<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 15:30:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 15:30:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حاجیوں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے سعودی عرب نے ڈرونز کی مدد لے لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286819/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مکہ مکرمہ میں جب رواں ہفتے پارہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھونے لگا اور تپتے ہوئے میدانوں میں حاجیوں کے لیے سانس لینا محال ہوا تو سعودی محکمہ صحت نے روایتی راستوں کو چھوڑ کر جدت کا دامن تھام لیا۔ لاکھوں کے مجمعے میں ایمبولینس پہنچنے کے انتظار کے بجائے اب جدید ڈرونز فضا میں اڑان بھر رہے ہیں جو گرمی سے نڈھال زائرین کے لیے چند ہی منٹوں میں زندگی بچانے والی ادویات پہنچا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ حج کے مناسک صدیوں سے ایک جیسے ہی رہے ہیں لیکن اب ٹیکنالوجی نے زائرین اور حکام دونوں کے لیے اس تجربے کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) بغیر پائلٹ کے اڑنے والے طیاروں (یواے ویز) اور موبائل ایپس کے ذریعے اہم خدمات، لاجسٹک سپورٹ اور لاکھوں کے اس بڑے ہجوم کو سنبھالنے میں مدد لی جا رہی ہے۔ 15 لاکھ سے زائد حاجیوں کی موجودگی کے باعث سڑکوں پر شدید رش پر انحصار کرنے کے بجائے ڈرونز خاص طور پر مکہ، منیٰ اور عرفات میں پھیلے ہوئے 127 کلینکس تک ضروری طبی سامان بروقت پہنچانے کا ایک بہترین تکنیکی حل ثابت ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی متحدہ خریداری کمپنی (این یو پی سی او) کے چیف آپریٹنگ آفیسر فہد الباتھی نے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی مقصد حج کے سیزن کے دوران اللہ کے مہمانوں کو تیز ترین خدمات فراہم کرنا ہے۔ حج کے سیزن کے لیے طبی ضروریات کی تیاریاں نو ماہ قبل ہی شروع کر دی گئی تھیں۔ طبی مراکز کے رنگ برنگے نقشے کے سامنے کھڑے ہو کر نپکو کے آپریشنز آفیسر ترکی العبیدی نے بتایا کہ ان کی ٹیمیں حج کے دوران چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ٹیموں کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہم جتنا جلدی ہو سکے مریضوں تک پہنچیں اور اتنے بڑے ہجوم میں یہ ایک انتہائی اہم عنصر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈرون ٹیکنالوجی اپنانے سے پہلے ڈرائیوروں کو ان کلینکس تک پہنچنے کے لیے ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگ جاتا تھا جہاں طبی سامان کی کمی ہوتی تھی۔ اب حکام نے ایک وسیع و عریض مرکز کے گرد اپنے آپریشنز کو یکجا کر دیا ہے جو ادویات اور دیگر ضروری اشیاء ڈرونز کے ذریعے بھیجتا ہے۔ باتھی نے کہا کہ ہم نئی ایجادات کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے ذریعے ہم یہ یقینی بنا سکیں کہ طبی سامان محفوظ طریقے سے، تیز ترین رفتار کے ساتھ اور اعلیٰ ترین معیار کے ساتھ پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بڑی ڈیٹا اسکرین سے لیس آپریشن روم میں عملہ ڈرون کے ذریعے بھیجے جانے والے سامان کی باریک بینی سے نگرانی کرتا ہے  جبکہ دیگر ملازمین تیزی سے نقل و حرکت کے لیے الیکٹرک اسکوٹرز کا استعمال کرتے ہیں۔ ڈرونز ان بڑھتے ہوئے تکنیکی حلوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد حج کے انتظام اور تپتے ہوئے صحرائی موسم کے چیلنجز سے بہتر طریقے سے نمٹنا ہے۔ مقدس شہر مکہ اور اس کے ارد گرد نصب ہزاروں کیمروں کی فوٹیج کی نگرانی کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نئے حل گرمی سے نمٹنے کے روایتی طریقوں کو مزید تقویت دیتے ہیں، جن میں بڑے پنکھے، مفت پانی تقسیم کرنے والے ٹرک اور پانی کا چھڑکاؤ کرنے والے مسٹ سسٹمز شامل ہیں جو ہجوم کو ٹھنڈک پہنچانے میں مدد کرتے ہیں۔ سعودی محکمہ صحت کے اہلکار جمیل ابو العینین نے کہا کہ حج کے دوران گرمی کی شدت اور لو لگنا بڑے مسائل میں سے ایک ہے اور ہم اس کے لیے اعلیٰ اور تیز ترین سطح کی تیاری برقرار رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مکہ مکرمہ میں جب رواں ہفتے پارہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھونے لگا اور تپتے ہوئے میدانوں میں حاجیوں کے لیے سانس لینا محال ہوا تو سعودی محکمہ صحت نے روایتی راستوں کو چھوڑ کر جدت کا دامن تھام لیا۔ لاکھوں کے مجمعے میں ایمبولینس پہنچنے کے انتظار کے بجائے اب جدید ڈرونز فضا میں اڑان بھر رہے ہیں جو گرمی سے نڈھال زائرین کے لیے چند ہی منٹوں میں زندگی بچانے والی ادویات پہنچا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>اگرچہ حج کے مناسک صدیوں سے ایک جیسے ہی رہے ہیں لیکن اب ٹیکنالوجی نے زائرین اور حکام دونوں کے لیے اس تجربے کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) بغیر پائلٹ کے اڑنے والے طیاروں (یواے ویز) اور موبائل ایپس کے ذریعے اہم خدمات، لاجسٹک سپورٹ اور لاکھوں کے اس بڑے ہجوم کو سنبھالنے میں مدد لی جا رہی ہے۔ 15 لاکھ سے زائد حاجیوں کی موجودگی کے باعث سڑکوں پر شدید رش پر انحصار کرنے کے بجائے ڈرونز خاص طور پر مکہ، منیٰ اور عرفات میں پھیلے ہوئے 127 کلینکس تک ضروری طبی سامان بروقت پہنچانے کا ایک بہترین تکنیکی حل ثابت ہوئے ہیں۔</p>
<p>قومی متحدہ خریداری کمپنی (این یو پی سی او) کے چیف آپریٹنگ آفیسر فہد الباتھی نے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی مقصد حج کے سیزن کے دوران اللہ کے مہمانوں کو تیز ترین خدمات فراہم کرنا ہے۔ حج کے سیزن کے لیے طبی ضروریات کی تیاریاں نو ماہ قبل ہی شروع کر دی گئی تھیں۔ طبی مراکز کے رنگ برنگے نقشے کے سامنے کھڑے ہو کر نپکو کے آپریشنز آفیسر ترکی العبیدی نے بتایا کہ ان کی ٹیمیں حج کے دوران چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ٹیموں کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہم جتنا جلدی ہو سکے مریضوں تک پہنچیں اور اتنے بڑے ہجوم میں یہ ایک انتہائی اہم عنصر ہوتا ہے۔</p>
<p>ڈرون ٹیکنالوجی اپنانے سے پہلے ڈرائیوروں کو ان کلینکس تک پہنچنے کے لیے ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگ جاتا تھا جہاں طبی سامان کی کمی ہوتی تھی۔ اب حکام نے ایک وسیع و عریض مرکز کے گرد اپنے آپریشنز کو یکجا کر دیا ہے جو ادویات اور دیگر ضروری اشیاء ڈرونز کے ذریعے بھیجتا ہے۔ باتھی نے کہا کہ ہم نئی ایجادات کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے ذریعے ہم یہ یقینی بنا سکیں کہ طبی سامان محفوظ طریقے سے، تیز ترین رفتار کے ساتھ اور اعلیٰ ترین معیار کے ساتھ پہنچے۔</p>
<p>ایک بڑی ڈیٹا اسکرین سے لیس آپریشن روم میں عملہ ڈرون کے ذریعے بھیجے جانے والے سامان کی باریک بینی سے نگرانی کرتا ہے  جبکہ دیگر ملازمین تیزی سے نقل و حرکت کے لیے الیکٹرک اسکوٹرز کا استعمال کرتے ہیں۔ ڈرونز ان بڑھتے ہوئے تکنیکی حلوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد حج کے انتظام اور تپتے ہوئے صحرائی موسم کے چیلنجز سے بہتر طریقے سے نمٹنا ہے۔ مقدس شہر مکہ اور اس کے ارد گرد نصب ہزاروں کیمروں کی فوٹیج کی نگرانی کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ نئے حل گرمی سے نمٹنے کے روایتی طریقوں کو مزید تقویت دیتے ہیں، جن میں بڑے پنکھے، مفت پانی تقسیم کرنے والے ٹرک اور پانی کا چھڑکاؤ کرنے والے مسٹ سسٹمز شامل ہیں جو ہجوم کو ٹھنڈک پہنچانے میں مدد کرتے ہیں۔ سعودی محکمہ صحت کے اہلکار جمیل ابو العینین نے کہا کہ حج کے دوران گرمی کی شدت اور لو لگنا بڑے مسائل میں سے ایک ہے اور ہم اس کے لیے اعلیٰ اور تیز ترین سطح کی تیاری برقرار رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286819</guid>
      <pubDate>Thu, 28 May 2026 15:34:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/28152016c0ca2fa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/28152016c0ca2fa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
