<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:36:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:36:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کی عدلیہ نے انٹرنیٹ کی بحالی کا حکم دینے والے صدارتی ادارے کو معطل کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286766/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی عدلیہ نے منگل کے روز اُس صدارتی ادارے کو معطل کر دیا جس نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد کئی ماہ سے جاری تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے خاتمے اور انٹرنیٹ تک رسائی کی بحالی کا حکم دیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدلیہ کے ماتحت مِیزان آن لائن ویب سائٹ کے مطابق اس ادارے کی معطلی کا فیصلہ ”درخواستوں/شکایات دائر ہونے“ کے بعد کیا گیا، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ شکایات کس نے جمع کرائی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام اسپیشل ہیڈکوارٹر فار آرگنائزنگ اینڈ گورننگ دی کنٹریز سائبر اسپیس کے خلاف کیا گیا ہے، جو 12 مئی کو صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے تشکیل دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق یہ ادارہ پیر کے روز ایران میں ”انٹرنیٹ کی بحالی“ کا فیصلہ کر چکا تھا، جبکہ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر مسعود پیزشکیان نے اس اقدام کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران کی اعلیٰ ترین سکیورٹی اتھارٹی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، ملک میں انٹرنیٹ کی بحالی کا حتمی اختیار رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام نے سب سے پہلے وسیع پیمانے پر انٹرنیٹ پابندیاں اس وقت عائد کی تھیں جب جنوری کے آغاز میں حکومت مخالف بڑے مظاہرے شدت اختیار کر گئے تھے، اور بعد ازاں 28 فروری کو جنگ کے آغاز پر انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طویل بلیک آؤٹ کے دوران ایرانی شہری زیادہ تر صرف ملکی پلیٹ فارمز اور ملک کے اندرونی انٹرانیٹ پر موجود ویب سائٹس تک محدود رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ہفتوں میں ایران نے ایک درجہ بند انٹرنیٹ نظام متعارف کرایا ہے جسے ”پرو انٹرنیٹ“ کا نام دیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس نظام کے تحت مخصوص پیشہ ور طبقوں کو زیادہ فیس کے عوض نسبتاً وسیع انٹرنیٹ رسائی دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;5 اپریل تک انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس نے کہا کہ جنگ کے آغاز کے بعد نافذ کیا گیا یہ شٹ ڈاؤن دنیا کی تاریخ میں کسی بھی ملک میں ہونے والا طویل ترین ملکی سطح کا انٹرنیٹ بلیک آؤٹ تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی عدلیہ نے منگل کے روز اُس صدارتی ادارے کو معطل کر دیا جس نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد کئی ماہ سے جاری تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے خاتمے اور انٹرنیٹ تک رسائی کی بحالی کا حکم دیا تھا۔</strong></p>
<p>عدلیہ کے ماتحت مِیزان آن لائن ویب سائٹ کے مطابق اس ادارے کی معطلی کا فیصلہ ”درخواستوں/شکایات دائر ہونے“ کے بعد کیا گیا، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ شکایات کس نے جمع کرائی تھیں۔</p>
<p>یہ اقدام اسپیشل ہیڈکوارٹر فار آرگنائزنگ اینڈ گورننگ دی کنٹریز سائبر اسپیس کے خلاف کیا گیا ہے، جو 12 مئی کو صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے تشکیل دیا گیا تھا۔</p>
<p>حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق یہ ادارہ پیر کے روز ایران میں ”انٹرنیٹ کی بحالی“ کا فیصلہ کر چکا تھا، جبکہ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر مسعود پیزشکیان نے اس اقدام کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>تاہم ایران کی اعلیٰ ترین سکیورٹی اتھارٹی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، ملک میں انٹرنیٹ کی بحالی کا حتمی اختیار رکھتی ہے۔</p>
<p>ایرانی حکام نے سب سے پہلے وسیع پیمانے پر انٹرنیٹ پابندیاں اس وقت عائد کی تھیں جب جنوری کے آغاز میں حکومت مخالف بڑے مظاہرے شدت اختیار کر گئے تھے، اور بعد ازاں 28 فروری کو جنگ کے آغاز پر انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>اس طویل بلیک آؤٹ کے دوران ایرانی شہری زیادہ تر صرف ملکی پلیٹ فارمز اور ملک کے اندرونی انٹرانیٹ پر موجود ویب سائٹس تک محدود رہے۔</p>
<p>گزشتہ چند ہفتوں میں ایران نے ایک درجہ بند انٹرنیٹ نظام متعارف کرایا ہے جسے ”پرو انٹرنیٹ“ کا نام دیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس نظام کے تحت مخصوص پیشہ ور طبقوں کو زیادہ فیس کے عوض نسبتاً وسیع انٹرنیٹ رسائی دی گئی ہے۔</p>
<p>5 اپریل تک انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس نے کہا کہ جنگ کے آغاز کے بعد نافذ کیا گیا یہ شٹ ڈاؤن دنیا کی تاریخ میں کسی بھی ملک میں ہونے والا طویل ترین ملکی سطح کا انٹرنیٹ بلیک آؤٹ تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286766</guid>
      <pubDate>Tue, 26 May 2026 18:36:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/26183015c7c3153.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/26183015c7c3153.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
