<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 05:23:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 05:23:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور 7 دیگر مسلم ممالک کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی دراندازیوں کی شدید مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287006/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے منگل کے روز مسجدِ اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے ایسے تمام اشتعال انگیز اقدامات فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں مسلم ممالک نے یروشلم اور وہاں واقع اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ اسرائیلی افواج کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف میں مسلسل دراندازیوں اور اس کے احاطوں میں اسرائیلی پرچم لہرانے کے اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2061836009747472441'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2061836009747472441"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا، ’’یہ ممالک اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم ممالک نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل، جو ایک قابض طاقت ہے، کی جانب سے جاری ’’مسلسل اور منظم خلاف ورزیوں اور اقدامات‘‘ کی بھی مذمت کرتے ہیں، جن کا مقصد مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی شناخت کو تبدیل کرنا اور وہاں موجود اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، ’’وزرائے خارجہ یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت میں تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں اور اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیتے ہیں، جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے تاریخی کردار کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے تحت قائم محکمہ اوقافِ یروشلم و امورِ مسجدِ اقصیٰ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے امور کو منظم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کی روک تھام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل کی بار بار کی خلاف ورزیاں کشیدگی میں اضافہ، عدم استحکام اور انتہاپسندی کو ہوا دینے، امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچانے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی کا سبب بن رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسرائیل سے ایسے تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کی تاریخی اور قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا، ’’وزرائے خارجہ فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی اور ان کے جائز و ناقابلِ تنسیخ قومی حقوق کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، جن میں حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام سرفہرست ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے منگل کے روز مسجدِ اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے ایسے تمام اشتعال انگیز اقدامات فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>مشترکہ بیان میں مسلم ممالک نے یروشلم اور وہاں واقع اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ اسرائیلی افواج کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف میں مسلسل دراندازیوں اور اس کے احاطوں میں اسرائیلی پرچم لہرانے کے اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2061836009747472441'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2061836009747472441"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا، ’’یہ ممالک اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘‘</p>
<p>مسلم ممالک نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل، جو ایک قابض طاقت ہے، کی جانب سے جاری ’’مسلسل اور منظم خلاف ورزیوں اور اقدامات‘‘ کی بھی مذمت کرتے ہیں، جن کا مقصد مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی شناخت کو تبدیل کرنا اور وہاں موجود اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق، ’’وزرائے خارجہ یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت میں تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں اور اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیتے ہیں، جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے تاریخی کردار کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے تحت قائم محکمہ اوقافِ یروشلم و امورِ مسجدِ اقصیٰ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے امور کو منظم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کی روک تھام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل کی بار بار کی خلاف ورزیاں کشیدگی میں اضافہ، عدم استحکام اور انتہاپسندی کو ہوا دینے، امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچانے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی کا سبب بن رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اسرائیل سے ایسے تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کی تاریخی اور قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا، ’’وزرائے خارجہ فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی اور ان کے جائز و ناقابلِ تنسیخ قومی حقوق کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، جن میں حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام سرفہرست ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287006</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 23:09:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02225630d993afb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02225630d993afb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
