<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 02:11:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 02:11:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ابوظہبی ٹی10 کی نظریں نئی فرنچائزز پر، گورننس اصلاحات کے بعد توسیع کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286854/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ابوظہبی ٹی10 عالمی سطح پر اپنی وسعت بڑھانے کے لیے نئے بین الاقوامی فرنچائزز کو شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیگ کے چیف ایگزیکٹو میٹ باؤچر نے کہا ہے کہ اس عمل میں شفافیت بہتر بنانے اور گورننس کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوظہبی کرکٹ اینڈ اسپورٹس حب نے گزشتہ ہفتے اس 10 اوورز فی سائیڈ ٹورنامنٹ کی اکثریتی ملکیت اور کمرشل کنٹرول سنبھال لیا ہے، یوں 2017 میں شجیع الملک کے شروع کردہ اس لیگ کو حکومتی ملکیت اور انتظام کے تحت لایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باؤچر کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیموں کے لیے طویل المدتی استحکام پیدا کرنا اور اس لیگ پر اعتماد بحال کرنا ہے، جسے ماضی کے سیزن میں مالی معاملات اور شفافیت سے متعلق خدشات کا سامنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”امارات کرکٹ بورڈ کی جانب سے نئے لائسنس کے تحت ہمیں یہ اختیار حاصل ہوا ہے کہ ہم موجودہ منتخب ٹیموں کو 10 سالہ لائسنس فراہم کریں اور ساتھ ہی نئے بین الاقوامی فرنچائز پارٹنرز کو بھی شامل کریں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باؤچر نے مزید کہا کہ ”ہم اس وقت ابوظہبی ٹی10 کی کچھ موجودہ ٹیموں کے ساتھ ان کے مستقبل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کر رہے ہیں اور جلد ہی نئی ٹیموں کے لیے عالمی سطح پر دعوت نامہ جاری کیا جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹھ ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ میں ماضی کے دوران فرنچائزز کی تبدیلیاں بار بار دیکھنے میں آئیں، اور نو سیزنز میں مجموعی طور پر 18 مختلف ٹیمیں حصہ لے چکی ہیں، جو سابقہ ماڈل کے تحت عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 512 ملین ڈالر کی اسپانسرشپ ویلیو کے ساتھ نئے ڈھانچے کا مقصد مالی استحکام فراہم کرنا ہے، جس کے تحت ہر فرنچائز کو مرکزی آمدنی میں سے ایک یقینی حصہ دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مالی ماڈل کے تحت ہر فرنچائز کو پہلے سال سے دسویں سال تک مرکزی پول آمدنی میں سے ایک ضمانت شدہ حصہ ملے گا، جس سے مالکان کو آمدنی کا واضح اور مستحکم بنیاد ملے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اجرتوں-کے-مسائل" href="#اجرتوں-کے-مسائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اجرتوں کے مسائل&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;لیگ کو ماضی میں کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں تاخیر اور عدم ادائیگی جیسے مسائل پر تنقید کا سامنا رہا ہے، اور کھلاڑیوں و آفیشلز کی جانب سے گورننس پر شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشنز کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق بعض کھلاڑیوں اور کوچز کو 2019 سیزن کے اختتام کے کئی ماہ بعد بھی اپنی تنخواہوں کا نصف حصہ نہیں ملا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹیگریٹی کے معاملات بھی زیرِ بحث رہے، 2021 میں اسپاٹ فکسنگ پر کھلاڑیوں پر پابندیاں لگیں جبکہ 2023 میں 2021 ایڈیشن کے دوران میچ فکسنگ کی کوششوں پر متعدد افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں آئی سی سی اینٹی کرپشن حکام نے ابوظہبی ٹی10 میں بدعنوانی کے بلند خطرے سے خبردار کیا، جس کے بعد مزید پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باؤچر نے کہا کہ ”اصل توجہ کھلاڑیوں کی گورننس اور ان کی فلاح و بہبود کو بہت زیادہ مضبوط بنانے پر ہے، اور یہ سب متعلقہ عالمی گورننگ باڈیز کے ساتھ مل کر کیا جا رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ نگرانی اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا اس اصلاحاتی عمل کا مرکزی حصہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی ٹیم اسکواڈ کی تشکیل کے قواعد بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔ اب ہر ٹیم صرف دو براہِ راست سائننگ کر سکے گی،ایک آئیکون اور ایک پلاٹینم کھلاڑی،جبکہ باقی ٹیم ڈرافٹ کے ذریعے منتخب ہوگی، جو پہلے کے اس نظام کی جگہ لے گا جس میں متعدد پیشگی سائننگ کی اجازت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کے ایڈیشن میں اسکواڈ کی ساخت کچھ یوں ہوگی: ایک آئیکون، دو پلاٹینم کھلاڑی (جن میں ایک ڈرافٹ سے ہوگا)، اور پھر تین تین کھلاڑی کیٹگری اے، اے،بی اورسی میں شامل ہوں گے، جن کی درجہ بندی بین الاقوامی حیثیت اور معاوضے کے مطابق ہوگی۔ اس کے علاوہ یو اے ای اور ایسوسی ایٹ کھلاڑی بھی شامل ہوں گے، جبکہ پلیئنگ الیون میں نو غیر ملکی اور کم از کم دو یو اے ای کھلاڑیوں کی موجودگی لازمی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باؤچر نے مشرقِ وسطیٰ میں کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو بھی سراہا، خاص طور پر ہمسایہ ممالک میں نئی کرکٹ لیگز کے آغاز کو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”گزشتہ 10 برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں کرکٹ نے واقعی بہت ترقی کی ہے، اور یو اے ای اس کی قیادت کر رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”اگر ہمارے ہمسایہ ممالک بھی اس کرکٹنگ نظام کا حصہ بن رہے ہیں اور اپنی پروڈکٹس تیار کر رہے ہیں تو یہ ہمارے رہائشیوں اور گورننگ باڈیز سب کے لیے بہت خوش آئند ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹورنامنٹ 7 نومبر سے 20 نومبر تک کھیلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ابوظہبی ٹی10 عالمی سطح پر اپنی وسعت بڑھانے کے لیے نئے بین الاقوامی فرنچائزز کو شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیگ کے چیف ایگزیکٹو میٹ باؤچر نے کہا ہے کہ اس عمل میں شفافیت بہتر بنانے اور گورننس کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>ابوظہبی کرکٹ اینڈ اسپورٹس حب نے گزشتہ ہفتے اس 10 اوورز فی سائیڈ ٹورنامنٹ کی اکثریتی ملکیت اور کمرشل کنٹرول سنبھال لیا ہے، یوں 2017 میں شجیع الملک کے شروع کردہ اس لیگ کو حکومتی ملکیت اور انتظام کے تحت لایا گیا ہے۔</p>
<p>باؤچر کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیموں کے لیے طویل المدتی استحکام پیدا کرنا اور اس لیگ پر اعتماد بحال کرنا ہے، جسے ماضی کے سیزن میں مالی معاملات اور شفافیت سے متعلق خدشات کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”امارات کرکٹ بورڈ کی جانب سے نئے لائسنس کے تحت ہمیں یہ اختیار حاصل ہوا ہے کہ ہم موجودہ منتخب ٹیموں کو 10 سالہ لائسنس فراہم کریں اور ساتھ ہی نئے بین الاقوامی فرنچائز پارٹنرز کو بھی شامل کریں۔“</p>
<p>باؤچر نے مزید کہا کہ ”ہم اس وقت ابوظہبی ٹی10 کی کچھ موجودہ ٹیموں کے ساتھ ان کے مستقبل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کر رہے ہیں اور جلد ہی نئی ٹیموں کے لیے عالمی سطح پر دعوت نامہ جاری کیا جائے گا۔“</p>
<p>آٹھ ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ میں ماضی کے دوران فرنچائزز کی تبدیلیاں بار بار دیکھنے میں آئیں، اور نو سیزنز میں مجموعی طور پر 18 مختلف ٹیمیں حصہ لے چکی ہیں، جو سابقہ ماڈل کے تحت عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>تقریباً 512 ملین ڈالر کی اسپانسرشپ ویلیو کے ساتھ نئے ڈھانچے کا مقصد مالی استحکام فراہم کرنا ہے، جس کے تحت ہر فرنچائز کو مرکزی آمدنی میں سے ایک یقینی حصہ دیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مالی ماڈل کے تحت ہر فرنچائز کو پہلے سال سے دسویں سال تک مرکزی پول آمدنی میں سے ایک ضمانت شدہ حصہ ملے گا، جس سے مالکان کو آمدنی کا واضح اور مستحکم بنیاد ملے گی۔“</p>
<h3><a id="اجرتوں-کے-مسائل" href="#اجرتوں-کے-مسائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اجرتوں کے مسائل</h3>
<p>لیگ کو ماضی میں کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں تاخیر اور عدم ادائیگی جیسے مسائل پر تنقید کا سامنا رہا ہے، اور کھلاڑیوں و آفیشلز کی جانب سے گورننس پر شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔</p>
<p>فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشنز کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق بعض کھلاڑیوں اور کوچز کو 2019 سیزن کے اختتام کے کئی ماہ بعد بھی اپنی تنخواہوں کا نصف حصہ نہیں ملا تھا۔</p>
<p>انٹیگریٹی کے معاملات بھی زیرِ بحث رہے، 2021 میں اسپاٹ فکسنگ پر کھلاڑیوں پر پابندیاں لگیں جبکہ 2023 میں 2021 ایڈیشن کے دوران میچ فکسنگ کی کوششوں پر متعدد افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی۔</p>
<p>2024 میں آئی سی سی اینٹی کرپشن حکام نے ابوظہبی ٹی10 میں بدعنوانی کے بلند خطرے سے خبردار کیا، جس کے بعد مزید پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔</p>
<p>باؤچر نے کہا کہ ”اصل توجہ کھلاڑیوں کی گورننس اور ان کی فلاح و بہبود کو بہت زیادہ مضبوط بنانے پر ہے، اور یہ سب متعلقہ عالمی گورننگ باڈیز کے ساتھ مل کر کیا جا رہا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ نگرانی اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا اس اصلاحاتی عمل کا مرکزی حصہ ہوگا۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی ٹیم اسکواڈ کی تشکیل کے قواعد بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔ اب ہر ٹیم صرف دو براہِ راست سائننگ کر سکے گی،ایک آئیکون اور ایک پلاٹینم کھلاڑی،جبکہ باقی ٹیم ڈرافٹ کے ذریعے منتخب ہوگی، جو پہلے کے اس نظام کی جگہ لے گا جس میں متعدد پیشگی سائننگ کی اجازت تھی۔</p>
<p>2026 کے ایڈیشن میں اسکواڈ کی ساخت کچھ یوں ہوگی: ایک آئیکون، دو پلاٹینم کھلاڑی (جن میں ایک ڈرافٹ سے ہوگا)، اور پھر تین تین کھلاڑی کیٹگری اے، اے،بی اورسی میں شامل ہوں گے، جن کی درجہ بندی بین الاقوامی حیثیت اور معاوضے کے مطابق ہوگی۔ اس کے علاوہ یو اے ای اور ایسوسی ایٹ کھلاڑی بھی شامل ہوں گے، جبکہ پلیئنگ الیون میں نو غیر ملکی اور کم از کم دو یو اے ای کھلاڑیوں کی موجودگی لازمی ہوگی۔</p>
<p>باؤچر نے مشرقِ وسطیٰ میں کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو بھی سراہا، خاص طور پر ہمسایہ ممالک میں نئی کرکٹ لیگز کے آغاز کو۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”گزشتہ 10 برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں کرکٹ نے واقعی بہت ترقی کی ہے، اور یو اے ای اس کی قیادت کر رہا ہے۔“</p>
<p>”اگر ہمارے ہمسایہ ممالک بھی اس کرکٹنگ نظام کا حصہ بن رہے ہیں اور اپنی پروڈکٹس تیار کر رہے ہیں تو یہ ہمارے رہائشیوں اور گورننگ باڈیز سب کے لیے بہت خوش آئند ہے۔“</p>
<p>ٹورنامنٹ 7 نومبر سے 20 نومبر تک کھیلا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286854</guid>
      <pubDate>Fri, 29 May 2026 23:07:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/29221535afafa61.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/29221535afafa61.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
