<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 05:44:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 05:44:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی پہلی فارما کمپنی کو انجیکشنز اور آئی ڈراپس کیلئے پی آئی سی/ایس کی عالمی منظوری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286920/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک پاکستانی دوا ساز کمپنی نے انجیکشنز اور آئی ڈراپس کی تیاری کے لیے عالمی معیار کے مطابق پی آئی سی/ایس (فارماسیوٹیکل انسپکشن کوآپریشن سکیم) کی بین الاقوامی منظوری حاصل کر لی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی پہلی کمپنی بن گئی ہے جس کی اسٹرائل مینوفیکچرنگ فیسلٹی کو یہ عالمی ایکریڈیٹیشن ملی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق اس سرٹیفکیشن سے اس کی برآمدات کے دروازے کھل گئے ہیں اور اب وہ ملائیشیا، افریقہ، وسطی ایشیا اور آسیان ممالک سمیت ریگولیٹڈ اور ترقی یافتہ مارکیٹوں میں اپنی مصنوعات برآمد کر سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ٹی سی او گروپ کا کہنا ہے کہ اس کی اسٹرائل مینوفیکچرنگ فیسلٹی کو بین الاقوامی طور پر ہم آہنگ &lt;strong&gt;پی آئی سی/ایس&lt;/strong&gt; جی ایم پی معیارات کے مطابق تسلیم کیا گیا ہے، جو پاکستان میں اس نوعیت کی پہلی اور واحد سہولت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پی آئی سی/ایس&lt;/strong&gt; کو عالمی سطح پر دوا سازی کے معائنے کا گولڈ اسٹینڈرڈ سمجھا جاتا ہے، جس میں 50 سے زائد ترقی یافتہ ممالک کے ریگولیٹری ادارے شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس معیار کا مقصد دنیا بھر میں معیار کو ایک مشترکہ زبان میں برقرار رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈریپ (ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ ملک نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے اس پیش رفت کی تصدیق کی اور کہا کہ اس سے پاکستان کی فارما ایکسپورٹس اور میڈیکل ڈیوائسز کی برآمدات، جو اس وقت ایک ارب ڈالر سالانہ ہیں، میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ڈریپ کے قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں اور اب ایک منظم پروگرام کے تحت کمپنیوں کو عالمی ایکریڈیٹیشن کے لیے سہولت فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ مقامی صنعت بین الاقوامی معیار تک پہنچ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ٹی سی او لیبارٹریز کے گروپ ہیڈ فارما ڈویلپمنٹ ڈاکٹر منیر انور کے مطابق ملائیشیا نے کمپنی کی اسٹرائل فیسلٹی کو &lt;strong&gt;پی آئی سی/ایس&lt;/strong&gt; معیار کے تحت تسلیم کیا ہے اور حال ہی میں اس سرٹیفکیشن کے بعد دو کھیپیں ملائیشیا برآمد بھی کی جا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ سرٹیفکیشن کمپنی کو &lt;strong&gt;پی آئی سی/ایس&lt;/strong&gt; کے 50 سے زائد رکن ممالک تک رسائی فراہم کرتا ہے، تاہم ہر ملک میں مصنوعات کی رجسٹریشن اور ریگولیٹری تقاضے الگ پورے کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے ابتدائی طور پر ملائیشیا، افریقہ اور وسطی ایشیا کو اپنی برآمدات کے ہدف کے طور پر مقرر کیا ہے جبکہ اگلے مرحلے میں یورپی یونین اور برطانیہ کی ایم ایچ آر اے مارکیٹوں میں داخلے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس وقت چند دیگر فارما کمپنیاں بھی عالمی ایکریڈیٹیشن حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، جس سے ملک کی فارما ایکسپورٹس میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین شرح ہے، اور یہ 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک پاکستانی دوا ساز کمپنی نے انجیکشنز اور آئی ڈراپس کی تیاری کے لیے عالمی معیار کے مطابق پی آئی سی/ایس (فارماسیوٹیکل انسپکشن کوآپریشن سکیم) کی بین الاقوامی منظوری حاصل کر لی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی پہلی کمپنی بن گئی ہے جس کی اسٹرائل مینوفیکچرنگ فیسلٹی کو یہ عالمی ایکریڈیٹیشن ملی ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی کے مطابق اس سرٹیفکیشن سے اس کی برآمدات کے دروازے کھل گئے ہیں اور اب وہ ملائیشیا، افریقہ، وسطی ایشیا اور آسیان ممالک سمیت ریگولیٹڈ اور ترقی یافتہ مارکیٹوں میں اپنی مصنوعات برآمد کر سکے گی۔</p>
<p>اے ٹی سی او گروپ کا کہنا ہے کہ اس کی اسٹرائل مینوفیکچرنگ فیسلٹی کو بین الاقوامی طور پر ہم آہنگ <strong>پی آئی سی/ایس</strong> جی ایم پی معیارات کے مطابق تسلیم کیا گیا ہے، جو پاکستان میں اس نوعیت کی پہلی اور واحد سہولت ہے۔</p>
<p><strong>پی آئی سی/ایس</strong> کو عالمی سطح پر دوا سازی کے معائنے کا گولڈ اسٹینڈرڈ سمجھا جاتا ہے، جس میں 50 سے زائد ترقی یافتہ ممالک کے ریگولیٹری ادارے شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس معیار کا مقصد دنیا بھر میں معیار کو ایک مشترکہ زبان میں برقرار رکھنا ہے۔</p>
<p>ڈریپ (ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ ملک نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے اس پیش رفت کی تصدیق کی اور کہا کہ اس سے پاکستان کی فارما ایکسپورٹس اور میڈیکل ڈیوائسز کی برآمدات، جو اس وقت ایک ارب ڈالر سالانہ ہیں، میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ڈریپ کے قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں اور اب ایک منظم پروگرام کے تحت کمپنیوں کو عالمی ایکریڈیٹیشن کے لیے سہولت فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ مقامی صنعت بین الاقوامی معیار تک پہنچ سکے۔</p>
<p>اے ٹی سی او لیبارٹریز کے گروپ ہیڈ فارما ڈویلپمنٹ ڈاکٹر منیر انور کے مطابق ملائیشیا نے کمپنی کی اسٹرائل فیسلٹی کو <strong>پی آئی سی/ایس</strong> معیار کے تحت تسلیم کیا ہے اور حال ہی میں اس سرٹیفکیشن کے بعد دو کھیپیں ملائیشیا برآمد بھی کی جا چکی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ سرٹیفکیشن کمپنی کو <strong>پی آئی سی/ایس</strong> کے 50 سے زائد رکن ممالک تک رسائی فراہم کرتا ہے، تاہم ہر ملک میں مصنوعات کی رجسٹریشن اور ریگولیٹری تقاضے الگ پورے کرنا ہوں گے۔</p>
<p>کمپنی نے ابتدائی طور پر ملائیشیا، افریقہ اور وسطی ایشیا کو اپنی برآمدات کے ہدف کے طور پر مقرر کیا ہے جبکہ اگلے مرحلے میں یورپی یونین اور برطانیہ کی ایم ایچ آر اے مارکیٹوں میں داخلے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس وقت چند دیگر فارما کمپنیاں بھی عالمی ایکریڈیٹیشن حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، جس سے ملک کی فارما ایکسپورٹس میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین شرح ہے، اور یہ 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286920</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 10:06:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/01100310de7db72.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/01100310de7db72.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
