<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 15:47:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 15:47:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک چین دفاعی، سیکیورٹی، اقتصادی اور تکنیکی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286771/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور چین نے منگل کو اپنے دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی تزویراتی (اسٹریٹجک) بلندی پر پہنچا دیا جس کے تحت دونوں ممالک نے دفاعی، سیکیورٹی، اقتصادی اور تکنیکی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا جبکہ ملٹی پولر عالمی نظام اور خطے میں استحکام کیلئے مشترکہ حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت وزیرِاعظم شہباز شریف کے چین کے چار روزہ سرکاری دورے کے اختتام پر جاری کیے گئے ایک تفصیلی مشترکہ اعلامیے کے ذریعے سامنے آئی جس کے دوران انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیرِاعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں دونوں اطراف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اپ گریڈ شدہ مرحلے (سی پیک 2.0) کی ترقی کو تیز کرنے، پاک چین سیکیورٹی پارٹنرشپ قائم کرنے، دہشت گردی کے خاتمے اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، ڈیجیٹل اکانومی، کان کنی، توانائی، زراعت اور خلائی ٹیکنالوجی میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں پاک چین تعلقات کو ایسے ہر موسم کے تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کے طور پر بیان کیا گیا جو بدلتی عالمی صورتحال میں بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کی حامل ہے جبکہ دونوں ممالک نے نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے حامل پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کی طرف تیزی سے بڑھنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کی ایک بڑی اور نمایاں بات ایک مجوزہ پاک چین سیکیورٹی پارٹنرشپ کے تحت گہرے سیکیورٹی روابط کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کا فیصلہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اطراف نے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کیلئے دوطرفہ اور کثیر الجہتی انسدادِ دہشت گردی تعاون کو وسعت دینے اور فوجی سطح پر روابط کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے بیجنگ کو ملک میں کام کرنے والے چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کیلئے اضافی اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصی محاذ پر دونوں ممالک نے سی پیک 2.0 کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے، قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ منصوبے کو مرحلہ وار مکمل کرنے اور گوادر پورٹ کو علاقائی روابط کے مرکز میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں جانب نے سرحد پار رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے خنجراب پاس کو مزید فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا جب کہ باہمی طور پر طے شدہ طریقہ کار کے تحت سی پیک منصوبوں میں تیسرے فریق کی شمولیت کا خیرمقدم بھی کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ اعلامیہ مستقبل کے حوالے سے تعاون میں ایک بڑی توسیع کی عکاسی بھی کرتا ہے، خاص طور پراے آئی، سائنسی جدت، ڈیجیٹل اکانومی، مواصلات اور خلائی تعاون کے شعبوں میں۔ چین نے تصدیق کی کہ دو پاکستانی خلابازوں کو چین میں تربیت دی جائے گی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایک پاکستانی خلاباز چینی خلائی اسٹیشن کے ابتدائی مشنوں میں شامل ہونے والا پہلا غیر ملکی شہری بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے صنعتی پارکس، معدنیات، تیل و گیس کی تلاش، زراعت اور تجارتی لبرلائزیشن کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا جبکہ بیجنگ نے 2025 سے 2029 کے دوران پاکستان کو 3 ہزار تربیتی مواقع فراہم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی سطح پر پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور تائیوان کو چین کا اٹوٹ حصہ قرار دیا۔ بدلے میں چین نے پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اطراف نے بین الاقوامی معاملات میں یکطرفہ اقدامات کی مشترکہ طور پر مخالفت بھی کی اور ایک کثیر القطبی دنیا اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی ایک عالمی نظام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا کے حوالے سے اعلامیے میں مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن و استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع تاریخ کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری پر بڑھتے ہوئے روابط کو بھی اجاگر کیا گیا۔ چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کو ممکن بنانے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور اسلام آباد مذاکرات کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ دونوں ممالک نے خلیج اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرتے رہنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کے معاملے پر دونوں اطراف نے چین، پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سہ فریقی روابط کا خیرمقدم کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت دیگر گروہوں کو علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کسی بھی سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور چین نے منگل کو اپنے دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی تزویراتی (اسٹریٹجک) بلندی پر پہنچا دیا جس کے تحت دونوں ممالک نے دفاعی، سیکیورٹی، اقتصادی اور تکنیکی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا جبکہ ملٹی پولر عالمی نظام اور خطے میں استحکام کیلئے مشترکہ حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت وزیرِاعظم شہباز شریف کے چین کے چار روزہ سرکاری دورے کے اختتام پر جاری کیے گئے ایک تفصیلی مشترکہ اعلامیے کے ذریعے سامنے آئی جس کے دوران انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیرِاعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کیں۔</p>
<p>اعلامیے میں دونوں اطراف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اپ گریڈ شدہ مرحلے (سی پیک 2.0) کی ترقی کو تیز کرنے، پاک چین سیکیورٹی پارٹنرشپ قائم کرنے، دہشت گردی کے خاتمے اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، ڈیجیٹل اکانومی، کان کنی، توانائی، زراعت اور خلائی ٹیکنالوجی میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>اعلامیے میں پاک چین تعلقات کو ایسے ہر موسم کے تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کے طور پر بیان کیا گیا جو بدلتی عالمی صورتحال میں بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کی حامل ہے جبکہ دونوں ممالک نے نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے حامل پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کی طرف تیزی سے بڑھنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>معاہدے کی ایک بڑی اور نمایاں بات ایک مجوزہ پاک چین سیکیورٹی پارٹنرشپ کے تحت گہرے سیکیورٹی روابط کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کا فیصلہ تھا۔</p>
<p>دونوں اطراف نے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کیلئے دوطرفہ اور کثیر الجہتی انسدادِ دہشت گردی تعاون کو وسعت دینے اور فوجی سطح پر روابط کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے بیجنگ کو ملک میں کام کرنے والے چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کیلئے اضافی اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی۔</p>
<p>اقتصی محاذ پر دونوں ممالک نے سی پیک 2.0 کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے، قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ منصوبے کو مرحلہ وار مکمل کرنے اور گوادر پورٹ کو علاقائی روابط کے مرکز میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں جانب نے سرحد پار رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے خنجراب پاس کو مزید فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا جب کہ باہمی طور پر طے شدہ طریقہ کار کے تحت سی پیک منصوبوں میں تیسرے فریق کی شمولیت کا خیرمقدم بھی کیا گیا۔</p>
<p>مشترکہ اعلامیہ مستقبل کے حوالے سے تعاون میں ایک بڑی توسیع کی عکاسی بھی کرتا ہے، خاص طور پراے آئی، سائنسی جدت، ڈیجیٹل اکانومی، مواصلات اور خلائی تعاون کے شعبوں میں۔ چین نے تصدیق کی کہ دو پاکستانی خلابازوں کو چین میں تربیت دی جائے گی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایک پاکستانی خلاباز چینی خلائی اسٹیشن کے ابتدائی مشنوں میں شامل ہونے والا پہلا غیر ملکی شہری بن سکتا ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک نے صنعتی پارکس، معدنیات، تیل و گیس کی تلاش، زراعت اور تجارتی لبرلائزیشن کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا جبکہ بیجنگ نے 2025 سے 2029 کے دوران پاکستان کو 3 ہزار تربیتی مواقع فراہم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>سفارتی سطح پر پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور تائیوان کو چین کا اٹوٹ حصہ قرار دیا۔ بدلے میں چین نے پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔</p>
<p>دونوں اطراف نے بین الاقوامی معاملات میں یکطرفہ اقدامات کی مشترکہ طور پر مخالفت بھی کی اور ایک کثیر القطبی دنیا اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی ایک عالمی نظام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔</p>
<p>جنوبی ایشیا کے حوالے سے اعلامیے میں مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن و استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع تاریخ کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>اعلامیے میں مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری پر بڑھتے ہوئے روابط کو بھی اجاگر کیا گیا۔ چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کو ممکن بنانے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور اسلام آباد مذاکرات کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ دونوں ممالک نے خلیج اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرتے رہنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>افغانستان کے معاملے پر دونوں اطراف نے چین، پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سہ فریقی روابط کا خیرمقدم کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت دیگر گروہوں کو علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کسی بھی سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286771</guid>
      <pubDate>Wed, 27 May 2026 11:32:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نزہت نذر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/27104940f6fa503.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/27104940f6fa503.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
