<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 05:52:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 05:52:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یکم جولائی سے ٹیکس چھوٹ ختم، متعلقہ اشیا اور شعبوں پر ٹیکس نافذ ہوگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286914/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس چھوٹوں میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی، جس کے نتیجے میں یکم جولائی 2026 سے تمام متعلقہ شعبے، اشیا اور صنعتی ان پٹس ٹیکس کے دائرے میں آ جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کے ٹیکس پالیسی یونٹ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ان تمام ٹیکس مراعات اور استثنیٰ کا جائزہ لیا ہے جو رواں مالی سال کے اختتام پر ختم ہو رہے ہیں۔ حکومت کو ٹیکس چھوٹ، رعایتی شرحوں، زیرو ریٹنگ، درآمدی مراعات اور خصوصی ٹیکس سہولتوں کی مد میں مالی سال 2024-25 کے دوران 5,840.2 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جو گزشتہ مالی سال کے 3,879.2 ارب روپے کے مقابلے میں 1,961 ارب روپے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق قبائلی علاقوں (فاٹا اور پاٹا) کو حاصل متعدد ٹیکس استثنیٰ بھی 30 جون 2026 کے بعد ختم ہو جائیں گے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت قبائلی علاقوں کے رہائشی افراد، کمپنیوں اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کو حاصل انکم ٹیکس استثنیٰ میں مزید توسیع کا امکان نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح فاٹا اور پاٹا میں درآمدات اور صنعتی سپلائز پر مرحلہ وار سیلز ٹیکس نافذ کرنے کے منصوبے کے تحت سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان علاقوں کے لیے دی گئی ٹیکس چھوٹ کا بعض اوقات غلط استعمال کیا گیا، جس سے دیگر علاقوں میں قائم صنعتی یونٹس کو مسابقتی نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے شعبے کو حاصل کئی ٹیکس مراعات بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو رہی ہیں۔ مقامی مینوفیکچررز کی جانب سے درآمد کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈٰ کٹس، کم بیٹری صلاحیت والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس، اور ہائبرڈ گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی شرحیں مقررہ مدت کے بعد ختم ہو جائیں گی، تاہم آٹو سیکٹر کے لیے آئندہ ٹیکس پالیسی کا فیصلہ آٹو پالیسی کے تحت کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی، مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز اور بعض دیگر شعبوں کو حاصل سیلز ٹیکس استثنیٰ بھی 30 جون 2026 کے بعد ختم ہونے جا رہا ہے، جس سے آئندہ مالی سال میں حکومتی محصولات میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس چھوٹوں میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی، جس کے نتیجے میں یکم جولائی 2026 سے تمام متعلقہ شعبے، اشیا اور صنعتی ان پٹس ٹیکس کے دائرے میں آ جائیں گے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کے ٹیکس پالیسی یونٹ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ان تمام ٹیکس مراعات اور استثنیٰ کا جائزہ لیا ہے جو رواں مالی سال کے اختتام پر ختم ہو رہے ہیں۔ حکومت کو ٹیکس چھوٹ، رعایتی شرحوں، زیرو ریٹنگ، درآمدی مراعات اور خصوصی ٹیکس سہولتوں کی مد میں مالی سال 2024-25 کے دوران 5,840.2 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جو گزشتہ مالی سال کے 3,879.2 ارب روپے کے مقابلے میں 1,961 ارب روپے زیادہ ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق قبائلی علاقوں (فاٹا اور پاٹا) کو حاصل متعدد ٹیکس استثنیٰ بھی 30 جون 2026 کے بعد ختم ہو جائیں گے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت قبائلی علاقوں کے رہائشی افراد، کمپنیوں اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کو حاصل انکم ٹیکس استثنیٰ میں مزید توسیع کا امکان نہیں ہے۔</p>
<p>اسی طرح فاٹا اور پاٹا میں درآمدات اور صنعتی سپلائز پر مرحلہ وار سیلز ٹیکس نافذ کرنے کے منصوبے کے تحت سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان علاقوں کے لیے دی گئی ٹیکس چھوٹ کا بعض اوقات غلط استعمال کیا گیا، جس سے دیگر علاقوں میں قائم صنعتی یونٹس کو مسابقتی نقصان پہنچا۔</p>
<p>دوسری جانب الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے شعبے کو حاصل کئی ٹیکس مراعات بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو رہی ہیں۔ مقامی مینوفیکچررز کی جانب سے درآمد کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈٰ کٹس، کم بیٹری صلاحیت والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس، اور ہائبرڈ گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی شرحیں مقررہ مدت کے بعد ختم ہو جائیں گی، تاہم آٹو سیکٹر کے لیے آئندہ ٹیکس پالیسی کا فیصلہ آٹو پالیسی کے تحت کیا جائے گا۔</p>
<p>مزید برآں قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی، مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز اور بعض دیگر شعبوں کو حاصل سیلز ٹیکس استثنیٰ بھی 30 جون 2026 کے بعد ختم ہونے جا رہا ہے، جس سے آئندہ مالی سال میں حکومتی محصولات میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286914</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 08:59:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/010857218f4ba3e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/010857218f4ba3e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
