<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 05:10:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 05:10:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ میں تاجر برادری کے لیے مزید مشکلات کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286988/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق نائب صدر طارق حلیم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت تیار کیا جانے والا آئندہ وفاقی بجٹ کاروباری برادری، صنعتوں اور عام عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو معاشی سرگرمیوں کو سست کرسکتے ہوں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثر ڈالیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق حلیم نے مزید کہا کہ ریونیو (ٹیکس) وصولی کے اہداف میں مسلسل کمی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جارحانہ پالیسیوں پر نظرثانی کا تقاضا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید ٹیکسز کا بوجھ ڈالنے کے بجائے تمام تر کوششیں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر مرکوز ہونی چاہئیں تاکہ مزید افراد اور شعبے قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح کو بتدریج کم کرکے سنگل ڈیجٹ سطح پر لایا جائے۔ انہوں نے وفاقی بجٹ میں شپ ایجنٹس اور بحری تجارتی شعبے کے لیے خصوصی مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ قومی تجارت، بندرگاہی آپریشنز اور برآمدات کو مضبوط بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق نائب صدر طارق حلیم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت تیار کیا جانے والا آئندہ وفاقی بجٹ کاروباری برادری، صنعتوں اور عام عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو معاشی سرگرمیوں کو سست کرسکتے ہوں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثر ڈالیں۔</p>
<p>طارق حلیم نے مزید کہا کہ ریونیو (ٹیکس) وصولی کے اہداف میں مسلسل کمی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جارحانہ پالیسیوں پر نظرثانی کا تقاضا کرتی ہے۔</p>
<p>موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید ٹیکسز کا بوجھ ڈالنے کے بجائے تمام تر کوششیں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر مرکوز ہونی چاہئیں تاکہ مزید افراد اور شعبے قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح کو بتدریج کم کرکے سنگل ڈیجٹ سطح پر لایا جائے۔ انہوں نے وفاقی بجٹ میں شپ ایجنٹس اور بحری تجارتی شعبے کے لیے خصوصی مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ قومی تجارت، بندرگاہی آپریشنز اور برآمدات کو مضبوط بنایا جاسکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286988</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:30:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/021522242dda542.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/021522242dda542.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
