<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 09:00:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 09:00:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ-ایران جنگ بندی کی رپورٹس، عالمی مارکیٹ میں ڈالر ہفتہ وار خسارے کی جانب گامزن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286829/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر جمعہ کو  بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مزید کمزور ہوگیا اور ہفتہ وار بنیادوں پر بھی گراوٹ کی جانب بڑھتا دکھائی دیا جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت پر عائد پابندیاں ہٹانے کے معاہدے کی اطلاعات ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کو چار ذرائع نے بتایا کہ یہ معاہدہ جو تاحال ٹرمپ کی منظوری کا منتظر ہے، جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کرے گا اور اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال رکھنے کی اجازت دے گا جبکہ مذاکرات کار ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کی مانگ میں بھی مندی آئی تاہم مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ محتاط رہا کیونکہ ہفتے کے آغاز میں واشنگٹن اور تہران دونوں جانب سے ملنے والے ملے جلے اشاروں کے بعد سرمایہ کار پائیدار حل کے حوالے سے تاحال محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی مارکیٹ میں یورو کی قیمت 1.1653 ڈالر رہی جس میں اب تک 0.03 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ برطانوی پاؤنڈ بغیر کسی ردوبدل کے 1.3445 ڈالر پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلین ڈالر 0.7164 ڈالر پر برقرار رہا جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 0.5946 ڈالر پر پہنچ گیا جو دو ہفتوں سے زائد عرصے میں اس کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس جمعرات کو 0.2 فیصد گرنے کے بعد 98.997 پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کا انڈیکس اب مسلسل دو ہفتوں سے جاری رہنے والے اضافے کے تسلسل کو توڑنے کی جانب گامزن ہے اور اس ہفتے کے اختتام پر اس میں 0.3 فیصد کی گراوٹ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس اوبیسیٹ مینجمنٹ میں گلوبل سوورن مارکیٹس ٹیم کے ہیڈ آف اسٹریٹیجی، میسیمیلیانو کاسٹیلی کا کہنا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ جیسے ہی ایران اور مشرقِ وسطیٰ کا یہ بحران ختم ہوگا، ہم امریکی ڈالر کو بدستور کمزور دیکھنے کی توقع کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس تنازع نے محفوظ سرمایہ کاری  کی مانگ کے باعث ڈالر کی کمزوری کو عارضی طور پر روک دیا تھا لیکن اب بھی بہت سے سرمایہ کار امریکی ڈالر کے اثاثوں سے نکل کر دیگر ذرائع میں سرمایہ کاری کو متنوع  کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر کی بڑے پیمانے پر کمزوری کے باعث جاپانی ین مضبوط ہو کر 159.27 پر آ گیا جس سے یہ نفسیاتی طور پر اہم سمجھی جانے والی 160 ین فی ڈالر کی سطح سے پیچھے ہٹ گیا, یہ وہی سطح ہے جس نے ماضی میں جاپانی حکام کو مارکیٹ میں مداخلت پر مجبور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی اعداد و شمار کے محاذ پر اپریل کے دوران امریکہ میں مہنگائی میں گزشتہ تین سالوں کے دوران تیز ترین رفتار سے اضافہ دیکھا گیا جس کی بڑی وجہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔ اس صورتحال نے ماہرینِ معیشت کے اس خیال کو مزید تقویت دی ہے کہ فیڈرل ریزرو شرحِ سود کو آئندہ سال تک تبدیل نہیں کرے گا اور اسی سطح پر برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر جمعہ کو  بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مزید کمزور ہوگیا اور ہفتہ وار بنیادوں پر بھی گراوٹ کی جانب بڑھتا دکھائی دیا جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت پر عائد پابندیاں ہٹانے کے معاہدے کی اطلاعات ہیں۔</strong></p>
<p>رائٹرز کو چار ذرائع نے بتایا کہ یہ معاہدہ جو تاحال ٹرمپ کی منظوری کا منتظر ہے، جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کرے گا اور اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال رکھنے کی اجازت دے گا جبکہ مذاکرات کار ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے۔</p>
<p>تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کی مانگ میں بھی مندی آئی تاہم مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ محتاط رہا کیونکہ ہفتے کے آغاز میں واشنگٹن اور تہران دونوں جانب سے ملنے والے ملے جلے اشاروں کے بعد سرمایہ کار پائیدار حل کے حوالے سے تاحال محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔</p>
<p>ایشیائی مارکیٹ میں یورو کی قیمت 1.1653 ڈالر رہی جس میں اب تک 0.03 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ برطانوی پاؤنڈ بغیر کسی ردوبدل کے 1.3445 ڈالر پر مستحکم رہا۔</p>
<p>آسٹریلین ڈالر 0.7164 ڈالر پر برقرار رہا جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 0.5946 ڈالر پر پہنچ گیا جو دو ہفتوں سے زائد عرصے میں اس کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس جمعرات کو 0.2 فیصد گرنے کے بعد 98.997 پر مستحکم رہا۔</p>
<p>ڈالر کا انڈیکس اب مسلسل دو ہفتوں سے جاری رہنے والے اضافے کے تسلسل کو توڑنے کی جانب گامزن ہے اور اس ہفتے کے اختتام پر اس میں 0.3 فیصد کی گراوٹ متوقع ہے۔</p>
<p>یو بی ایس اوبیسیٹ مینجمنٹ میں گلوبل سوورن مارکیٹس ٹیم کے ہیڈ آف اسٹریٹیجی، میسیمیلیانو کاسٹیلی کا کہنا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ جیسے ہی ایران اور مشرقِ وسطیٰ کا یہ بحران ختم ہوگا، ہم امریکی ڈالر کو بدستور کمزور دیکھنے کی توقع کررہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس تنازع نے محفوظ سرمایہ کاری  کی مانگ کے باعث ڈالر کی کمزوری کو عارضی طور پر روک دیا تھا لیکن اب بھی بہت سے سرمایہ کار امریکی ڈالر کے اثاثوں سے نکل کر دیگر ذرائع میں سرمایہ کاری کو متنوع  کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p>امریکی ڈالر کی بڑے پیمانے پر کمزوری کے باعث جاپانی ین مضبوط ہو کر 159.27 پر آ گیا جس سے یہ نفسیاتی طور پر اہم سمجھی جانے والی 160 ین فی ڈالر کی سطح سے پیچھے ہٹ گیا, یہ وہی سطح ہے جس نے ماضی میں جاپانی حکام کو مارکیٹ میں مداخلت پر مجبور کیا تھا۔</p>
<p>معاشی اعداد و شمار کے محاذ پر اپریل کے دوران امریکہ میں مہنگائی میں گزشتہ تین سالوں کے دوران تیز ترین رفتار سے اضافہ دیکھا گیا جس کی بڑی وجہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔ اس صورتحال نے ماہرینِ معیشت کے اس خیال کو مزید تقویت دی ہے کہ فیڈرل ریزرو شرحِ سود کو آئندہ سال تک تبدیل نہیں کرے گا اور اسی سطح پر برقرار رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286829</guid>
      <pubDate>Fri, 29 May 2026 11:57:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/291156043326e4a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/291156043326e4a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
