<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 08:12:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 08:12:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286876/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ چند برسوں میں کمزور معاشی صورتحال، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آئی ایم ایف پروگرام پر مسلسل انحصار کے پیش نظر مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایم اے پی) سمجھتی ہے کہ ایسے ساختی ٹیکس اصلاحات کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے جن کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور معیشت کے دستاویزی شعبوں پر ٹیکس بوجھ کو کم کرنا ہے جو پہلے ہی بھاری ٹیکسز کا شکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حالات میں اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے مستحکم، شفاف اور سرمایہ کاری دوست ٹیکس نظام ناگزیر ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ بالا صورتِ حال کے پیشِ نظر مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان  نے وفاقی بجٹ 27-2026 کے لیے ٹیکس اصلاحات کی چند تجاویز پیش کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارپوریٹ شعبہ اس وقت بلند کارپوریٹ ٹیکس شرح، سپر ٹیکس، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ  کے نفاذ کے باعث بھاری اور مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکس بوجھ کا سامنا کررہا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ان ٹیکسوں کے مجموعی اثرات نے کاروبار کرنے کی لاگت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان نے تجویز دی ہے کہ سپر ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار منصوبے کے تحت آئندہ چند برسوں میں بتدریج کم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنخواہ دار طبقہ معیشت کے سب سے زیادہ دستاویزی اور ٹیکس قوانین پر عمل کرنے والے شعبوں میں شامل ہے اور پاکستان میں براہِ راست ٹیکس وصولیوں میں نمایاں حصہ ادا کرتا ہے۔ تنخواہ دار افراد پر ٹیکس آجر کی جانب سے منبع پر ہی کاٹ لیا جاتا ہے جس کے باعث دیگر شعبوں کے مقابلے میں ٹیکس چوری یا لیکیج نہ ہونے کے برابر رہتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان نے سفارش کی ہے کہ تنخواہ دار افراد کیلئے قابلِ ٹیکس آمدن کی حد بڑھا کر 12 لاکھ روپے کی جائے، اس کے ساتھ ہر ٹیکس سلیب میں شرحِ ٹیکس کم کی جائے اور سرمایہ کاری و انشورنس پریمیم سے متعلق ٹیکس کریڈٹس بحال کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے سرمایہ کاری سے منسلک ٹیکس کریڈٹس کی بحالی یا ان میں توسیع پر بھی زور دیا کیونکہ یہ صنعتی ترقی  کے فروغ اور طویل مدتی اقتصادی فوائد کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے مزید تجویز دی ہے کہ ودہولڈنگ ٹیکسوں کو منطقی بنایا جائے جس میں کم از کم ٹیکس کی شقوں پر نظرِ ثانی اور سروسز پر لاگو ودہولڈنگ ٹیکس کی حد سے زیادہ شرح میں کمی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں ایسوسی ایشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے زراعت، ریٹیل (پرچون)، رئیل اسٹیٹ اور دیگر غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر ٹیکس بیس کو وسعت دینے کی شدید ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ چند برسوں میں کمزور معاشی صورتحال، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آئی ایم ایف پروگرام پر مسلسل انحصار کے پیش نظر مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایم اے پی) سمجھتی ہے کہ ایسے ساختی ٹیکس اصلاحات کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے جن کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور معیشت کے دستاویزی شعبوں پر ٹیکس بوجھ کو کم کرنا ہے جو پہلے ہی بھاری ٹیکسز کا شکار ہیں۔</strong></p>
<p>ان حالات میں اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے مستحکم، شفاف اور سرمایہ کاری دوست ٹیکس نظام ناگزیر ہوچکا ہے۔</p>
<p>مذکورہ بالا صورتِ حال کے پیشِ نظر مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان  نے وفاقی بجٹ 27-2026 کے لیے ٹیکس اصلاحات کی چند تجاویز پیش کی ہیں۔</p>
<p>کارپوریٹ شعبہ اس وقت بلند کارپوریٹ ٹیکس شرح، سپر ٹیکس، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ  کے نفاذ کے باعث بھاری اور مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکس بوجھ کا سامنا کررہا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ان ٹیکسوں کے مجموعی اثرات نے کاروبار کرنے کی لاگت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان نے تجویز دی ہے کہ سپر ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار منصوبے کے تحت آئندہ چند برسوں میں بتدریج کم کیا جائے۔</p>
<p>تنخواہ دار طبقہ معیشت کے سب سے زیادہ دستاویزی اور ٹیکس قوانین پر عمل کرنے والے شعبوں میں شامل ہے اور پاکستان میں براہِ راست ٹیکس وصولیوں میں نمایاں حصہ ادا کرتا ہے۔ تنخواہ دار افراد پر ٹیکس آجر کی جانب سے منبع پر ہی کاٹ لیا جاتا ہے جس کے باعث دیگر شعبوں کے مقابلے میں ٹیکس چوری یا لیکیج نہ ہونے کے برابر رہتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان نے سفارش کی ہے کہ تنخواہ دار افراد کیلئے قابلِ ٹیکس آمدن کی حد بڑھا کر 12 لاکھ روپے کی جائے، اس کے ساتھ ہر ٹیکس سلیب میں شرحِ ٹیکس کم کی جائے اور سرمایہ کاری و انشورنس پریمیم سے متعلق ٹیکس کریڈٹس بحال کیے جائیں۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے سرمایہ کاری سے منسلک ٹیکس کریڈٹس کی بحالی یا ان میں توسیع پر بھی زور دیا کیونکہ یہ صنعتی ترقی  کے فروغ اور طویل مدتی اقتصادی فوائد کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے مزید تجویز دی ہے کہ ودہولڈنگ ٹیکسوں کو منطقی بنایا جائے جس میں کم از کم ٹیکس کی شقوں پر نظرِ ثانی اور سروسز پر لاگو ودہولڈنگ ٹیکس کی حد سے زیادہ شرح میں کمی شامل ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں ایسوسی ایشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے زراعت، ریٹیل (پرچون)، رئیل اسٹیٹ اور دیگر غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر ٹیکس بیس کو وسعت دینے کی شدید ضرورت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286876</guid>
      <pubDate>Sat, 30 May 2026 16:23:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/3016212941dae9a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/3016212941dae9a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
