<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 05:23:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 05:23:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اب سعودی ریال اور اماراتی درہم میں بھی دستیاب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287008/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کو سعودی ریال اور متحدہ عرب امارات کے درہم میں بھی جاری کرنے کا فیصلہ  کیا ہے جس کا مقصد خلیجی خطے میں مقیم سمندر پار پاکستانیوں سے ان بانڈز میں مزید سرمایہ کاری راغب کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے باضابطہ سرکلر جاری کر دیا ہے ۔اسٹیٹ بینک کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اس سے قبل پاکستانی روپے، امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یورو میں دستیاب تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکیم کی حالیہ توسیع کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم سمندر پار پاکستانی اب اپنی مقامی کرنسیوں یعنی سعودی ریال اور اماراتی درہم میں بھی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جس سے سرمایہ کاری کا عمل مزید آسان اور قابلِ رسائی ہو جائے گا۔ امید ہے کہ اس اقدام سے اوورسیز پاکستانیوں کو ان کرنسیوں میں سرمایہ کاری کے زیادہ آسان مواقع ملیں گے جو خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں عام طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ وقت فوقتاً جاری ہونے والے فنانس ڈویژن کے سرکلرز کے ذریعے نوٹیفائیڈ سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کا طریقہ کار، متواتر کوپن کی ادائیگیاں (منافع کی رقم)، وقت سے پہلے کیش کروانا اور میچورٹی پر رقم کی واپسی کے قوانین اب سعودی ریال اور اماراتی درہم مالیت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر بھی لاگو ہوں گے۔ تاہم نامزد ایجنٹ بینک سرٹیفکیٹس کی اصل مالیت اسٹیٹ بینک آف پاکستانکے نوسٹرو  اکاؤنٹس میں منتقل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں بھی نظرثانی کر دی ہے اور یکم جون 2026 سے روایتی این پی سیز پر نئی شرحِ منافع کے نفاذ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم از کم 1,000 امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اور اس کے بعد 500 امریکی ڈالر کے اضافے پر مجموعی سالانہ منافع (ٹیکس سے پہلے)میں 25 بیسس پوائنٹس تک کی نظرثانی کی گئی ہے۔  تین ماہ کی مدت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی شرح 7  سے کم کر کے 6.75 فیصد کر دی گئی ہے۔ 6 ماہ اور 3 سال کی مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح بالترتیب 7 فیصد اور 7.50 فیصد پر برقرار رکھی گئی ہے۔ دوسری جانب 12 ماہ کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پر اب 7.25 فیصد منافع پیش کیا جا رہا ہےجو کہ گزشتہ 7 فیصد سے معمولی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، 5 سالہ مدت کے سرٹیفکیٹ کا منافع 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بڑھا کر 7.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کو سعودی ریال اور متحدہ عرب امارات کے درہم میں بھی جاری کرنے کا فیصلہ  کیا ہے جس کا مقصد خلیجی خطے میں مقیم سمندر پار پاکستانیوں سے ان بانڈز میں مزید سرمایہ کاری راغب کرنا ہے۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے باضابطہ سرکلر جاری کر دیا ہے ۔اسٹیٹ بینک کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اس سے قبل پاکستانی روپے، امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یورو میں دستیاب تھے۔</p>
<p>اسکیم کی حالیہ توسیع کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم سمندر پار پاکستانی اب اپنی مقامی کرنسیوں یعنی سعودی ریال اور اماراتی درہم میں بھی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جس سے سرمایہ کاری کا عمل مزید آسان اور قابلِ رسائی ہو جائے گا۔ امید ہے کہ اس اقدام سے اوورسیز پاکستانیوں کو ان کرنسیوں میں سرمایہ کاری کے زیادہ آسان مواقع ملیں گے جو خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں عام طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ وقت فوقتاً جاری ہونے والے فنانس ڈویژن کے سرکلرز کے ذریعے نوٹیفائیڈ سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کا طریقہ کار، متواتر کوپن کی ادائیگیاں (منافع کی رقم)، وقت سے پہلے کیش کروانا اور میچورٹی پر رقم کی واپسی کے قوانین اب سعودی ریال اور اماراتی درہم مالیت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر بھی لاگو ہوں گے۔ تاہم نامزد ایجنٹ بینک سرٹیفکیٹس کی اصل مالیت اسٹیٹ بینک آف پاکستانکے نوسٹرو  اکاؤنٹس میں منتقل کریں گے۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں بھی نظرثانی کر دی ہے اور یکم جون 2026 سے روایتی این پی سیز پر نئی شرحِ منافع کے نفاذ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔</p>
<p>کم از کم 1,000 امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اور اس کے بعد 500 امریکی ڈالر کے اضافے پر مجموعی سالانہ منافع (ٹیکس سے پہلے)میں 25 بیسس پوائنٹس تک کی نظرثانی کی گئی ہے۔  تین ماہ کی مدت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی شرح 7  سے کم کر کے 6.75 فیصد کر دی گئی ہے۔ 6 ماہ اور 3 سال کی مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح بالترتیب 7 فیصد اور 7.50 فیصد پر برقرار رکھی گئی ہے۔ دوسری جانب 12 ماہ کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پر اب 7.25 فیصد منافع پیش کیا جا رہا ہےجو کہ گزشتہ 7 فیصد سے معمولی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، 5 سالہ مدت کے سرٹیفکیٹ کا منافع 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بڑھا کر 7.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287008</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 01:00:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/030057235dc4ab4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/030057235dc4ab4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
