<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 09:40:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 09:40:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تائیوان کی تیز پیش قدمی، عالمی مارکیٹ کیپ میں بھارت کی پانچویں پوزیشن خطرے میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286817/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی سرمایہ کاری کے بدلتے رخ نے جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے کھلاڑی بھارت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ دنیا بھر کے انویسٹرز اب روایتی معیشتوں کے بجائے تائیوان کی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ (ٹی ایس ایم سی) کا رخ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کی دوڑ میں بھارت کا پانچواں مقام شدید خطرے میں پڑگیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) میں سرمایہ کاری کے کم مواقع اور سالانہ آمدنی میں کمزور ترقی کا شکار بھارتی ایکویٹی مارکیٹ رواں سال دنیا کی بدترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں سے ایک رہی ہے، جہاں نفٹی 50 اور بی ایس ای سینسیکس میں بالترتیب تقریباً 8.5 فیصد اور 10.8  فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک ایکسچینج کے ڈیٹا کے مطابق منگل کو تائیوان اسٹاک ایکسچینج اور او ٹی سی ایکسچینج پر لسٹڈ کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ مالیت 4.89 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کی گئی، جو بھارت کی این ایس ای میں لسٹڈ کمپنیوں کی 4.92 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ مالیت سے معمولی سی کم ہے۔ عالمی فہرست میں امریکہ، چین، جاپان اور ہانگ کانگ بالترتیب پہلے چار نمبروں پر براجمان ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی فنڈز کے بہاؤ اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر نظر رکھنے والے ادارے  کوپلے فنڈ ریسرچ نے اپنی مئی کی رپورٹ میں کہا ہے کہ  بھارت ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کا پسندیدہ ترین ملک ہونے کے درجے سے گر کر اب ایشیا کی چار بڑی مارکیٹوں میں سب سے پیچھے رہ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کوپلے کے زیر نگرانی فنڈز میں بھارت کا اوسط وزن اب کم ہو کر 9.94 فیصد رہ گیا ہے، جو جنوری 2021 کے بعد پہلی بار 10 فیصد سے نیچے گرا ہے اور یہ اگست 2024 میں ریکارڈ کیے گئے 17.47 فیصد کے عروج سے بہت دور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولم کیپیٹل کے سی ای او اور پورٹ فولیو مینیجر منیش بھنڈاری کا کہنا ہے کہ  بھارتی مارکیٹ میں اے آئی  تجارت یا ٹی ایس ایم سی ، نویڈیا  اور بڑے پیمانے پر اے آئی انفرااسٹرکچر چلانے والی کمپنیوں کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔رواں سال 2026 میں اب تک ٹی ایس ایم سی  کے شیئرز میں 44 فیصد  سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے، جس نے تائیوان کے بینچ مارک انڈیکس کو اس سال 50.3  فیصد اوپر دھکیلنے میں مدد کی ہے۔ مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے اب یہ اکیلی چپ کمپنی بینچ مارک انڈیکس کے تقریباً 42 فیصد حصے پر محیط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منیش بھنڈاری نے مزید بتایا کہ جغرافیائی سیاسی خطرات بھی غیر ملکی سرمائے کے اخراج کی ایک بڑی وجہ ہیں، جن میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، توانائی کے لیے بھارت کا درآمدات پر انحصار، پاک بھارت تناؤ، امریکی ٹیرف کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور غیر متوقع مانیٹرنگ مونسون کے خطرات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے 2026 میں اب تک 24.18 ارب ڈالر کے مقامی شیئرز فروخت کیے ہیں، جو 2025 کی ریکارڈ سالانہ فروخت سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے برعکس تائیوان میں رواں سال اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ہے۔ بھارت کی مارکیٹ مالیت میں یہ کمی ایم ایس سی آئی  گلوبل اسٹینڈرڈ انڈیکس میں اس کے شیئر کے گرنے سے بھی ظاہر ہوتی ہے، جو ستمبر 2024 کے 21 فیصد کے عروج سے کم ہو کر اب 12.3 فیصد رہ گیا ہے۔ اس گراوٹ نے غیر ملکی سرمائے کی آمد کو مزید روک دیا ہے کیونکہ اس انڈیکس کو فالو کرنے والے پیسیو فنڈز اب اس جنوبی ایشیائی ملک کے اسٹاکس میں سرمایہ کاری محدود کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی مارکیٹ ریگولیٹر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا  (ایس ای بی آئی) کے سربراہ توہین کانتا پانڈے نے منگل کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک متنوع معیشت ہے جبکہ تائیوان کا انحصار چند مخصوص کمپنیوں پر ہے۔ اس وقت یہی کمپنیاں دنیا بھر سے غیر ملکی سرمائے کو اپنی طرف راغب کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی سرمایہ کاری کے بدلتے رخ نے جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے کھلاڑی بھارت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ دنیا بھر کے انویسٹرز اب روایتی معیشتوں کے بجائے تائیوان کی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ (ٹی ایس ایم سی) کا رخ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کی دوڑ میں بھارت کا پانچواں مقام شدید خطرے میں پڑگیا ہے۔</strong></p>
<p>دوسری طرف آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) میں سرمایہ کاری کے کم مواقع اور سالانہ آمدنی میں کمزور ترقی کا شکار بھارتی ایکویٹی مارکیٹ رواں سال دنیا کی بدترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں سے ایک رہی ہے، جہاں نفٹی 50 اور بی ایس ای سینسیکس میں بالترتیب تقریباً 8.5 فیصد اور 10.8  فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>اسٹاک ایکسچینج کے ڈیٹا کے مطابق منگل کو تائیوان اسٹاک ایکسچینج اور او ٹی سی ایکسچینج پر لسٹڈ کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ مالیت 4.89 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کی گئی، جو بھارت کی این ایس ای میں لسٹڈ کمپنیوں کی 4.92 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ مالیت سے معمولی سی کم ہے۔ عالمی فہرست میں امریکہ، چین، جاپان اور ہانگ کانگ بالترتیب پہلے چار نمبروں پر براجمان ہیں۔</p>
<p>عالمی فنڈز کے بہاؤ اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر نظر رکھنے والے ادارے  کوپلے فنڈ ریسرچ نے اپنی مئی کی رپورٹ میں کہا ہے کہ  بھارت ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کا پسندیدہ ترین ملک ہونے کے درجے سے گر کر اب ایشیا کی چار بڑی مارکیٹوں میں سب سے پیچھے رہ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کوپلے کے زیر نگرانی فنڈز میں بھارت کا اوسط وزن اب کم ہو کر 9.94 فیصد رہ گیا ہے، جو جنوری 2021 کے بعد پہلی بار 10 فیصد سے نیچے گرا ہے اور یہ اگست 2024 میں ریکارڈ کیے گئے 17.47 فیصد کے عروج سے بہت دور ہے۔</p>
<p>ولم کیپیٹل کے سی ای او اور پورٹ فولیو مینیجر منیش بھنڈاری کا کہنا ہے کہ  بھارتی مارکیٹ میں اے آئی  تجارت یا ٹی ایس ایم سی ، نویڈیا  اور بڑے پیمانے پر اے آئی انفرااسٹرکچر چلانے والی کمپنیوں کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔رواں سال 2026 میں اب تک ٹی ایس ایم سی  کے شیئرز میں 44 فیصد  سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے، جس نے تائیوان کے بینچ مارک انڈیکس کو اس سال 50.3  فیصد اوپر دھکیلنے میں مدد کی ہے۔ مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے اب یہ اکیلی چپ کمپنی بینچ مارک انڈیکس کے تقریباً 42 فیصد حصے پر محیط ہے۔</p>
<p>منیش بھنڈاری نے مزید بتایا کہ جغرافیائی سیاسی خطرات بھی غیر ملکی سرمائے کے اخراج کی ایک بڑی وجہ ہیں، جن میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، توانائی کے لیے بھارت کا درآمدات پر انحصار، پاک بھارت تناؤ، امریکی ٹیرف کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور غیر متوقع مانیٹرنگ مونسون کے خطرات شامل ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے 2026 میں اب تک 24.18 ارب ڈالر کے مقامی شیئرز فروخت کیے ہیں، جو 2025 کی ریکارڈ سالانہ فروخت سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے برعکس تائیوان میں رواں سال اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ہے۔ بھارت کی مارکیٹ مالیت میں یہ کمی ایم ایس سی آئی  گلوبل اسٹینڈرڈ انڈیکس میں اس کے شیئر کے گرنے سے بھی ظاہر ہوتی ہے، جو ستمبر 2024 کے 21 فیصد کے عروج سے کم ہو کر اب 12.3 فیصد رہ گیا ہے۔ اس گراوٹ نے غیر ملکی سرمائے کی آمد کو مزید روک دیا ہے کیونکہ اس انڈیکس کو فالو کرنے والے پیسیو فنڈز اب اس جنوبی ایشیائی ملک کے اسٹاکس میں سرمایہ کاری محدود کر رہے ہیں۔</p>
<p>بھارتی مارکیٹ ریگولیٹر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا  (ایس ای بی آئی) کے سربراہ توہین کانتا پانڈے نے منگل کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک متنوع معیشت ہے جبکہ تائیوان کا انحصار چند مخصوص کمپنیوں پر ہے۔ اس وقت یہی کمپنیاں دنیا بھر سے غیر ملکی سرمائے کو اپنی طرف راغب کر رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286817</guid>
      <pubDate>Thu, 28 May 2026 14:20:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/28135719481cda9.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/28135719481cda9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
