<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:18:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 16:18:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امن مذاکرات اور منجمد فنڈز کا معاملہ : ایرانی حکام کی قطر آمد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286737/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے  اے ایف پی  کو بتایا ہے کہ اعلیٰ ترین مذاکرات کار اور مرکزی بینک کے سربراہ پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد پیر کو دوحہ پہنچا ہے، جہاں وہ امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے اور اپنے منجمد فنڈز کی واگزاری پر گفتگو کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے حساس معاملے پر گفتگو کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی تنازع کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت کے لیے آج دوحہ پہنچے ہیں۔ ذریعے نے مزید بتایا کہ اس دورے کا محور آبنائے ہرمز اور اعلیٰ افزودہ یورینیم سے متعلق امور ہوں گے۔ وفد میں مرکزی بینک کے گورنر بھی شامل ہیں جو منجمد فنڈز کے معاملے پر بات چیت کریں گے، جو کہ حتمی ممکنہ معاہدے کے حصے کے طور پر مفاہمت کی یادداشت  میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دورہ سفارتی عمل کے ایک حصے کے طور پر ہو رہا ہے۔ تسنیم اور فارس نیوز ایجنسیوں سمیت ایران کے دیگر میڈیا نے بتایا کہ وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارس نیوز ایجنسی کے مطابق واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے بدلے، بین الاقوامی پابندیوں کے تحت بیرونِ ملک منجمد تہران کے فنڈز کا ایک حصہ واگزار کرنے اور ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یاد رہے کہ 2023 میں ایران کی جانب سے حراست میں لیے گئے پانچ امریکی شہریوں کی رہائی کے عوض جنوبی کوریا کے بینکوں سے ایرانی منجمد فنڈز کے 6 ارب ڈالر قطر منتقل کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اب تک امریکہ اور ایران کے مابین امن مذاکرات میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ 8 اپریل سے نافذ العمل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے جاری ان مذاکرات کا مقصد جنگ کا جامع خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں قطر، جس نے ماضی میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی ہے، مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے سفارت کاری کو فروغ دینے کے لیے امریکہ میں اعلیٰ امریکی سفارت کار مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقاتیں کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے قطر سمیت خلیجی ممالک پر میزائلوں اور ڈرونز کی بوچھاڑ کر دی تھی۔ آبنائے ہرمز جہاں سے عام طور پر دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے کی ناکہ بندی نے توانائی سے مالا مال خلیجی ممالک کے لیے اہم بحری برآمدات بشمول قطر کی ایل این جی  برآمدات کو روک دیا ہے، جس سے ان کی معیشتوں پر شدید دباؤ پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے  اے ایف پی  کو بتایا ہے کہ اعلیٰ ترین مذاکرات کار اور مرکزی بینک کے سربراہ پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد پیر کو دوحہ پہنچا ہے، جہاں وہ امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے اور اپنے منجمد فنڈز کی واگزاری پر گفتگو کرے گا۔</strong></p>
<p>ذرائع نے حساس معاملے پر گفتگو کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی تنازع کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت کے لیے آج دوحہ پہنچے ہیں۔ ذریعے نے مزید بتایا کہ اس دورے کا محور آبنائے ہرمز اور اعلیٰ افزودہ یورینیم سے متعلق امور ہوں گے۔ وفد میں مرکزی بینک کے گورنر بھی شامل ہیں جو منجمد فنڈز کے معاملے پر بات چیت کریں گے، جو کہ حتمی ممکنہ معاہدے کے حصے کے طور پر مفاہمت کی یادداشت  میں شامل ہے۔</p>
<p>ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دورہ سفارتی عمل کے ایک حصے کے طور پر ہو رہا ہے۔ تسنیم اور فارس نیوز ایجنسیوں سمیت ایران کے دیگر میڈیا نے بتایا کہ وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی بھی شامل ہیں۔</p>
<p>فارس نیوز ایجنسی کے مطابق واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے بدلے، بین الاقوامی پابندیوں کے تحت بیرونِ ملک منجمد تہران کے فنڈز کا ایک حصہ واگزار کرنے اور ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یاد رہے کہ 2023 میں ایران کی جانب سے حراست میں لیے گئے پانچ امریکی شہریوں کی رہائی کے عوض جنوبی کوریا کے بینکوں سے ایرانی منجمد فنڈز کے 6 ارب ڈالر قطر منتقل کیے گئے تھے۔</p>
<p>پاکستان اب تک امریکہ اور ایران کے مابین امن مذاکرات میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ 8 اپریل سے نافذ العمل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے جاری ان مذاکرات کا مقصد جنگ کا جامع خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں قطر، جس نے ماضی میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی ہے، مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے سفارت کاری کو فروغ دینے کے لیے امریکہ میں اعلیٰ امریکی سفارت کار مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقاتیں کی تھیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے قطر سمیت خلیجی ممالک پر میزائلوں اور ڈرونز کی بوچھاڑ کر دی تھی۔ آبنائے ہرمز جہاں سے عام طور پر دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے کی ناکہ بندی نے توانائی سے مالا مال خلیجی ممالک کے لیے اہم بحری برآمدات بشمول قطر کی ایل این جی  برآمدات کو روک دیا ہے، جس سے ان کی معیشتوں پر شدید دباؤ پڑا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286737</guid>
      <pubDate>Mon, 25 May 2026 19:58:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/25195234dd38909.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/25195234dd38909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
