<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 07:15:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 07:15:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ کے اطراف زمین کسٹمز ایریا قرار، خالی کنٹینرز کی اسٹوریج کی اجازت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286894/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ (ساوتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل) کی حدود سے متصل اضافی علاقے کو کسٹمز ایریا قرار دے دیا ہے، جس کا مقصد خالی کنٹینرز کی اسٹوریج کو ممکن بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ایف بی آر نے ایس آر او 889 (I)/2026 جاری کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 10 کی شق (b) اور دفعہ 78 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 59,371 مربع میٹر پر مشتمل اضافی رقبے کو کسٹمز ایریا قرار دیا ہے۔ یہ رقبہ ریکلیمڈ (بحر سے حاصل کردہ) زمین پر مشتمل ہے جو پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ (ساوتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل) کی حدود سے متصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نیا کسٹمز ایریا خالی کنٹینرز کی اسٹوریج کے لیے استعمال کیا جائے گا اور اس کی حدود بھی واضح کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق شمالی حد شاہد انصاری روڈ اور آئل ایریا کے پی ٹی (155 میٹر حد) پر مشتمل ہوگی، جنوبی حد ساوتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل کی دیوار (169 میٹر) تک ہوگی، مشرقی حد سمندر اور باڑ (417 میٹر) تک جبکہ مغربی حد بھی ساوتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل کی دیوار (377 میٹر) تک ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ اجازت صرف اسی مدت کے لیے قابلِ عمل ہوگی جس مدت تک مذکورہ زمین پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ کے نام لیز پر موجود رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ (ساوتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل) کی حدود سے متصل اضافی علاقے کو کسٹمز ایریا قرار دے دیا ہے، جس کا مقصد خالی کنٹینرز کی اسٹوریج کو ممکن بنانا ہے۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے ایف بی آر نے ایس آر او 889 (I)/2026 جاری کر دیا ہے۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 10 کی شق (b) اور دفعہ 78 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 59,371 مربع میٹر پر مشتمل اضافی رقبے کو کسٹمز ایریا قرار دیا ہے۔ یہ رقبہ ریکلیمڈ (بحر سے حاصل کردہ) زمین پر مشتمل ہے جو پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ (ساوتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل) کی حدود سے متصل ہے۔</p>
<p>یہ نیا کسٹمز ایریا خالی کنٹینرز کی اسٹوریج کے لیے استعمال کیا جائے گا اور اس کی حدود بھی واضح کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق شمالی حد شاہد انصاری روڈ اور آئل ایریا کے پی ٹی (155 میٹر حد) پر مشتمل ہوگی، جنوبی حد ساوتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل کی دیوار (169 میٹر) تک ہوگی، مشرقی حد سمندر اور باڑ (417 میٹر) تک جبکہ مغربی حد بھی ساوتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل کی دیوار (377 میٹر) تک ہوگی۔</p>
<p>ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ اجازت صرف اسی مدت کے لیے قابلِ عمل ہوگی جس مدت تک مذکورہ زمین پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ کے نام لیز پر موجود رہے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286894</guid>
      <pubDate>Sun, 31 May 2026 11:41:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/31113943484426f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/31113943484426f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
