوپن ایکسس اور بلک پاور صارفین کے لیے یکساں گرڈ چارجز کا نظام متعارف کرانا ہے۔</p>
<p>ریگولیٹر کے مطابق یہ درخواست نیپرا کی 18 دسمبر 2025 کی ان سفارشات کے تناظر میں پیش کی گئی ہے جو سابق واپڈا ڈسکوز کے لیے یو او ایس سی سے متعلق تھیں۔ حکومت اب قومی بجلی پالیسی، قومی بجلی منصوبے اور 2023 کے الیکٹرک پاور سپلائر لائسنس رولز کے مطابق ایک یکساں فریم ورک نافذ کرنا چاہتی ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کی تجویز کے مطابق ڈسکوز اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے اخراجات کی وصولی کے لیے اضافی چارجز عائد کیے جائیں گے۔ ان اخراجات کو آئندہ ٹیرف تعین میں پریئر ایئر ایڈجسٹمنٹس (پی وائے اے) کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ یکساں وہیلنگ چارجز کے باعث پیدا ہونے والے مالیاتی خلا کو پُر کیا جا سکے۔</p>
<p>مجوزہ یو او ایس سی نرخوں کے مطابق  بی-4 صارفین کے لیے 6.69 روپے فی یونٹ،  سی-3 کے لیے 18.29 روپے،  بی-3 کے لیے 8.51 روپے،  سی-2( اے) کے لیے 12.63 روپے، سی-2(بی) کے لیے 18.20 روپے،  اے-2(سی) کے لیے 25.01 روپے،  اے-3 کے لیے 15.22 روپے جبکہ  ڈی-1(بی) کے لیے 5.30 روپے فی یونٹ چارج تجویز کیا گیا ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے سیکشن 88 میں ترمیم کی بھی تجویز دی ہے، جس کا مقصد مختلف ڈسکوز کے درمیان یکساں اوپن ایکسس چارجز سے پیدا ہونے والے مالی فرق کو منظم کرنا ہے۔ یہ ترمیم اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی منظوری سے مشروط ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) اصلاحات اور جون 2026 میں متوقع پہلی مارکیٹ نیلامی کے پیش نظر یکساں یو او ایس سی کا جلد تعین ناگزیر ہے۔ وفاقی حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ 11 ڈسکوز کے لیے مقررہ یو او ایس سی کو کے-الیکٹرک تک توسیع دی جائے اور مالیاتی خلا کو سبسڈی کے بجائے ریگولیٹر سے منظور شدہ اضافی چارجز کے ذریعے پورا کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں تمام فریقوں کے لیے مساوی مواقع یقینی بنائے جا سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287011</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 09:04:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/03090306e315a8e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1344">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/03090306e315a8e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
