<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:13:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:13:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رونالڈو ادھورا مشن ساتھ لیے چھٹے ورلڈ کپ کے لیے تیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287003/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کرسٹیانو رونالڈو نے فٹبال کی ریکارڈ بک کو اس قدر نئے زاویے دیے ہیں کہ ایک اور سنگِ میل اب گویا معمول کی بات محسوس ہونے لگا ہے، تاہم 41 برس کی عمر میں چھٹا ورلڈ کپ کھیلنا ان کے اپنے معیار پر بھی ایک غیر معمولی کارنامہ ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کا ٹورنامنٹ رونالڈو کے طویل اور اکثر کٹھن ورلڈ کپ سفر میں ایک اور پڑاؤ کا اضافہ کرے گا، جس کا آغاز 2006 میں جرمنی سے ہوا تھا اور جو جنوبی افریقہ، برازیل، روس اور قطر تک پھیلتا چلا گیا، مگر وہ اب تک اس انعام کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کے وہ برسوں سے متلاشی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف لیونل میسی ہی ان کے چھ ورلڈ کپ میں شرکت کے ریکارڈ کی برابری کے قریب ہیں، جو اس تاریخی رقابت کا ایک اور نیا موڑ ہے، ایک ایسی رقابت جو ریال میڈرڈ اور بارسلونا کی ٹکر سے شروع ہو کر بیلن ڈی آر کی محفلوں تک پہنچی اور اب فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے ریکارڈز کے باب میں داخل ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسی کے پاس آٹھ بیلن ڈی اور ایوارڈز ہیں جبکہ رونالڈو پانچ مرتبہ اس اعزاز کے حق دار ٹھہرے ہیں۔ دونوں عظیم کھلاڑی اپنی شاندار کہانیوں میں اب بھی نئے ابواب کی گنجائش پیدا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رونالڈو کے لیے ورلڈ کپ وہ واحد بڑا مرحلہ رہا ہے جو کبھی مکمل طور پر ان کے قابو میں نہیں آ سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا بہترین سفر 2006 میں سامنے آیا، جب پرتگال فرانس کے ہاتھوں شکست سے قبل سیمی فائنل تک پہنچا۔ اس کے بعد دو مرتبہ راؤنڈ آف 16 سے باہر ہونا، ایک کوارٹر فائنل میں شکست اور 2014 میں برازیل میں گروپ مرحلے سے مایوس کن اخراج ان کے حصے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار پرتگال کو گروپ K میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، ڈیبیو کرنے والے ازبکستان اور کولمبیا کا سامنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں رونالڈو 22 میچ کھیل چکے ہیں اور آٹھ گول اسکور کیے ہیں—عام کھلاڑی کے لیے یہ شاندار ریکارڈ ہے، لیکن اس فارورڈ کے معیار کے مقابلے میں نسبتاً کم، جس نے کلب سطح پر غیر معمولی کارکردگی کو معمول بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر 2022 ان کے ورلڈ کپ سفر کے اختتام کا تاثر دے رہا تھا۔ وہ مانچسٹر یونائیٹڈ سے علیحدگی کے شور میں ٹورنامنٹ میں آئے، ایک گول کیا، لیکن جنوبی کوریا سے 2-1 کی شکست کے بعد کوچ فرنینڈو سانتوس نے انہیں سوئٹزرلینڈ کے خلاف ناک آؤٹ میچ میں بینچ پر بٹھا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس کے برعکس وہ رابرٹو مارٹینیز کی قیادت میں ایک بار پھر میدان میں واپس آئے ہیں، ایک ایسے کھلاڑی کے عزم کے ساتھ جو وقت کو بھی ایک رکاوٹ سمجھ کر عبور کرتا چلا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرتگال کے پاس اس وقت ایک شاندار معاون دستہ موجود ہے، جس میں وِتِینا، جواؤ نیویس، برونو فرنانڈیز اور نونو مینڈیز جیسے نام شامل ہیں، مگر اس کے باوجود رونالڈو ہی توجہ کا مرکزی محور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 2024 میں مایوس کن کوارٹر فائنل اخراج کے بعد پرتگال نے نیشنز لیگ کے فائنل میں یورپی چیمپئن اسپین کو زیر کر کے شاندار واپسی کی اور اب وہ شمالی امریکہ میں مضبوط فارم کے ساتھ پہنچ رہے ہیں، جہاں رونالڈو ان کے قائد کی حیثیت سے موجود ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارٹینیز کے مطابق اعداد و شمار اب بھی رونالڈو کی اہمیت کے گواہ ہیں: ان کی کوچنگ میں 30 میچوں میں 25 گول—یعنی فی میچ اوسط ان کے سابق قومی کوچز سے بہتر—اور ایسے بے شمار کردار جو محض گول اسکورنگ میں ظاہر نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا، ’’وہ اپنی رننگ موومنٹس، اسپیس بنانے اور سینٹر بیک کو الجھانے میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارٹینیز نے مزید کہا، ’’جس نے سب کچھ جیت لیا ہو، اس میں بھی وہی بھوک نظر آتی ہے جو کسی ایسے کھلاڑی میں ہوتی ہے جس نے ابھی کچھ بھی حاصل نہ کیا ہو۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رونالڈو کے لیے 2026 عالمی اسٹیج پر شاید آخری باب ثابت ہو،اگرچہ یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کرسٹیانو رونالڈو نے فٹبال کی ریکارڈ بک کو اس قدر نئے زاویے دیے ہیں کہ ایک اور سنگِ میل اب گویا معمول کی بات محسوس ہونے لگا ہے، تاہم 41 برس کی عمر میں چھٹا ورلڈ کپ کھیلنا ان کے اپنے معیار پر بھی ایک غیر معمولی کارنامہ ہوگا۔</strong></p>
<p>2026 کا ٹورنامنٹ رونالڈو کے طویل اور اکثر کٹھن ورلڈ کپ سفر میں ایک اور پڑاؤ کا اضافہ کرے گا، جس کا آغاز 2006 میں جرمنی سے ہوا تھا اور جو جنوبی افریقہ، برازیل، روس اور قطر تک پھیلتا چلا گیا، مگر وہ اب تک اس انعام کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کے وہ برسوں سے متلاشی ہیں۔</p>
<p>صرف لیونل میسی ہی ان کے چھ ورلڈ کپ میں شرکت کے ریکارڈ کی برابری کے قریب ہیں، جو اس تاریخی رقابت کا ایک اور نیا موڑ ہے، ایک ایسی رقابت جو ریال میڈرڈ اور بارسلونا کی ٹکر سے شروع ہو کر بیلن ڈی آر کی محفلوں تک پہنچی اور اب فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے ریکارڈز کے باب میں داخل ہو چکی ہے۔</p>
<p>میسی کے پاس آٹھ بیلن ڈی اور ایوارڈز ہیں جبکہ رونالڈو پانچ مرتبہ اس اعزاز کے حق دار ٹھہرے ہیں۔ دونوں عظیم کھلاڑی اپنی شاندار کہانیوں میں اب بھی نئے ابواب کی گنجائش پیدا کر رہے ہیں۔</p>
<p>رونالڈو کے لیے ورلڈ کپ وہ واحد بڑا مرحلہ رہا ہے جو کبھی مکمل طور پر ان کے قابو میں نہیں آ سکا۔</p>
<p>ان کا بہترین سفر 2006 میں سامنے آیا، جب پرتگال فرانس کے ہاتھوں شکست سے قبل سیمی فائنل تک پہنچا۔ اس کے بعد دو مرتبہ راؤنڈ آف 16 سے باہر ہونا، ایک کوارٹر فائنل میں شکست اور 2014 میں برازیل میں گروپ مرحلے سے مایوس کن اخراج ان کے حصے میں آیا۔</p>
<p>اس بار پرتگال کو گروپ K میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، ڈیبیو کرنے والے ازبکستان اور کولمبیا کا سامنا ہوگا۔</p>
<p>پانچ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں رونالڈو 22 میچ کھیل چکے ہیں اور آٹھ گول اسکور کیے ہیں—عام کھلاڑی کے لیے یہ شاندار ریکارڈ ہے، لیکن اس فارورڈ کے معیار کے مقابلے میں نسبتاً کم، جس نے کلب سطح پر غیر معمولی کارکردگی کو معمول بنا دیا۔</p>
<p>قطر 2022 ان کے ورلڈ کپ سفر کے اختتام کا تاثر دے رہا تھا۔ وہ مانچسٹر یونائیٹڈ سے علیحدگی کے شور میں ٹورنامنٹ میں آئے، ایک گول کیا، لیکن جنوبی کوریا سے 2-1 کی شکست کے بعد کوچ فرنینڈو سانتوس نے انہیں سوئٹزرلینڈ کے خلاف ناک آؤٹ میچ میں بینچ پر بٹھا دیا۔</p>
<p>تاہم اس کے برعکس وہ رابرٹو مارٹینیز کی قیادت میں ایک بار پھر میدان میں واپس آئے ہیں، ایک ایسے کھلاڑی کے عزم کے ساتھ جو وقت کو بھی ایک رکاوٹ سمجھ کر عبور کرتا چلا جاتا ہے۔</p>
<p>پرتگال کے پاس اس وقت ایک شاندار معاون دستہ موجود ہے، جس میں وِتِینا، جواؤ نیویس، برونو فرنانڈیز اور نونو مینڈیز جیسے نام شامل ہیں، مگر اس کے باوجود رونالڈو ہی توجہ کا مرکزی محور ہیں۔</p>
<p>یورو 2024 میں مایوس کن کوارٹر فائنل اخراج کے بعد پرتگال نے نیشنز لیگ کے فائنل میں یورپی چیمپئن اسپین کو زیر کر کے شاندار واپسی کی اور اب وہ شمالی امریکہ میں مضبوط فارم کے ساتھ پہنچ رہے ہیں، جہاں رونالڈو ان کے قائد کی حیثیت سے موجود ہوں گے۔</p>
<p>مارٹینیز کے مطابق اعداد و شمار اب بھی رونالڈو کی اہمیت کے گواہ ہیں: ان کی کوچنگ میں 30 میچوں میں 25 گول—یعنی فی میچ اوسط ان کے سابق قومی کوچز سے بہتر—اور ایسے بے شمار کردار جو محض گول اسکورنگ میں ظاہر نہیں ہوتے۔</p>
<p>انہوں نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا، ’’وہ اپنی رننگ موومنٹس، اسپیس بنانے اور سینٹر بیک کو الجھانے میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔‘‘</p>
<p>مارٹینیز نے مزید کہا، ’’جس نے سب کچھ جیت لیا ہو، اس میں بھی وہی بھوک نظر آتی ہے جو کسی ایسے کھلاڑی میں ہوتی ہے جس نے ابھی کچھ بھی حاصل نہ کیا ہو۔‘‘</p>
<p>رونالڈو کے لیے 2026 عالمی اسٹیج پر شاید آخری باب ثابت ہو،اگرچہ یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی جا چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287003</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 20:21:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02201228c166d40.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02201228c166d40.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
