<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 21:33:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Jul 2026 21:33:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا سے معاہدے کا مسودہ منظور ہوا تو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال اور ناکہ بندی ختم ہو جائے گی،ایران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286800/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران کو امریکا کے ساتھ تنازع کے خاتمے سے متعلق ایک ابتدائی اور غیر رسمی فریم ورک پر مشتمل مفاہمتی مسودہ موصول ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فریم ورک کے تحت ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت کو جنگ سے قبل کی سطح تک بحال کرے گا، جبکہ امریکا ایران کے اطراف سے اپنی فوجی موجودگی کم کرے گا اور مبینہ بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ اس مسودے میں فوجی جہاز شامل نہیں ہیں، اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے انتظام کو ایران، عمان کے تعاون سے سنبھالے گا۔ تاہم واضح کیا گیا کہ یہ فریم ورک ابھی حتمی نہیں اور تہران کسی بھی اقدام سے پہلے “ٹھوس تصدیق” کا مطالبہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اگر 60 دن کے اندر حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کے طور پر منظور کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ابھرتا ہوا امریکا-ایران مفاہمتی مسودہ ان بالواسطہ مذاکرات کا نتیجہ ہے جو فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد شروع کیے گئے، جس میں پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان کلیدی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد شروع ہوئی، جس میں میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے سے خلیج میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی اور امریکا بھی اس میں ملوث ہوا، جس سے وسیع علاقائی تنازع کے خدشات بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران کو امریکا کے ساتھ تنازع کے خاتمے سے متعلق ایک ابتدائی اور غیر رسمی فریم ورک پر مشتمل مفاہمتی مسودہ موصول ہوا ہے۔</strong></p>
<p>اس فریم ورک کے تحت ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت کو جنگ سے قبل کی سطح تک بحال کرے گا، جبکہ امریکا ایران کے اطراف سے اپنی فوجی موجودگی کم کرے گا اور مبینہ بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔</p>
<p>سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ اس مسودے میں فوجی جہاز شامل نہیں ہیں، اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے انتظام کو ایران، عمان کے تعاون سے سنبھالے گا۔ تاہم واضح کیا گیا کہ یہ فریم ورک ابھی حتمی نہیں اور تہران کسی بھی اقدام سے پہلے “ٹھوس تصدیق” کا مطالبہ کرتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اگر 60 دن کے اندر حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کے طور پر منظور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ ابھرتا ہوا امریکا-ایران مفاہمتی مسودہ ان بالواسطہ مذاکرات کا نتیجہ ہے جو فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد شروع کیے گئے، جس میں پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان کلیدی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد شروع ہوئی، جس میں میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے سے خلیج میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی اور امریکا بھی اس میں ملوث ہوا، جس سے وسیع علاقائی تنازع کے خدشات بڑھ گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286800</guid>
      <pubDate>Wed, 27 May 2026 22:04:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/27215855c219945.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/27215855c219945.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
