<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 03:53:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Jul 2026 03:53:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جوسز پر ٹیکس، پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286923/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں پھلوں کے جوسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کو کم کرنے یا ختم کرنے پر غور ایک خوش آئند نظرِ ثانی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بجٹ ساز ادارے ایسے جوسز پر صفر یا کم ایف ای ڈی کی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں اضافی سوکروز یا سفید چینی شامل نہیں ہوتی، جبکہ پھلوں پر مبنی مشروبات اور کاربونیٹیڈ ڈرنکس کے لیے علیحدہ ٹیکس ٹریٹمنٹ بھی زیر غور ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شعبے نے پہلے ہی اس بات پر زور دیا تھا کہ رسمی جوس انڈسٹری پر حد سے زیادہ ٹیکس لگانے کے خطرات موجود ہیں۔ اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایف ای ڈی نے پلپ لوکلائزیشن میں تاخیر پیدا کی، فارم ٹو فیکٹری ویلیو چین کو کمزور کیا، غیر رسمی مصنوعات کی طلب میں اضافہ کیا، اور برآمدات کے لیے درکار ملکی پیمانے کو محدود کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ کسی ایک صنعت کو تحفظ دینا نہیں ہے بلکہ ایک ایسے ٹیکس اقدام کی درستگی ہے جس نے ایک ابھرتی ہوئی زرعی ویلیو چین کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کو پھلوں کے ضیاع کو کم کرنے اور خام پیداوار کو زیادہ قدر والی مصنوعات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسمی پیکجڈ جوس انڈسٹری پھلوں کے پلپ کی طلب پیدا کر کے، مقامی پراسیسنگ کی حمایت کر کے، اور کسانوں، پلپ پروڈیوسرز، برانڈز اور برآمدی منڈیوں کو جوڑ کر اس عمل میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم زیادہ ایف ای ڈی نے اس پیش رفت میں رکاوٹ ڈالی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) نے موجودہ ایف ای ڈی ڈھانچے کو خود نقصان دہ پالیسی قرار دیا ہے۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حکومت نے زیادہ ریونیو کے لیے ٹیکس کی شرح بڑھائی، لیکن اس کے نتیجے میں ٹیکس دینے والے رسمی شعبے کا دائرہ ہی سکڑ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023-24 کے بجٹ میں پیکجڈ جوسز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کے علاوہ 20 فیصد ایف ای ڈی عائد کیے جانے کے بعد مبینہ طور پر اس شعبے کی فروخت تقریباً 45 فیصد کم ہو کر 42 ارب روپے تک آ گئی، جبکہ توقع 72 ارب روپے سے زیادہ کی تھی۔ حجم 2017 کی سطح تک گر گیا، جس سے کئی سال کی توسیع ایک ہی جھٹکے میں ختم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروٹ جوس کونسل کے اعداد و شمار بھی اسی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے مطابق 20 فیصد ایف ای ڈی اور 18 فیصد جی ایس ٹی کے بعد پیکجڈ جوسز پر مجموعی ٹیکس بوجھ تقریباً 42 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ای ڈی کے نفاذ کے بعد انڈسٹری کے حجم میں 45 فیصد سے زائد کمی ہوئی، جبکہ مارکیٹ 2021-22 کے تقریباً 60 ارب روپے سے کم ہو کر 2025 میں تقریباً 40 ارب روپے تک آ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل کے مطابق کھپت 2017 کی سطح پر واپس چلی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف فروخت میں کمی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ٹیکس نے رسمی پیکجڈ جوسز کو مہنگا کر دیا ہے اور صارفین کو سستی، غیر دستاویزی متبادل مصنوعات کی طرف دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال لافر کروز کی عملی مثال ہے۔ ایک حد کے بعد ٹیکس کی شرح بڑھانے سے آمدن میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ فروخت کم ہوتی ہے، رسمی مارکیٹ سکڑتی ہے اور مستقبل کی ٹیکس وصولی کمزور پڑ جاتی ہے۔ ریاست نے شرح تو بڑھائی لیکن اس بنیاد کو نقصان پہنچایا جس پر ٹیکس وصولی قائم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا اپنا تجربہ اس بات کو مزید واضح کرتا ہے۔ جب مالی سال 2019 میں فروٹ ڈرنکس پر 5 فیصد ایف ای ڈی لگایا گیا تو رسمی جوس سیلز 53 ارب روپے سے کم ہو کر 41 ارب روپے تک آ گئی۔ جب یہ ٹیکس ختم کیا گیا تو مالی سال 2022 تک مارکیٹ دوبارہ 59 ارب روپے تک بحال ہو گئی، جبکہ جی ایس ٹی وصولی بھی بہتر ہوئی اور تقریباً ایف ای ڈی کے نقصان کو پورا کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائم کے مطابق ایف ای ڈی کے خاتمے سے نہ صرف فروخت بحال ہوئی بلکہ روزگار میں اضافہ ہوا اور ویلیو چین کے نقصانات میں بھی کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم تشویش فوڈ سیفٹی اور ریگولیشن سے متعلق ہے۔ فروٹ جوس کونسل کا کہنا ہے کہ دستاویزی صنعت کے سکڑنے سے غیر دستاویزی مارکیٹ کا حصہ بڑھ گیا ہے، جہاں کئی ادارے فوڈ سیفٹی اور ریگولیٹری معیارات سے باہر کام کرتے ہیں۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف صنعتی نہیں بلکہ صارفین کے تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ٹیکس پالیسی جو ریگولیٹڈ مصنوعات کو مہنگا بنا دے، بالآخر صارفین کے تحفظ، تعمیل اور طویل مدتی ریونیو کو کمزور کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی اثرات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ پاکستان میں متعدد زرعی مصنوعات کا 30 فیصد سے زائد حصہ کٹائی کے بعد ضائع ہو جاتا ہے۔ مضبوط پلپ مارکیٹ اس پھل کا کچھ حصہ جذب کر سکتی ہے اور فارم ٹو مارکیٹ سپلائی چین کو بہتر بنا سکتی ہے۔ لیکن پلپ مارکیٹ کو مسلسل ملکی طلب درکار ہوتی ہے، اور یہ طلب جوس انڈسٹری سے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائم کے مطابق پیکجڈ جوس کمپنیوں نے مالی سال 2024 میں صرف 20,223 ٹن آم خریدے، جو مالی سال 2018 میں 31,000 ٹن تھے۔ یہ کمی نہ صرف مینوفیکچررز بلکہ کسانوں، پلپ پروسیسرز اور دیہی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ جوسز اور کاربونیٹیڈ ڈرنکس کو ایک ہی ٹیکس سلیب میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ فروٹ ڈرنکس، نییکٹرز اور خالص جوسز میں لازمی فروٹ کنٹینٹ کی شرط ہوتی ہے، جبکہ خالص جوس میں 100 فیصد تک پھل شامل ہوتا ہے۔ یہ مصنوعات مقامی پھلوں کی خریداری، پلپ پروسیسنگ اور دیہی سپلائی چین سے براہ راست منسلک ہیں۔ اس کے برعکس کاربونیٹیڈ ڈرنکس زیادہ تر فلیورڈ مشروبات ہوتے ہیں جن کا زرعی شعبے سے محدود تعلق ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں کیٹیگریز کو ایک جیسا سمجھنا نہ صرف ان کے غذائی فرق کو نظر انداز کرتا ہے بلکہ ان کے معاشی روابط کو بھی یکسر مختلف ہونے کے باوجود ایک ہی خانے میں رکھ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ ٹیکس عائد ہونے سے سرمایہ کاری بھی متاثر ہوتی ہے۔ جب مقامی فروخت کم ہو جاتی ہے تو کمپنیاں پروسیسنگ کی صلاحیت بڑھانے، نئی مصنوعات کی تیاری، ٹیکنالوجی اپ گریڈ اور برآمدات کے لیے تیاری پر خرچ مؤخر کر دیتی ہیں۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کیونکہ پھلوں کے جوسز میں برآمدات کی بڑی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے لیے پہلے ملکی سطح پر پیمانہ  درکار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضبوط مقامی بنیاد کے بغیر کمپنیاں بہتر شیلف لائف، تحقیق و ترقی  اور بین الاقوامی مارکیٹ کے معیار پر سرمایہ کاری نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے ایف ای ڈی میں کمی یا اس کے خاتمے کو ایک اسٹریٹجک اصلاح کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ یہ رسمی فروخت کو بحال کر سکتا ہے، پلپ کی پیداوار کو سہارا دے سکتا ہے، پھلوں کے ضیاع کو کم کر سکتا ہے، سرمایہ کاری کے تحفظ میں مدد دے سکتا ہے، اور صنعت کو برآمدات کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس سے ایک پائیدار ریونیو ماڈل بھی ممکن ہو سکتا ہے جو سکڑتی ہوئی بنیاد پر زیادہ ٹیکس لگانے کے بجائے رسمی ٹیکس نیٹ کو وسعت دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عملی سمجھوتہ یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ جوس ورائٹیز پر ایف ای ڈی کو کم کر دیا جائے اور نئے ایسے زمرے (کیٹیگری) کو جو اضافی سوکروز یا سفید چینی کے بغیر ہوں، مکمل طور پر ایف ای ڈی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروٹ جوس کونسل نے تجویز دی ہے کہ موجودہ ورائٹیز پر ایف ای ڈی کو 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کیا جائے، جبکہ نئے ایسے جوسز جن میں اضافی سوکروز یا سفید چینی شامل نہ ہو، انہیں مکمل ایف ای ڈی چھوٹ دی جائے۔ اس سے حکومت کے صحت سے متعلق خدشات بھی دور ہو جائیں گے اور رسمی جوس مارکیٹ کو تباہ کیے بغیر اصلاح ممکن ہو سکے گی۔ اس سے فارمولیشن میں بہتری، مصنوعات کی جدت  اور دستاویزی شعبے میں زیادہ صحت مند انتخاب کو بھی فروغ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ کو اسے کسی ایک صنعت کے لیے رعایت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اضافی ایف ای ڈی کی تہہ کو ختم کر دیا جائے، یا کم از کم اسے نمایاں طور پر کم کیا جائے، جبکہ شعبے کو معمول کے جی ایس ٹی نظام کے تحت ہی رکھا جائے۔ اس طرح حکومت ٹیکس وصول بھی کرتی رہے گی، لیکن رسمی مارکیٹ کو مزید زوال کی طرف دھکیلنے کے بغیرایسا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں پھلوں کے جوسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کو کم کرنے یا ختم کرنے پر غور ایک خوش آئند نظرِ ثانی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بجٹ ساز ادارے ایسے جوسز پر صفر یا کم ایف ای ڈی کی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں اضافی سوکروز یا سفید چینی شامل نہیں ہوتی، جبکہ پھلوں پر مبنی مشروبات اور کاربونیٹیڈ ڈرنکس کے لیے علیحدہ ٹیکس ٹریٹمنٹ بھی زیر غور ہے۔</strong></p>
<p>اس شعبے نے پہلے ہی اس بات پر زور دیا تھا کہ رسمی جوس انڈسٹری پر حد سے زیادہ ٹیکس لگانے کے خطرات موجود ہیں۔ اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایف ای ڈی نے پلپ لوکلائزیشن میں تاخیر پیدا کی، فارم ٹو فیکٹری ویلیو چین کو کمزور کیا، غیر رسمی مصنوعات کی طلب میں اضافہ کیا، اور برآمدات کے لیے درکار ملکی پیمانے کو محدود کیا۔</p>
<p>مسئلہ کسی ایک صنعت کو تحفظ دینا نہیں ہے بلکہ ایک ایسے ٹیکس اقدام کی درستگی ہے جس نے ایک ابھرتی ہوئی زرعی ویلیو چین کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کو پھلوں کے ضیاع کو کم کرنے اور خام پیداوار کو زیادہ قدر والی مصنوعات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>رسمی پیکجڈ جوس انڈسٹری پھلوں کے پلپ کی طلب پیدا کر کے، مقامی پراسیسنگ کی حمایت کر کے، اور کسانوں، پلپ پروڈیوسرز، برانڈز اور برآمدی منڈیوں کو جوڑ کر اس عمل میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم زیادہ ایف ای ڈی نے اس پیش رفت میں رکاوٹ ڈالی ہے۔</p>
<p>پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) نے موجودہ ایف ای ڈی ڈھانچے کو خود نقصان دہ پالیسی قرار دیا ہے۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حکومت نے زیادہ ریونیو کے لیے ٹیکس کی شرح بڑھائی، لیکن اس کے نتیجے میں ٹیکس دینے والے رسمی شعبے کا دائرہ ہی سکڑ گیا۔</p>
<p>2023-24 کے بجٹ میں پیکجڈ جوسز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کے علاوہ 20 فیصد ایف ای ڈی عائد کیے جانے کے بعد مبینہ طور پر اس شعبے کی فروخت تقریباً 45 فیصد کم ہو کر 42 ارب روپے تک آ گئی، جبکہ توقع 72 ارب روپے سے زیادہ کی تھی۔ حجم 2017 کی سطح تک گر گیا، جس سے کئی سال کی توسیع ایک ہی جھٹکے میں ختم ہو گئی۔</p>
<p>فروٹ جوس کونسل کے اعداد و شمار بھی اسی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے مطابق 20 فیصد ایف ای ڈی اور 18 فیصد جی ایس ٹی کے بعد پیکجڈ جوسز پر مجموعی ٹیکس بوجھ تقریباً 42 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>ایف ای ڈی کے نفاذ کے بعد انڈسٹری کے حجم میں 45 فیصد سے زائد کمی ہوئی، جبکہ مارکیٹ 2021-22 کے تقریباً 60 ارب روپے سے کم ہو کر 2025 میں تقریباً 40 ارب روپے تک آ گئی۔</p>
<p>کونسل کے مطابق کھپت 2017 کی سطح پر واپس چلی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف فروخت میں کمی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ٹیکس نے رسمی پیکجڈ جوسز کو مہنگا کر دیا ہے اور صارفین کو سستی، غیر دستاویزی متبادل مصنوعات کی طرف دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال لافر کروز کی عملی مثال ہے۔ ایک حد کے بعد ٹیکس کی شرح بڑھانے سے آمدن میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ فروخت کم ہوتی ہے، رسمی مارکیٹ سکڑتی ہے اور مستقبل کی ٹیکس وصولی کمزور پڑ جاتی ہے۔ ریاست نے شرح تو بڑھائی لیکن اس بنیاد کو نقصان پہنچایا جس پر ٹیکس وصولی قائم تھی۔</p>
<p>پاکستان کا اپنا تجربہ اس بات کو مزید واضح کرتا ہے۔ جب مالی سال 2019 میں فروٹ ڈرنکس پر 5 فیصد ایف ای ڈی لگایا گیا تو رسمی جوس سیلز 53 ارب روپے سے کم ہو کر 41 ارب روپے تک آ گئی۔ جب یہ ٹیکس ختم کیا گیا تو مالی سال 2022 تک مارکیٹ دوبارہ 59 ارب روپے تک بحال ہو گئی، جبکہ جی ایس ٹی وصولی بھی بہتر ہوئی اور تقریباً ایف ای ڈی کے نقصان کو پورا کر لیا گیا۔</p>
<p>پرائم کے مطابق ایف ای ڈی کے خاتمے سے نہ صرف فروخت بحال ہوئی بلکہ روزگار میں اضافہ ہوا اور ویلیو چین کے نقصانات میں بھی کمی آئی۔</p>
<p>ایک اور اہم تشویش فوڈ سیفٹی اور ریگولیشن سے متعلق ہے۔ فروٹ جوس کونسل کا کہنا ہے کہ دستاویزی صنعت کے سکڑنے سے غیر دستاویزی مارکیٹ کا حصہ بڑھ گیا ہے، جہاں کئی ادارے فوڈ سیفٹی اور ریگولیٹری معیارات سے باہر کام کرتے ہیں۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف صنعتی نہیں بلکہ صارفین کے تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔</p>
<p>ایسی ٹیکس پالیسی جو ریگولیٹڈ مصنوعات کو مہنگا بنا دے، بالآخر صارفین کے تحفظ، تعمیل اور طویل مدتی ریونیو کو کمزور کر سکتی ہے۔</p>
<p>زرعی اثرات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ پاکستان میں متعدد زرعی مصنوعات کا 30 فیصد سے زائد حصہ کٹائی کے بعد ضائع ہو جاتا ہے۔ مضبوط پلپ مارکیٹ اس پھل کا کچھ حصہ جذب کر سکتی ہے اور فارم ٹو مارکیٹ سپلائی چین کو بہتر بنا سکتی ہے۔ لیکن پلپ مارکیٹ کو مسلسل ملکی طلب درکار ہوتی ہے، اور یہ طلب جوس انڈسٹری سے آتی ہے۔</p>
<p>پرائم کے مطابق پیکجڈ جوس کمپنیوں نے مالی سال 2024 میں صرف 20,223 ٹن آم خریدے، جو مالی سال 2018 میں 31,000 ٹن تھے۔ یہ کمی نہ صرف مینوفیکچررز بلکہ کسانوں، پلپ پروسیسرز اور دیہی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ جوسز اور کاربونیٹیڈ ڈرنکس کو ایک ہی ٹیکس سلیب میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ فروٹ ڈرنکس، نییکٹرز اور خالص جوسز میں لازمی فروٹ کنٹینٹ کی شرط ہوتی ہے، جبکہ خالص جوس میں 100 فیصد تک پھل شامل ہوتا ہے۔ یہ مصنوعات مقامی پھلوں کی خریداری، پلپ پروسیسنگ اور دیہی سپلائی چین سے براہ راست منسلک ہیں۔ اس کے برعکس کاربونیٹیڈ ڈرنکس زیادہ تر فلیورڈ مشروبات ہوتے ہیں جن کا زرعی شعبے سے محدود تعلق ہوتا ہے۔</p>
<p>دونوں کیٹیگریز کو ایک جیسا سمجھنا نہ صرف ان کے غذائی فرق کو نظر انداز کرتا ہے بلکہ ان کے معاشی روابط کو بھی یکسر مختلف ہونے کے باوجود ایک ہی خانے میں رکھ دیتا ہے۔</p>
<p>زیادہ ٹیکس عائد ہونے سے سرمایہ کاری بھی متاثر ہوتی ہے۔ جب مقامی فروخت کم ہو جاتی ہے تو کمپنیاں پروسیسنگ کی صلاحیت بڑھانے، نئی مصنوعات کی تیاری، ٹیکنالوجی اپ گریڈ اور برآمدات کے لیے تیاری پر خرچ مؤخر کر دیتی ہیں۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کیونکہ پھلوں کے جوسز میں برآمدات کی بڑی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے لیے پہلے ملکی سطح پر پیمانہ  درکار ہوتا ہے۔</p>
<p>مضبوط مقامی بنیاد کے بغیر کمپنیاں بہتر شیلف لائف، تحقیق و ترقی  اور بین الاقوامی مارکیٹ کے معیار پر سرمایہ کاری نہیں کر سکتیں۔</p>
<p>اسی لیے ایف ای ڈی میں کمی یا اس کے خاتمے کو ایک اسٹریٹجک اصلاح کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ یہ رسمی فروخت کو بحال کر سکتا ہے، پلپ کی پیداوار کو سہارا دے سکتا ہے، پھلوں کے ضیاع کو کم کر سکتا ہے، سرمایہ کاری کے تحفظ میں مدد دے سکتا ہے، اور صنعت کو برآمدات کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس سے ایک پائیدار ریونیو ماڈل بھی ممکن ہو سکتا ہے جو سکڑتی ہوئی بنیاد پر زیادہ ٹیکس لگانے کے بجائے رسمی ٹیکس نیٹ کو وسعت دے۔</p>
<p>ایک عملی سمجھوتہ یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ جوس ورائٹیز پر ایف ای ڈی کو کم کر دیا جائے اور نئے ایسے زمرے (کیٹیگری) کو جو اضافی سوکروز یا سفید چینی کے بغیر ہوں، مکمل طور پر ایف ای ڈی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔</p>
<p>فروٹ جوس کونسل نے تجویز دی ہے کہ موجودہ ورائٹیز پر ایف ای ڈی کو 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کیا جائے، جبکہ نئے ایسے جوسز جن میں اضافی سوکروز یا سفید چینی شامل نہ ہو، انہیں مکمل ایف ای ڈی چھوٹ دی جائے۔ اس سے حکومت کے صحت سے متعلق خدشات بھی دور ہو جائیں گے اور رسمی جوس مارکیٹ کو تباہ کیے بغیر اصلاح ممکن ہو سکے گی۔ اس سے فارمولیشن میں بہتری، مصنوعات کی جدت  اور دستاویزی شعبے میں زیادہ صحت مند انتخاب کو بھی فروغ ملے گا۔</p>
<p>بجٹ کو اسے کسی ایک صنعت کے لیے رعایت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اضافی ایف ای ڈی کی تہہ کو ختم کر دیا جائے، یا کم از کم اسے نمایاں طور پر کم کیا جائے، جبکہ شعبے کو معمول کے جی ایس ٹی نظام کے تحت ہی رکھا جائے۔ اس طرح حکومت ٹیکس وصول بھی کرتی رہے گی، لیکن رسمی مارکیٹ کو مزید زوال کی طرف دھکیلنے کے بغیرایسا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286923</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 10:54:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/01105117b749fa2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/01105117b749fa2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
