<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 08:12:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 08:12:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمدی شعبہ اور ٹیکسٹائل ویلیو چین مخصوص سوچ کے خلاف برسرِپیکار ہے، خرم مختار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286871/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) کے سرپرست اعلیٰ خرم مختار نے کہا ہے کہ پاکستان کا برآمدی شعبہ اور پوری ٹیکسٹائل ویلیو چین بدقسمتی سے ایک ایسی مخصوص سوچ کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں جو بظاہر اس نظام کو ہی نقصان پہنچانے پر تلی ہوئی ہے جو زرمبادلہ کماتا ہے، روزگار پیدا کرتا ہے اور دستاویزی معاشی سرگرمی کو برقرار رکھتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایکسپورٹرز جتنا زیادہ ترقی کرتے ہیں، ان پر اتنا ہی زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ متعدد معاملات میں تو صورتحال یہ ہے کہ آپ جتنی زیادہ برآمدات کرتے ہیں، آپ کو اتنا ہی زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم مختار نے کہا کہ برآمد کنندگان ٹیکسٹائل کی پوری چین کے پیچھے اصل متحرک قوت ہیں۔ کپاس کے کاشتکاروں، جنرز، اسپنرز، ویورز، نٹرز، اور پروسیسرز اور گارمنٹ مینوفیکچررز سے لے کر ہوم ٹیکسٹائل کے برآمد کنندگان اور تیار شدہ مصنوعات بنانے والوں تک، یہ پورا سلسلہ دراصل برآمدات ہی کے مرہونِ منت قائم ہے اور ترقی کررہا ہے،اگر برآمدات کی رفتار سست ہوتی ہے تو اس کے منفی اثرات پوری معیشت پر پڑتے ہیں جس سے کسان، مزدور، ٹرانسپورٹرز، معاون صنعتیں اور اس شعبے سے براہِ راست اور بالواسطہ جڑے لاکھوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  حکومت کے اپنے دستاویزی اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فائنل ٹیکس رجیم  سے نارمل ٹیکس رجیم میں منتقلی کے نتیجے میں اندازاً 90 ارب روپے کا اضافی ٹیکس نچوڑا گیا ہے۔ صرف برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) نے مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے دوران ایڈوانس انکم ٹیکس کی مد میں تقریباً 200 ارب روپے سے زائد کی اضافی رقم ادا کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی ای اے کے سرپرست اعلیٰ نے مزید کہا کہ پوری ٹیکسٹائل ویلیو چین نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان وسیع مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بعد مشترکہ طور پر یہ تجویز دی تھی کہ برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم  میں رہنے یا رضاکارانہ طور پر نارمل ٹیکس رجیم اختیار کرنے کا آپشن دیا جائے۔ یہ شاید پاکستان کی تاریخ میں ایک نایاب موقع تھا جب پوری ٹیکسٹائل ویلیو چین ایک متفقہ اور متوازن تجویز پر اکٹھی ہوئی۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اس متفقہ سفارش پر بھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا جا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا ایکسپورٹ فریم ورک اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ برآمد کنندگان کی لیکویڈیٹی مستقل طور پر ریفنڈ کے نظام میں پھنسی رہتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی ریفنڈز میں کیپیٹل بلاکیج کی شرح کے لحاظ سے خطے میں بلند ترین سطح میں سے ایک رکھتا ہے۔ برآمد کنندگان کو اپنے جائز ریفنڈز کی مالی معاونت مہنگے بینک قرضوں کے ذریعے خود کرنا پڑتی ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں ارب روپے کا بھاری مالی بوجھ پیدا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم حالیہ برسوں میں متعارف کرائی گئی چند بہترین اصلاحات میں سے ایک تھی۔ یہ مکمل طور پر ڈیجیٹلائزڈ تھی جس نے نظام میں شفافیت اور کارکردگی پیدا کی۔ تاہم، مقامی تجارت کو ای ایف ایس سے باہر رکھنے کی وجہ سے برآمد کنندگان پر بوجھ نمایاں طور پر بڑھ گیا اور ٹیکسٹائل کی مربوط ویلیو چین متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ کپاس کو بھی ای ایف ایس سے باہر رکھا گیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی مقامی کپاس کی پیداوار ٹیکسٹائل انڈسٹری کی سالانہ کھپت کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ناکافی ہے۔ فیصلے ٹیکسٹائل چین کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھنے کے بجائے الگ تھلگ رہ کر کیے جا رہے ہیں۔ اس شعبے کے سرمائے کے بہاؤ، ٹیکسوں کے بوجھ، توانائی لاگت اور ریفنڈز کے جمود کا ایک معمولی سا عددی جائزہ ہی واضح طور پر یہ سمجھا دیتا ہے کہ اضافی صنعتی صلاحیت اور عالمی منڈیوں تک قائم رسائی کے باوجود پاکستان پائیدار برآمدی ترقی حاصل کرنے کے لیے کیوں جدوجہد کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ بیماری سے تو ہر کوئی واقف ہے، لیکن علاج اب بھی ناپید ہے۔ ہم ایک طویل مدتی اور حکمتِ عملی پر مبنی برآمدی ترقی کے ماڈل کو اپنانے کے بجائے، تاحال عارضی پالیسیوں (ایڈہاک ازم)، قلیل مدتی فیصلوں اور غلط ترجیحات کے سہارے چل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ برآمدی شعبے نے مستقل بنیادوں پر تعمیری اور شواہد پر مبنی اصلاحات کی تجاویز پیش کی ہیں۔ ہم نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ سپر ٹیکس کو مرحلہ وار ختم کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ منیمم ٹرن اوور ٹیکس ، انٹرا کمپنی ڈیویڈنڈ ٹیکسیشن اور بونس شیئرز پر ٹیکس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) کے سرپرست اعلیٰ خرم مختار نے کہا ہے کہ پاکستان کا برآمدی شعبہ اور پوری ٹیکسٹائل ویلیو چین بدقسمتی سے ایک ایسی مخصوص سوچ کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں جو بظاہر اس نظام کو ہی نقصان پہنچانے پر تلی ہوئی ہے جو زرمبادلہ کماتا ہے، روزگار پیدا کرتا ہے اور دستاویزی معاشی سرگرمی کو برقرار رکھتا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایکسپورٹرز جتنا زیادہ ترقی کرتے ہیں، ان پر اتنا ہی زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ متعدد معاملات میں تو صورتحال یہ ہے کہ آپ جتنی زیادہ برآمدات کرتے ہیں، آپ کو اتنا ہی زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔</p>
<p>خرم مختار نے کہا کہ برآمد کنندگان ٹیکسٹائل کی پوری چین کے پیچھے اصل متحرک قوت ہیں۔ کپاس کے کاشتکاروں، جنرز، اسپنرز، ویورز، نٹرز، اور پروسیسرز اور گارمنٹ مینوفیکچررز سے لے کر ہوم ٹیکسٹائل کے برآمد کنندگان اور تیار شدہ مصنوعات بنانے والوں تک، یہ پورا سلسلہ دراصل برآمدات ہی کے مرہونِ منت قائم ہے اور ترقی کررہا ہے،اگر برآمدات کی رفتار سست ہوتی ہے تو اس کے منفی اثرات پوری معیشت پر پڑتے ہیں جس سے کسان، مزدور، ٹرانسپورٹرز، معاون صنعتیں اور اس شعبے سے براہِ راست اور بالواسطہ جڑے لاکھوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  حکومت کے اپنے دستاویزی اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فائنل ٹیکس رجیم  سے نارمل ٹیکس رجیم میں منتقلی کے نتیجے میں اندازاً 90 ارب روپے کا اضافی ٹیکس نچوڑا گیا ہے۔ صرف برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) نے مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے دوران ایڈوانس انکم ٹیکس کی مد میں تقریباً 200 ارب روپے سے زائد کی اضافی رقم ادا کی ہے۔</p>
<p>پی ٹی ای اے کے سرپرست اعلیٰ نے مزید کہا کہ پوری ٹیکسٹائل ویلیو چین نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان وسیع مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بعد مشترکہ طور پر یہ تجویز دی تھی کہ برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم  میں رہنے یا رضاکارانہ طور پر نارمل ٹیکس رجیم اختیار کرنے کا آپشن دیا جائے۔ یہ شاید پاکستان کی تاریخ میں ایک نایاب موقع تھا جب پوری ٹیکسٹائل ویلیو چین ایک متفقہ اور متوازن تجویز پر اکٹھی ہوئی۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اس متفقہ سفارش پر بھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا جا رہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا ایکسپورٹ فریم ورک اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ برآمد کنندگان کی لیکویڈیٹی مستقل طور پر ریفنڈ کے نظام میں پھنسی رہتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی ریفنڈز میں کیپیٹل بلاکیج کی شرح کے لحاظ سے خطے میں بلند ترین سطح میں سے ایک رکھتا ہے۔ برآمد کنندگان کو اپنے جائز ریفنڈز کی مالی معاونت مہنگے بینک قرضوں کے ذریعے خود کرنا پڑتی ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں ارب روپے کا بھاری مالی بوجھ پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم حالیہ برسوں میں متعارف کرائی گئی چند بہترین اصلاحات میں سے ایک تھی۔ یہ مکمل طور پر ڈیجیٹلائزڈ تھی جس نے نظام میں شفافیت اور کارکردگی پیدا کی۔ تاہم، مقامی تجارت کو ای ایف ایس سے باہر رکھنے کی وجہ سے برآمد کنندگان پر بوجھ نمایاں طور پر بڑھ گیا اور ٹیکسٹائل کی مربوط ویلیو چین متاثر ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ کپاس کو بھی ای ایف ایس سے باہر رکھا گیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی مقامی کپاس کی پیداوار ٹیکسٹائل انڈسٹری کی سالانہ کھپت کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ناکافی ہے۔ فیصلے ٹیکسٹائل چین کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھنے کے بجائے الگ تھلگ رہ کر کیے جا رہے ہیں۔ اس شعبے کے سرمائے کے بہاؤ، ٹیکسوں کے بوجھ، توانائی لاگت اور ریفنڈز کے جمود کا ایک معمولی سا عددی جائزہ ہی واضح طور پر یہ سمجھا دیتا ہے کہ اضافی صنعتی صلاحیت اور عالمی منڈیوں تک قائم رسائی کے باوجود پاکستان پائیدار برآمدی ترقی حاصل کرنے کے لیے کیوں جدوجہد کررہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ بیماری سے تو ہر کوئی واقف ہے، لیکن علاج اب بھی ناپید ہے۔ ہم ایک طویل مدتی اور حکمتِ عملی پر مبنی برآمدی ترقی کے ماڈل کو اپنانے کے بجائے، تاحال عارضی پالیسیوں (ایڈہاک ازم)، قلیل مدتی فیصلوں اور غلط ترجیحات کے سہارے چل رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ برآمدی شعبے نے مستقل بنیادوں پر تعمیری اور شواہد پر مبنی اصلاحات کی تجاویز پیش کی ہیں۔ ہم نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ سپر ٹیکس کو مرحلہ وار ختم کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ منیمم ٹرن اوور ٹیکس ، انٹرا کمپنی ڈیویڈنڈ ٹیکسیشن اور بونس شیئرز پر ٹیکس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286871</guid>
      <pubDate>Sat, 30 May 2026 15:40:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/30152753ef12c54.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/30152753ef12c54.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
