<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Jul 2026 02:21:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Jul 2026 02:21:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں 2026 کے دوران مون سون کی بارشیں اوسط سے کم رہنے کی پیش گوئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286840/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت نے جمعہ کو کہا ہے کہ ایل نینو کے منفی اثرات کے باعث 2026 میں مون سون کی بارشیں گزشتہ تین سالوں میں پہلی بار اوسط سے کم رہنے کا امکان ہے جس سے زرعی پیداوار اور اقتصادی نمو کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب ملک ایران کی جنگ سے پیدا ہونے والی مہنگائی سے نمٹ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 4 ٹریلین  ڈالر کی معیشت جو ایشیا کی تیسری بڑی معیشت ہے کے لیے مون سون بارشیں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ بارشیں زرعی زمینوں کو سیراب کرنے اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر اور آبی ذخائر کو بھرنے کے لیے درکار تقریباً 70 فیصد پانی فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت ارتھ سائنسز کے سیکریٹری ایم روی چندرن نے کہا کہ اس سال مون سون کے طویل مدتی اوسط کے تقریباً 90 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایل نینو نامی موسمی اثر جلد تشکیل پانے کا امکان ہے جو جون سے ستمبر تک جاری رہنے والے چار ماہ کے مون سون سیزن میں بارشوں پر اثر انداز ہوگا۔ بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق نارمل بارش سے مراد وہ بارش ہے جو 50 سال کی اوسط 87 سینٹی میٹر (35 انچ) کے مقابلے میں 96 فیصد سے 104 فیصد کے درمیان ہو، جو اس چار ماہ کے سیزن کے لیے معیار سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روی چندرن نے بتایا کہ جون میں اوسط سے کم بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جو طویل المدتی اوسط کے 92 فیصد سے بھی کم رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ال نینو کا موسمیاتی اثر تب پیدا ہوتا ہے جب وسطی اور مشرقی بحرِ الکاہل  میں سمندر کا درجہ حرارت معمول سے بڑھ جاتا ہے جو عام طور پر جنوب مشرقی ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں میں شدید گرمی اور خشک سالی کا باعث بنتا ہے۔ ماضی میں ال نینو کے بیشتر سالوں کے دوران بھارت میں اوسط سے کم بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا جس نے فصلوں کو تباہ کر دیا اور ملک کو اناج کی برآمدات پر پابندیاں لگانے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت نے جمعہ کو کہا ہے کہ ایل نینو کے منفی اثرات کے باعث 2026 میں مون سون کی بارشیں گزشتہ تین سالوں میں پہلی بار اوسط سے کم رہنے کا امکان ہے جس سے زرعی پیداوار اور اقتصادی نمو کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب ملک ایران کی جنگ سے پیدا ہونے والی مہنگائی سے نمٹ رہا ہے۔</p>
<p>تقریباً 4 ٹریلین  ڈالر کی معیشت جو ایشیا کی تیسری بڑی معیشت ہے کے لیے مون سون بارشیں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ بارشیں زرعی زمینوں کو سیراب کرنے اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر اور آبی ذخائر کو بھرنے کے لیے درکار تقریباً 70 فیصد پانی فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>وزارت ارتھ سائنسز کے سیکریٹری ایم روی چندرن نے کہا کہ اس سال مون سون کے طویل مدتی اوسط کے تقریباً 90 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایل نینو نامی موسمی اثر جلد تشکیل پانے کا امکان ہے جو جون سے ستمبر تک جاری رہنے والے چار ماہ کے مون سون سیزن میں بارشوں پر اثر انداز ہوگا۔ بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق نارمل بارش سے مراد وہ بارش ہے جو 50 سال کی اوسط 87 سینٹی میٹر (35 انچ) کے مقابلے میں 96 فیصد سے 104 فیصد کے درمیان ہو، جو اس چار ماہ کے سیزن کے لیے معیار سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>روی چندرن نے بتایا کہ جون میں اوسط سے کم بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جو طویل المدتی اوسط کے 92 فیصد سے بھی کم رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ال نینو کا موسمیاتی اثر تب پیدا ہوتا ہے جب وسطی اور مشرقی بحرِ الکاہل  میں سمندر کا درجہ حرارت معمول سے بڑھ جاتا ہے جو عام طور پر جنوب مشرقی ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں میں شدید گرمی اور خشک سالی کا باعث بنتا ہے۔ ماضی میں ال نینو کے بیشتر سالوں کے دوران بھارت میں اوسط سے کم بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا جس نے فصلوں کو تباہ کر دیا اور ملک کو اناج کی برآمدات پر پابندیاں لگانے پر مجبور کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286840</guid>
      <pubDate>Fri, 29 May 2026 15:28:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/29152035c5cbde9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/29152035c5cbde9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
