<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 03:18:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 03:18:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کانگریس میں روبیو کو سخت سوالات کا سامنا، ایران جنگ چوتھے مہینے میں داخل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287005/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ارکان کو رواں ہفتے ایک نادر موقع ملا ہے کہ وہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر کھلے عام سوالات کر سکیں، ایسے وقت میں جب ان کے ہم جماعت ریپبلکن اراکین بھی ایران جنگ پر تشویش کے آثار ظاہر کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو، جو بیک وقت ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، نے منگل کی صبح سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے محکمہ خارجہ کے بجٹ کی درخواست کے بارے میں اپنا موقف پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں آئندہ دو روز کے دوران ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی اور ایوان و سینیٹ کی تخصیصی ذیلی کمیٹیوں کے سامنے بھی پیش ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے درخواست کی ہے کہ وہ خارجہ امور کے بجٹ میں مجوزہ 30 فیصد کٹوتی کی منظوری دے، جبکہ ساتھ ہی دفاعی اخراجات میں 50 فیصد اضافے کی کوشش بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خارجہ &lt;strong&gt;مارکو روبیو&lt;/strong&gt;، جو جنوری 2025 تک فلوریڈا سے سینیٹر رہے، سے قانون سازوں نے توقع ظاہر کی کہ وہ اپنے سابق ساتھی کی حیثیت سے ایران تنازع کے خاتمے کے لیے حکمتِ عملی واضح کریں گے۔ یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایران-جنگ-پر-روبیو-کی-پہلی-عوامی-گواہی" href="#ایران-جنگ-پر-روبیو-کی-پہلی-عوامی-گواہی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایران جنگ پر روبیو کی پہلی عوامی گواہی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;روبیو اس سے قبل ایران جنگ پر اعلیٰ حکومتی حکام کے ساتھ کانگریس ارکان کو بند دروازوں کے پیچھے بریفنگ دیتے رہے ہیں، تاہم یہ ان کی اس تنازع پر پہلی عوامی گواہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی اعلیٰ ڈیموکریٹ رکن جین شیہن نے روبیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کو انتظامیہ کے منصوبوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”جب میں اپنے ووٹرز سے بات کرتی ہوں تو وہ ملک میں معاشی ریلیف مانگتے ہیں، نہ کہ ہوانا، کاراکاس یا تہران میں حکومت کی تبدیلی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا ”آپ نے کانگریس کو ایک وار پاورز نوٹیفکیشن بھیجا جس میں کہا گیا کہ ہم ایران کے ساتھ فعال جنگی حالت میں نہیں ہیں، جبکہ امریکہ ایران پر حملے کر رہا تھا اور ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتخانوں اور اڈوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ یہ مشاورت نہیں تھی بلکہ اس جنگ پر اس کمیٹی اور کانگریس کو جواب دہی سے بچنے کی کوشش تھی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی عوام میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ ٹرمپ کی جماعت کے ریپبلکن ارکان بھی امید کر رہے ہیں کہ وہ نومبر کے انتخابات سے قبل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں کامیاب ہوں گے، تاکہ کانگریس میں اپنی کمزور اکثریت برقرار رکھ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایران-جنگ-ختم-کرنے-کی-کوششیں" href="#ایران-جنگ-ختم-کرنے-کی-کوششیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایران جنگ ختم کرنے کی کوششیں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے ان ارکان کا بھی سامنا ہے جو ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی کے سخت مخالف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اور ان کے حامیوں کے مطابق یہ جنگ اس صورت میں درست ثابت ہوگی اگر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ ٹرمپ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں کم ہوں گی اور وہ کئی ہفتوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک “بہتر معاہدہ” کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو نے سینیٹرز کو بتایا کہ ایران اپنے روایتی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو اپنے جوہری پروگرام کے لیے ایک “ڈھال” کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔ ان کے مطابق، “وہ ایک روایتی دفاعی ڈھال تیار کر کے اس کے پیچھے اپنا جوہری پروگرام چھپانا چاہتے تھے۔” اسی وجہ سے صدر ٹرمپ نے جنگ شروع کرنا ضروری سمجھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون سازوں، بشمول ٹرمپ کی اپنی جماعت کے کچھ ارکان، نے ایران اور دیگر خارجہ پالیسی اہداف پر انتظامیہ سے مزید تفصیلات کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ نے ایک وار پاورز قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت اگر ٹرمپ کانگریس کی اجازت حاصل نہ کریں تو ایران جنگ ختم کی جا سکتی ہے۔ چند روز بعد ایوانِ نمائندگان کی قیادت نے ایسی ہی ایک قرارداد پر ووٹ اس وقت مؤخر کر دیا جب اس کی منظوری کے امکانات بڑھ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارکانِ کانگریس نے وینزویلا سے متعلق بھی مزید معلومات کا مطالبہ کیا ہے، خصوصاً اس صورتحال کے بعد جب ٹرمپ نے 3 جنوری کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی کی اور ان کی نائب شخصیت عبوری صدر کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ نئے انتخابات کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون سازوں نے وینزویلا کے ساحل کے قریب امریکی فورسز کی کشتیوں پر حملوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں، جو ستمبر سے جاری ایک مہم کا حصہ ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائیاں ”منشیات اسمگلروں“ کے خلاف ہیں، جن میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں، جہاں کمیونسٹ حکومت پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ افریقا میں مہلک بیماری ایبولا کے پھیلاؤ نے بھی نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ارکان کو رواں ہفتے ایک نادر موقع ملا ہے کہ وہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر کھلے عام سوالات کر سکیں، ایسے وقت میں جب ان کے ہم جماعت ریپبلکن اراکین بھی ایران جنگ پر تشویش کے آثار ظاہر کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>روبیو، جو بیک وقت ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، نے منگل کی صبح سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے محکمہ خارجہ کے بجٹ کی درخواست کے بارے میں اپنا موقف پیش کیا۔</p>
<p>انہیں آئندہ دو روز کے دوران ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی اور ایوان و سینیٹ کی تخصیصی ذیلی کمیٹیوں کے سامنے بھی پیش ہونا تھا۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے درخواست کی ہے کہ وہ خارجہ امور کے بجٹ میں مجوزہ 30 فیصد کٹوتی کی منظوری دے، جبکہ ساتھ ہی دفاعی اخراجات میں 50 فیصد اضافے کی کوشش بھی جاری ہے۔</p>
<p>وزیرِ خارجہ <strong>مارکو روبیو</strong>، جو جنوری 2025 تک فلوریڈا سے سینیٹر رہے، سے قانون سازوں نے توقع ظاہر کی کہ وہ اپنے سابق ساتھی کی حیثیت سے ایران تنازع کے خاتمے کے لیے حکمتِ عملی واضح کریں گے۔ یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔</p>
<h3><a id="ایران-جنگ-پر-روبیو-کی-پہلی-عوامی-گواہی" href="#ایران-جنگ-پر-روبیو-کی-پہلی-عوامی-گواہی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایران جنگ پر روبیو کی پہلی عوامی گواہی</h3>
<p>روبیو اس سے قبل ایران جنگ پر اعلیٰ حکومتی حکام کے ساتھ کانگریس ارکان کو بند دروازوں کے پیچھے بریفنگ دیتے رہے ہیں، تاہم یہ ان کی اس تنازع پر پہلی عوامی گواہی تھی۔</p>
<p>سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی اعلیٰ ڈیموکریٹ رکن جین شیہن نے روبیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کو انتظامیہ کے منصوبوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”جب میں اپنے ووٹرز سے بات کرتی ہوں تو وہ ملک میں معاشی ریلیف مانگتے ہیں، نہ کہ ہوانا، کاراکاس یا تہران میں حکومت کی تبدیلی۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا ”آپ نے کانگریس کو ایک وار پاورز نوٹیفکیشن بھیجا جس میں کہا گیا کہ ہم ایران کے ساتھ فعال جنگی حالت میں نہیں ہیں، جبکہ امریکہ ایران پر حملے کر رہا تھا اور ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتخانوں اور اڈوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ یہ مشاورت نہیں تھی بلکہ اس جنگ پر اس کمیٹی اور کانگریس کو جواب دہی سے بچنے کی کوشش تھی۔“</p>
<p>امریکی عوام میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ ٹرمپ کی جماعت کے ریپبلکن ارکان بھی امید کر رہے ہیں کہ وہ نومبر کے انتخابات سے قبل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں کامیاب ہوں گے، تاکہ کانگریس میں اپنی کمزور اکثریت برقرار رکھ سکیں۔</p>
<h3><a id="ایران-جنگ-ختم-کرنے-کی-کوششیں" href="#ایران-جنگ-ختم-کرنے-کی-کوششیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایران جنگ ختم کرنے کی کوششیں</h3>
<p>صدر ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے ان ارکان کا بھی سامنا ہے جو ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی کے سخت مخالف ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ اور ان کے حامیوں کے مطابق یہ جنگ اس صورت میں درست ثابت ہوگی اگر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ ٹرمپ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں کم ہوں گی اور وہ کئی ہفتوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک “بہتر معاہدہ” کریں گے۔</p>
<p>روبیو نے سینیٹرز کو بتایا کہ ایران اپنے روایتی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو اپنے جوہری پروگرام کے لیے ایک “ڈھال” کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔ ان کے مطابق، “وہ ایک روایتی دفاعی ڈھال تیار کر کے اس کے پیچھے اپنا جوہری پروگرام چھپانا چاہتے تھے۔” اسی وجہ سے صدر ٹرمپ نے جنگ شروع کرنا ضروری سمجھا۔</p>
<p>قانون سازوں، بشمول ٹرمپ کی اپنی جماعت کے کچھ ارکان، نے ایران اور دیگر خارجہ پالیسی اہداف پر انتظامیہ سے مزید تفصیلات کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ نے ایک وار پاورز قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت اگر ٹرمپ کانگریس کی اجازت حاصل نہ کریں تو ایران جنگ ختم کی جا سکتی ہے۔ چند روز بعد ایوانِ نمائندگان کی قیادت نے ایسی ہی ایک قرارداد پر ووٹ اس وقت مؤخر کر دیا جب اس کی منظوری کے امکانات بڑھ گئے تھے۔</p>
<p>ارکانِ کانگریس نے وینزویلا سے متعلق بھی مزید معلومات کا مطالبہ کیا ہے، خصوصاً اس صورتحال کے بعد جب ٹرمپ نے 3 جنوری کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی کی اور ان کی نائب شخصیت عبوری صدر کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ نئے انتخابات کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں۔</p>
<p>قانون سازوں نے وینزویلا کے ساحل کے قریب امریکی فورسز کی کشتیوں پر حملوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں، جو ستمبر سے جاری ایک مہم کا حصہ ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائیاں ”منشیات اسمگلروں“ کے خلاف ہیں، جن میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں، جہاں کمیونسٹ حکومت پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ افریقا میں مہلک بیماری ایبولا کے پھیلاؤ نے بھی نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287005</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 21:53:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02233023f59a6ad.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02233023f59a6ad.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
