<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موٹر وہیکلز ڈویلپمنٹ بل 2025 پر وزارتوں میں اختلاف شدت اختیار کر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286918/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی  کے درمیان مجوزہ موٹر وہیکلز انڈسٹری ڈویلپمنٹ بل 2025 پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ، جب وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے اس بل کے ڈرافٹ کے لیے جاری کردہ نان آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) واپس لے لیا اور اس پر سنگین قانونی، طریقہ کار اور تکنیکی اعتراضات اٹھا دیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر کے پاس موجود سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ مجوزہ بل پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے قانونی دائرہ کار کی تکرار کرتا ہے، جو پی ایس کیو سی اے ایکٹ 1996 کے تحت قائم ہے۔ اس وجہ سے اس قانون سازی کو اعلیٰ سطحی فورمز پر آگے بڑھانے کی مخالفت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزارتِ صنعت و پیداوار کا کہنا ہے کہ اس بل کو پہلے ہی کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز  سے منظور کیا جا چکا ہے اور بعد ازاں 30 جولائی 2025 کو وفاقی کابینہ نے بھی اس کی توثیق کر دی تھی۔ اس وقت یہ بل قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے زیرِ غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت صنعت نے مزید مؤقف اپنایا کہ این او سی کا تصور رولز آف بزنس 1973 کے تحت بین الوزارتی مشاورت کے لیے ہوتا ہے، جو کابینہ کمیٹی میں پیشی سے قبل مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس کے مطابق کابینہ کے فیصلے تمام ڈویژنز پر لازم ہوتے ہیں، لہٰذا بل پارلیمانی سطح پر آخری مراحل میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت صنعت و پیداوار نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی) کی 2024 کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو خراب معیار، زیادہ پیداواری لاگت، کم لوکلائزیشن اور کم مسابقت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ تحقیق کے مطابق عالمی آٹو ویلیو چین میں پاکستان کا حصہ محدود ہے، جبکہ اس شعبے میں ہر 11 میں سے صرف ایک کارکن برآمدات سے وابستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مطالعے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ صنعت بڑی تعداد میں روزگار فراہم کرتی ہے، تاہم یہ مجموعی مینوفیکچرنگ ویلیو ایڈیشن میں نسبتاً کم حصہ ڈالتی ہے، جس سے معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ پاکستان کی گاڑیوں کی برآمدات بھی بلند پیداواری لاگت، کم لوکلائزیشن اور معیار کے مسائل کے باعث عالمی منڈی میں غیر مسابقتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت صنعت و پیداوار نے زور دیا کہ موٹر وہیکلز کے معیار کا تعین ایک انتہائی اسپیشلائزڈ عمل ہے جو صارفین کے تحفظ اور برآمدات میں اضافے کے لیے اہم ہے۔ عالمی سطح پر یہ ذمہ داری خصوصی سرکاری ادارے انجام دیتے ہیں تاکہ حفاظت، کارکردگی اور ماحولیاتی معیار یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت صنعت نے ملائیشیا، جاپان، آسٹریلیا، امریکہ اور بھارت کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں گاڑیوں کے معیار کے لیے علیحدہ قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے موجود ہیں جو اکثر اقوام متحدہ کے ضوابط کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ اینٹی لاک بریکنگ سسٹم ، الیکٹرانک اسٹیبلٹی کنٹرول  اور شدید اخراجِ دھواں معیارات کئی ممالک میں لازمی ہیں تاکہ حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے حوالے سے دستاویز میں کہا گیا کہ ملک میں معیارات بنانے کی ذمہ داریاں مختلف اداروں میں بٹی ہوئی ہیں، جیسے تعلیم کے لیے ایچ ای سی اور ماحولیاتی ضوابط کے لیے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی۔ اس لیے آٹو سیکٹر کے لیے بھی ایک مربوط اور منظم نظام کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں وزارتِ صنعت و پیداوار نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے درخواست کی ہے کہ وہ مجوزہ قانون سازی کے قانونی اور ادارہ جاتی اثرات کو دوبارہ غور سے دیکھے اور آگے بڑھنے سے قبل احتیاط سے جائزہ لے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی  کے درمیان مجوزہ موٹر وہیکلز انڈسٹری ڈویلپمنٹ بل 2025 پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ، جب وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے اس بل کے ڈرافٹ کے لیے جاری کردہ نان آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) واپس لے لیا اور اس پر سنگین قانونی، طریقہ کار اور تکنیکی اعتراضات اٹھا دیے۔</strong></p>
<p>بزنس ریکارڈر کے پاس موجود سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ مجوزہ بل پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے قانونی دائرہ کار کی تکرار کرتا ہے، جو پی ایس کیو سی اے ایکٹ 1996 کے تحت قائم ہے۔ اس وجہ سے اس قانون سازی کو اعلیٰ سطحی فورمز پر آگے بڑھانے کی مخالفت کی گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وزارتِ صنعت و پیداوار کا کہنا ہے کہ اس بل کو پہلے ہی کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز  سے منظور کیا جا چکا ہے اور بعد ازاں 30 جولائی 2025 کو وفاقی کابینہ نے بھی اس کی توثیق کر دی تھی۔ اس وقت یہ بل قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے زیرِ غور ہے۔</p>
<p>وزارت صنعت نے مزید مؤقف اپنایا کہ این او سی کا تصور رولز آف بزنس 1973 کے تحت بین الوزارتی مشاورت کے لیے ہوتا ہے، جو کابینہ کمیٹی میں پیشی سے قبل مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس کے مطابق کابینہ کے فیصلے تمام ڈویژنز پر لازم ہوتے ہیں، لہٰذا بل پارلیمانی سطح پر آخری مراحل میں ہے۔</p>
<p>وزارت صنعت و پیداوار نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی) کی 2024 کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو خراب معیار، زیادہ پیداواری لاگت، کم لوکلائزیشن اور کم مسابقت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ تحقیق کے مطابق عالمی آٹو ویلیو چین میں پاکستان کا حصہ محدود ہے، جبکہ اس شعبے میں ہر 11 میں سے صرف ایک کارکن برآمدات سے وابستہ ہے۔</p>
<p>مطالعے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ صنعت بڑی تعداد میں روزگار فراہم کرتی ہے، تاہم یہ مجموعی مینوفیکچرنگ ویلیو ایڈیشن میں نسبتاً کم حصہ ڈالتی ہے، جس سے معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ پاکستان کی گاڑیوں کی برآمدات بھی بلند پیداواری لاگت، کم لوکلائزیشن اور معیار کے مسائل کے باعث عالمی منڈی میں غیر مسابقتی ہیں۔</p>
<p>وزارت صنعت و پیداوار نے زور دیا کہ موٹر وہیکلز کے معیار کا تعین ایک انتہائی اسپیشلائزڈ عمل ہے جو صارفین کے تحفظ اور برآمدات میں اضافے کے لیے اہم ہے۔ عالمی سطح پر یہ ذمہ داری خصوصی سرکاری ادارے انجام دیتے ہیں تاکہ حفاظت، کارکردگی اور ماحولیاتی معیار یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>وزارت صنعت نے ملائیشیا، جاپان، آسٹریلیا، امریکہ اور بھارت کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں گاڑیوں کے معیار کے لیے علیحدہ قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے موجود ہیں جو اکثر اقوام متحدہ کے ضوابط کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ اینٹی لاک بریکنگ سسٹم ، الیکٹرانک اسٹیبلٹی کنٹرول  اور شدید اخراجِ دھواں معیارات کئی ممالک میں لازمی ہیں تاکہ حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>پاکستان کے حوالے سے دستاویز میں کہا گیا کہ ملک میں معیارات بنانے کی ذمہ داریاں مختلف اداروں میں بٹی ہوئی ہیں، جیسے تعلیم کے لیے ایچ ای سی اور ماحولیاتی ضوابط کے لیے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی۔ اس لیے آٹو سیکٹر کے لیے بھی ایک مربوط اور منظم نظام کی ضرورت ہے۔</p>
<p>آخر میں وزارتِ صنعت و پیداوار نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے درخواست کی ہے کہ وہ مجوزہ قانون سازی کے قانونی اور ادارہ جاتی اثرات کو دوبارہ غور سے دیکھے اور آگے بڑھنے سے قبل احتیاط سے جائزہ لے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286918</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 09:34:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/01093203baafb48.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/01093203baafb48.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
